مصروف عورت ۔۔۔ خالدہ حسین

مصروف عورت

خالدہ حسین
میں ایک مصروف عورت ہوں!

اب میں آپ سے درخواست کروں گی کہ یہ لفظ (عورت) قوسین میں کردیجیے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے صرف ایک مصروف وجود سمجھا جائے۔ چلیے اصولی طور پر نہیں تو صرف چند لمحوں کے لیے۔ ضرورتاً ۔ عاریتاً۔ صرف اس کہانی کے لیے۔

تو میں ایک مصروف عورت ہوں۔ یہ مجھے بار بار اس لیے نہیں کہنا پڑ رہا کہ خود مجھے اس حقیقت پر کسی قسم کا شک ہے۔ دراصل کبھی میں نے کہیں تھوڑی سی منطق پڑھ لی تھی۔ چنانچہ اب تک میری ہر بات خود بخود تین بیانات میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اور اس کے ذریعے میں کسی بھی قولِ محال کو نہایت آسانی سے ثابت کر سکتی ہوں۔ یوں کہ وقتی طور پر آپ اس کے سحر سے اپنے آپ کو آزاد نہیں کر سکتے۔ اس لمحے میں آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی میری بات پر یقین کرنا پڑے گا۔ گو بعد میں آپ لاکھ مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ دراصل شروع ہی سے مجھے یہ تربیت دی گئی تھی۔ پہلے ایک بات کو ثابت کرو پھر اس کو رد کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک میرا وجود ہونے نہ ہونے کی درمیانی سطح میں لٹکا ہے۔ میرے پیر و مرشد نے کہا تھا کہ جو شے تمہارے لیے چھت ہے کسی اور کے لے فرش ہو سکتی ہے۔ تو پھر تم چھت اور فرش، زمین اور آسمان کی بلندی اور پستی کا تعین کس طرح کروگے۔ خواب اور بیداری کا فیصلہ کیوں کر ہوگا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اب ہم حالتِ خواب میں ہیں۔ مریں گے تو بیدار ہو جائیں گے۔

بات چھت اور فرش کی ہو رہی تھی۔ میں نے دو الٹا لٹکنے والوں کے بارے میں بہت غور و خوض کیا ہے۔ چمگادڑ ایسی بے کار، بے مصرف، کمترین ہستی، اشاروں ہی اشاروں میں ہماری سمتیں سیدھی کرتی رہتی ہے۔ اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتی ہے۔ وہ تو صرف سمتوں کے امکانات واضح کرتی ہے، اور امکانات تو ختم ہونے والی شے نہیں۔ دوسرے وہ بتیال کا بھوت ہے کہ کوئی کہانی میں ٹوک دے تو فوراً ہی درخت سے الٹا جا لٹکتا ہے، پھر آپ اس کو لاکھ پکڑ پکڑ کے جھولے میں ڈالیں، قابو نہیں آتا۔

تو میں نے ان دونوں الٹا لٹکنے والوں کے بارے میں بہت تفکر کیا۔ ان کے نزدیک ان کی الٹی حالت ہی دراصل سیدھی حالت ہے۔ اور یقیناً اس حال میں وہ بہترین سوچ سوچتے ہیں۔ بتیال کی تمام کہانیاں اسی الٹی حالت میں اس کے ذہن میں جنم لیتی ہیں جنہیں سیدھا ہونے پر وہ سنا ڈالتا ہے مگر اگلی کہانی کے لیے اسے پھر الٹا لٹکنا پڑتا ہے۔ یہ محض اس کا فریب ہے کہ وہ سننے والے کے ٹوکنے پر ناراض ہوکر الٹا جا لٹکتا ہے۔ دراصل وہ اسی فکر میں ہوتا ہے کہ کہانی تو اختتام پر آئی, اب نئی کہانی کہاں سے آئے گی؟ اسے اپنا آپ خالی۔۔۔ بالکل خالی محسوس ہوتا ہے اور ایک تخلیقی وقفے کے لیے وہ کوئی ایسی انہونی بات کہانی میں ڈالتا ہے کہ سننے والا بےچارہ بول اٹھتا ہے اور وہ موقع غنیمت پاکر اگلی کہانی کی فکرمیں درخت سے الٹا جا لٹکتا ہے۔

دراصل بے حد مصروف ہستیوں کے لیے کام کے درمیانی وقفے سب سے زیادہ گمبھیر ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے تخلیق کاروں کے یہاں آپ کو ریاضت کے ایسے دور نظر آئیں گے۔ ایک مفروضہ ثابت کرتے ہی انہیں جب یہ احساس آن لیتا ہے کہ اب اس کے امکانات ختم ہوئے تو وہ نئے امکانات کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ اس تلاش سے پلٹ نہیں پاتے اور بے انتہا مصروف ہو جاتے ہیں۔ اپنی اصلی، فطری حالت میں مصروف۔ تو میں ایک مصروف وجود ہوں۔ مجھے بے حد ضروری کام کرنا ہیں۔ ان کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ختم ہونے میں نہ آئے گی۔ ایک بار میں نے ان کی فہرست بنانےکی کوشش بھی کی تھی مگر پھر مجھ پر اس کوشش کے عبث ہونے کی حقیقت کھل گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر لمحے میں ایک نیا وجود ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایک سے دوسرے تک عمر ایک لمحے بڑھ چکی ہوتی ہے اور بہت سےخلیوں کی توڑ پھوڑ ہمارے جسم کے اندر اور بہت سے تجربات کی ترسیم ہمارے باطن میں ہوچکنے پر ہم وہی نہیں رہتے جو پہلے تھے اور اسی لیے ہر لمحہ ہمارے لیے ایک نیا وجود ہے۔ ہر وقت ہماری نوعیت بدلتی رہتی ہے۔

گھبرائیے نہیں۔ میں نے کوئی غلط بات ثابت نہیں کی۔ اگر آپ کو کچھ شبہ ہے تو فی الحال ملتوی کیجیے۔ میں تو محض یہ بتا رہی تھی کہ مصروف آدمی کی مصروفیات کی فہرست مرتب کرنا بالکل ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے یہ طریق کار اپنایا کہ جو کام بھی سامنے آئے اس کو نمٹاتے چلے جاؤ۔ یہی وجہ ہے کہ اب میرے کام خودبخود نہایت آسانی سےہوتے چلے جاتے ہیں بلکہ سب لوگ میری اس کارکردگی پر حیران رہ جاتے ہیں۔ گو میرا پہلا اصول تو یہی ہے کہ ہر کام بغیر کسی ترتیب کے بنا سوچے سمجھے نمٹاتے چلے جاؤ۔ مگر اس کے لیے بھی ایک حربہ مجھے بہرحال اختیار کرنا ہی پڑتا ہے۔ کیونکہ قدم قدم پر مجھے اپنی ذات کے حوالے بدلنے پڑتے ہیں۔

میرے گھر میں ایک خاموش تاریک کمرہ ہے۔ اس کی دیواروں میں نیچے سے اوپر تک طاق بنے ہیں۔ اور ان سب میں وہ چہرے دھرے ہیں جنہیں میں ایک ایک کر کے پہنتی ہوں۔ دن کے مختلف حصوں میں اپنے کام نمٹاتی چلی جاتی ہوں۔ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ ہر کام کے لیے مجھے مناسب ’’پرسونا‘‘ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ بس میں ایک کے بعد ایک پرسونا پہن کر تمام کام کرتی چلی جاتی ہوں۔ کسی فلم کے فاسٹ موشن کی طرح۔ آپ پوچھیں گے آخر ان کاموں کے نمٹانے میں ایسی عجلت کیوں؟

تو اب میں اپنے اصل مسئلہ کی طرف آچکی ہوں۔ دراصل میں انتہائی عجلت میں ہوں۔ آج سے نہیں۔ ازل سے۔۔۔ پہلی سانس سے میں بہت عجلت میں ہوں۔ اس کام کی خاطر جو دراصل مجھے کرنا ہے۔ اسی لیے مجھے ہر کام عجلت میں کرنا پڑتا ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ پہلے تم وہ ضروری کام کیوں نہیں کرتیں۔ دیکھا آپ نے کیسی غیر منطقی بات کی۔ دراصل وہ کام تو میرا اصل وجود نمٹائے گا جس کے لیے فی الحال میرے پاس کوئی پرسونا موجود نہیں۔ یہ تو وہی واحد کام ہے جس کے لیے کسی پرسونا کی نہیں خود پورے وجود کی ضرورت ہے۔ اسی لیے اس کے راستے میں حائل ہونے والے ان تمام چھوٹے موٹے کاموں کو اتنی تیزی سے نمٹاتی ہوں۔ یہ تو دراصل جنگل کے خود رو جھاڑ ہیں جنہیں صاف کرکے مجھے اس کام تک پہنچنا ہے۔ وہ جو اس جنگل کے آخری سرے پر ہے۔ کہیں زمین آسمان کی ملتی لکیر کے آس پاس۔

ایک تو میں بے حد بھلکڑ واقع ہوئی ہوں۔ اکثر چیزیں رکھ کے بھول جاتی ہوں۔ ایک وقت تھا جب میں اپنے یاد رکھنے کی عادت سے عاجز تھی۔ ہر بات، ہرلمحہ، ہر دم ذہن میں زندہ رہتا۔ ایک مسلسل شور جو میرے گرد آندھی کی طرح چلتا رہتا۔ آوازوں کا ہجوم جو دن رات، ایک بھنبھناہٹ کی طرح کانوں میں سناتا۔ نیند میں بھی بیداری کا عالم رہتا۔ میں تو گویا کسی لائبریری کا کٹیا لاگ تھی کہ ہر بات، ہر سانحہ، ہر لمحہ، نمبردار، فہرست وار محفوظ تھا۔ کسی کو بھی کسی وقت طلب کرلیجیے۔ اور وقت کا یوں اپنی ذات میں محفوظ رہ جانا بھی بہت خطرے کی بات ہے۔ اس کی ہیبت سے جو کوئی بھی دوچار ہوتا ہے، اس سے گزرا ہوا، آنے والا اور موجود زمانہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔ انسان فیصلہ نہیں کر پاتا کہ وہ کہاں ہے۔ اور اس کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور کارکردگی کو تو کسی صورت متاثر نہ ہونا چاہیے۔

تب میں پرسونا کے استعمال سے واقف نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا کوئی بھی کام وقت پر اور صحیح نہ ہوتا تھا۔ کیونکہ ہر کام کے دوران مجھے کچھ اور کرنا چاہیے تھا۔ چنانچہ میں دوسرے کام کی جانب لپکتی مگر آدھا کرچکنےکے بعد پتہ چلتا کہ ضروری کام تو پڑا ہی رہ گیا۔ تمام دن ایک سے دوسرے، دوسرے سے پہلے کام کی طرف لپکتے گزرتا۔ برسوں پہلے نفسیات کے استاد ہمیں ذہنی امراض کے ہسپتال لے گئے تھے۔ وہاں پر چاروں طرف سے بند کوٹھری میں ایک عورت چکر لگا رہی تھی۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ تیزی سے چلتی، ایک سے دوسری، دوسری سے پہلی دیوار تک۔ ہم نے یہ منظر لوہے کی سلاخوں والی کھڑکی سے دیکھا تھا۔ وہ عورت تمام وقت اسی طرح چکر کاٹتی تھی جب تک کہ نڈھال ہوکر گر نہ جاتی۔ وہ پندرہ سال سے اس کو ٹھری میں مقید تھی!

مگر میں نے بروقت پرسونا دریافت کیا۔ اب میرا دن مختلف حصوں میں بٹ گیا تھا اور وقت تیزی سے گزرتا۔ کام تیزی سے سمٹتے۔ یہاں تک کہ رات آن پہنچتی۔ رات جو الٹا لٹکنے والوں کے لیے دن ہے۔ اور اس رات کے لیے میرے پاس ابھی تک کوئی پرسونا تیار نہ تھا۔ نیند سے پہلے کے ان چند لمحوں میں، میں اپنی کوٹھری کے طاقوں کو الٹ پلٹ کرتی۔ اپنا ننگا چہرہ چھپانے کے لیے مجھے کچھ بھی نہ ملتا۔ اس ننگے چہرے کا کوئی حوالہ میرے پاس موجود نہ تھا۔ بجز اس ایک کام کے۔ وہ ازلی و ابدی کام جس کی خاطر میں یہ راستے میں آنے والے تمام چھوٹے موٹے کاموں کا جنگل کاٹتی چلی آتی ہوں۔ مگر یہ جنگل عجب ہے کہ رات تک صاف کرکے سوؤ تو صبح پھر ایک نیا، اس سے دگنا گھنا سامنے تیار کھڑا ہوتا ہے۔

اب میں ایک حالت میں دوسری حالت کو فراموش کردینے کی ماہر ہوچکی تھی اور یہی میری سب سے بڑی مصروفیت تھی۔ حالتوں کی تبدیلی۔ ایک سےدوسری میں منتقل ہونا اور پہلی کو فراموش ذہن سے یکسر مٹادینا۔ شروع شروع میں بھلا دینے کی صلاحیت اور اس کی کامیابی پر میں حیران رہ گئی۔ میرے سر میں ابلتا لاوا یکدم پرسکون اور ٹھنڈا ہوگیا۔ کانوں میں سنسناتی بھنبھناہٹ مدھم پڑھ گئی۔ ہاتھوں، پاؤں، بازوؤں اور گردن میں عجلت کی کیفیت، اس کی تھکن، سانس کی تیزی سینے کی دھم دھم سب ختم ہوگئی۔ پھر بھول کی ایک نرم چادر میرے گرد لپٹتی چلی گئی۔ روئی کے گالوں ایسی چادر جس نے مجھے بے وزن کردیا۔

’’بیگم صاحبہ۔ بس ذرا سا سوچ لیجیے کہ خوف محض ایک لفظ ہے!‘‘ یہی وہ لفظ تھے جو ڈاکٹر نے مجھے میز پر لٹانے کے بعد کہے تھے۔ بھول کی جادونگری میں وہ میرا پہلا قدم تھا۔ رفتہ رفتہ ہر شےمجھ سے دور سرکنے لگی۔ چیزیں ۔نام۔ لوگ۔ کبھی مجھے اپنے کانوں پر شک ہونے لگتا۔ اب مدتوں مدتوں کوئی ایسی آواز نہ آتی جو مجھے چونکا سکتی۔ نہ ہی میرے قدم زمین کی سختی سے مس ہوتے۔ وہ میرے رفیق خدشے، خوف، مسلسل تشویش۔ وہ سب کیا ہوئے؟

میرے طاقوں میں سے رفتہ رفتہ وہ چہرے غائب ہونے لگے اور وہاں دھول جمنے لگی۔ اپنے خالی طاق دیکھ کر مجھے خیال آیا۔۔۔ تو کیا وہ وقت آن پہنچا؟ کیا میں نےواقعی اس جنگل کو پار کر لیا؟ اور اب بالاخر وہ میرے سامنے ہوگا۔ وہ کام جو دراصل مجھے کرنا تھا۔اب صبح ہوئے پر وہ جنگل دگنا گھنا ہو کر سامنے کھڑا نہ ہوتا۔

’’قدرت اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے خود بخود راستے پیدا کرتی ہے۔‘‘ اب کے ڈاکٹر مجھ پر جھکا کہہ رہا تھا، ’’اس میں انسان کو خود ذرا سی بھی کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ گاہ برذرمی کشد!‘‘ اس نے آسیبی ہنسی کے ساتھ کہا۔

’’بس اب دولمبے گہرے سانس۔‘‘

اچانک سامنے کھڑکی میں سورج کا پورا تھال چمکتا میری جانب جھکنے لگا اور ایک طویل وقفہ سامنے پھیلا تھا۔

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2021
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: