بیس روپے ۔۔۔ شمع اختر انصاری

بیس روپے

شمع اختر انصاری

ایک سفید سی روشنی کی لہر لپکی اور میری آنکھیں چندھیا گئیں ۔ہر طرف دودھیا روشنی پھیلی تھی ۔ مجھے محسوس ہورہاتھا جیسے میں سفید سفید بادلوں پر سوار ہوں اوروہ سفید بادل کسی طلسمی قالین کی طرح مجھے میری مرضی سے اڑائے لیئے پھر رہے ہوں ، کتنی ہی دیر میں ان بادلوں پر سوار اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر کی جانب سفر کرتی رہی ۔ کبھی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کی جانب اڑتی رہی ۔۔ میں جب چاہتی یہ بادل ہال کی بلند چھت تک چلے جاتے اور میں اونچی دیوار گیر الماری سے کوئی بھی کتاب اٹھا کر سینے سے لگا لیتی۔جب چاہتی کسی غوطہ خور کی مانند تیزی کے ساتھ نیچے چلی آتی کوئی دوسری کتاب کھولتی اور آنکھ بند کر کےاس کے پرانے صفحات کی خوشبو سانسوں میں بسانے کی کوشش کرتی ۔ دائیں جانب اڑتی وہاں سے نئے سرورق والی کتاب اٹھاتی اور اس کے اندر موجود پیلے اوراق دیکھ کر دل ہی دل میں ماتم کر تی ۔بائیں جانب مڑتی اور کوئی تیسری کتاب اٹھاتی اور اس میں دو دو سینٹی میٹر کی نقرئی مچھلیوں کو یہاں سے وہاں تیرتے دیکھتی رہتی۔ ایک سحر تھا جس نے مجھے گردوپیش سے بے خبر کردیاتھا۔یہاں ہر طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں ۔ چھوٹی تقطیع کی کتابیں ، بڑی تقطیع کی، درمیانی تقطیع کی ، پتلی کتابیں ، ضخیم کتابیں ۔۔۔۔کتابیں ہی کتابیں ۔۔

یہ کتابیں فارسی کی تھیں یا فرانسیسی کی ، ان میں خوش حال خان خٹک تھا یا کیٹس ، پاولو کوہلو تھا یا رابندر ناتھ ٹیگور ۔۔۔۔۔ مجھے کوئی غرض نہ تھی۔ جانتی تھی تو بس اتنا کہ کتابوں کا اتنا بڑا خزانہ میں نے کبھی نہ دیکھاتھا ۔ انگریزوں کے زمانے کی بنی اس عمارت میں یہ ایک بہت وسیع اور عریض ہال تھا جس کی چھت بہت بلند تھی اور چاروں دیواروں میں دروازوں کی قید سے آزاد بہت ہی چوڑی چوڑی الماریاں بنی تھیں ۔ جن میں کتابیں ہی کتابیں بھری تھیں ۔ اونچی جگہوں کی کتابیں سلیقے سے کھڑی تھیں جب کہ نچلی جگہوں پر بے ترتیبی سے ٹھنسی تھیں ۔مگر سب گردوغبار سے آلودہ تھیں جیسے برسوں سےکسی نے اس طرف دیکھا بھی نہ ہو۔

” آپو !،آپو! ۔۔۔۔یہ فارم بھر دیں .” میری بارہ سالہ چچازاد کی آواز مجھے اس سحر سے نکال لائی ۔ میں نے فارم بھر کر استقبالیہ پر کھڑی لڑکی کو تھمایا اور اس بار ہوش کے ساتھ جائزہ لینے لگی ۔

ابھی گھنٹہ بھر پہلے ہی رابعہ” آپو, آپو “چلاتی ہوئی میرے گھر میں داخل ہوئی تھی۔ ” کیا مصیبت ہے پھوہڑ عورت ، مجھے کام چور لوگ سخت ناپسند ہیں، تمہیں میرے گھر آنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں؟” میں نے اسے جھڑکا۔عمرمیں ڈیڑھ دہائی کا فرق ہونے کے باوجود ہم دونوں نہ ایک دوسرے کے بغیر رہ سکتے تھے نہ ایک دوسرے سے لڑے بغیر ہمیں چین آتا تھا ۔

” نہ میں پھوہڑ ، نہ ہی عورت ؛ نہ ہی کام چور”ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے اس نے میرے آگے رکھے آدھے پراٹھے میں آملیٹ لپیٹا اور ادھوری چائے کا کپ اٹھالیا۔

” یہ ، یہ کیا ؟ میں نے غصے سے چلاکو کو دیکھا۔

” دیکھا کتنی جلدی آپ کا کام ختم کردیا ،لیے بیٹھی رہتیں گھنٹہ بھر ندیدوں کی طرح” رابعہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

کتنے دن بعد آملیٹ اور پراٹھے کاخواب پورا ہوا تھا ، انڈا تیس روپے کاہوگیاتھا اور گھی چھ سو روپے کلو ۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی واحد عیاشی پیٹ بھر کھانا ہوتا ہے ۔ اس سے اگلا قدم پسند کاکھانا ۔۔۔جو بمشکل ملتا ہے اور کتنے دن بعد ملنے والا آملیٹ ، پراٹھا میری جانی دشمن کے ہاتھوں میں تھا۔

میں خالی برتن اٹھاکر باورچی خانے میں پہنچی تو وہ میرا عبایہ ہاتھ میں لیے پیچھے ہی چلی آئی ” آپو ، میرے ساتھ چلیں ، بلدیہ آفس میں کمپیوٹر سینٹر کھلا ہے ، مجھے ایم ایس ورڈ سیکھنا ہے،بہت کم فیس ہے ، میرا داخلہ کروادیں پلیز” درجہ ہفتم کی اس ذہین طالبہ نے لجاجت سے کہا اور اب ہم دونوں بہنیں یہاں موجود تھے ۔

بلدیہ آفس کے بے شمار کمروں میں سے اس ہال میں ایک جانب انگلش لینگویج کورس کی کلاس جاری تھی جب کہ دوتہائی حصے کو کمپیوٹر سینٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تین رویہ میزوں پر ڈیسک ٹاپ دھرے تھے اور قریباً پچاس لڑکیاں ان پر جھکی ہوئی تھیں ۔کچھ کے ہاتھ کی بورڈ پر متحرک تھے ، کوئی ماؤس سے الجھ رہی تھی ، چند ایک اپنے جرنلز میں لگی تھیں ۔کتابوں کے اتنے” عظیم خزانے” کی جانب کسی کی توجہ بھی نہیں تھی ۔ میرا دل اس ناقدری پر بہت افسردہ ہوا ۔کیا صرف میں ہی ان کتابوں کی اہمیت جانتی تھی یا یہ میری نارسائی کا کرب تھا جو مجھے بےچین کیے دیتا تھا۔

میری نارسائی ہی تھی جوان کتابوں کی بے قدری پر تڑپ اٹھی تھی ۔سارا دن میں ان کتابوں کے حصار میں رہی ۔ ساری رات میرے خوابوں میں کتابیں ہی آتی رہیں ۔ جب سے حروف کی شناخت شروع ہوئی مجھے الفاظ سے عشق ہوگیا تھا۔ کتابوں تک رسائی ناممکن تھی میں اپنا شوق ” زیرے ” کی پڑیا اور دال چاول کے اخباری لفافوں سے پورا کرتی رہی ۔جن میں کٹے ہوئے کالم ، آدھی کہا نیاں ، ادھورے قصے میرے لفظی ذوق کی پیاس بجھاتے ۔میری معلومات کو کوئی نیا نکتہ مل جاتا اور یادداشت کو کوئی خوبصورت لفظ۔ ابا میرے شوق کی تسلی کے لیئے کبھی کبھار کوئی پرانی کتاب لے آتے جیسے “سو موجد ، سو ایجادیں “اور ہم دونوں مل کر گلیلیو گلیلی کا تلفظ کرتے۔ کتاب کاموضوع اور مصنف ابا کی” مہین “جیب سے طے ہوتا تھا ۔ یہ عیاشی بھی کبھی کبھار کی تھی کہ میرے شوق کو آسودگی مل گئی ۔ میرا کالج میں داخلہ ہوگیا تھا ،کالج کی بیس بائیس آہنی الماریوں والی لائبریری ۔۔۔۔۔۔جس کے شیشوں میں مقید کتابیں مجھے اپنی طرف کسی طاقتور چقمق کی طرح کھینچتیں اور میں لوہے کی کسی معمولی پن کی طرح ان الماریوں سے جا چپکتی ۔ پہلی بار ہی ” شہاب نامہ ” اور ” نقوش” کاسیرت نمبر جاری کروایا تھا ۔ میرا شوق اور ذوق دیکھتے ہوئے لابریرین ” مس پروین ” مجھے چھٹی کے دنوں کے قریب تین چار کتب دے دیا کرتی تھیں ۔چار سالہ دور میں، میں نے کبھی درسی کتب نہ پڑھی تھیں ۔

آج۔۔۔۔۔میری آنکھوں کا چندھیاجانا لازم تھا ۔ کتابوں کا اتنا بڑا خزانہ ۔۔۔۔۔اور میرے اتنے قریب ۔

سارا دن سوچتی رہی اوراگلے دن میں سینٹر کے منتظم ناصر خان کے سامنے تھی۔

” سر !مجھے لائبریری کی رکنیت درکار ہے” میں نے مدعا بیان کیا۔

” بی بی ! لائبریری تو کب کی متروک ہوچکی ، اب یہاں کوئی لائبریرین ، کوئی خیال رکھنے والا نہیں ہے ” بھوری آنکھوں والے سر ناصر خان نے متانت سے جواب دیا.

” مگر سر! مجھے کتابیں پڑھنی ہیں ۔میں زری ضمانت دے سکتی ہوں” پرس میں سے بمشکل جمع کیے ہوئے پانچ سو روپے نکالے۔

شناختی کارڈ جمع کروادوں اصل ؟ میں نے اپنا شناختی کارڈ بھی سر کے سامنے میز پر رکھا ۔

” شخصی ضمانت ؟کاونسلر سمیع صاحب ہیں نا ،میرے ابو واقف ہیں ان سے ، ان کی ضمانت چلے گی؟ میں نے اپنی ساری کوششیں کر ڈالیں ۔

“آپ دیکھ لیجیے ، جو کتاب لینا چاہیں ، میرے پاس لے آیئے” ناصر خان صاحب نے میری بے قراری دیکھتے ہوئے اجازت دے ڈالی ۔

مجھے یوں لگا جیسے کسی نے ” کھل جا سم سم ” کہہ دیا ہو۔

” سر یہ “میں نے دو گرد آلود کتابوں کو جھاڑتے ہوئے سر کے سامنے رکھ دیا ۔

“ہنممم۔۔۔ حاصل اور واپسی کا اندراج کرواتی رہیئے گا” سر نے ایک پرانے رجسٹر کے آخری صفحے پر خصوصاً میرے لیئے عارضی کالمز بناتے ہوئے شناختی کارڈ کی تفصیل ، کتابوں کے نام اور تاریخ اجراء لکھتے ہوئے ہدایت کی ۔

اس دن میری خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ یوں سلسلہ چل نکلا ۔ ہفتے میں دو کتاب کے حساب سے جانے کتنی کتابیں پڑھ ڈالیں ۔ افسوس تھا تو اس بات کا کہ وہاں آنے جانے والے اگرچہ طلباء تھے لیکن اس انتہائی قیمتی خزانے سے بے خبر تھے ۔

ابھی کتابوں کی دو الماریاں بھی پوری نہ ہوئی تھیں کہ رمضان آگیا اور پھر عید ۔ دادی اماں بیمار ہو کر راہی عدم ہوئیں اور کتنے ماہ ایسے مصروفیت میں گذرے کہ اس متروک خزانے کی جانب جانا ہی نہ ہوسکا ۔

ایک دن بے وقت ” ابا” ایک بوری سر پر اٹھائے گھر میں داخل ہوئے ۔ ساتھ کوئی اور بھی تھا دوسری بوری ، تیسری ۔۔۔۔۔ چوتھی ۔۔۔اور پانچویں ۔ابا نے پانچ بوریاں گھر میں رکھوائیں اور مجھ سے کہا ” یہ دیکھ لو ، کتابیں ہیں ،جو تمہارے کام کی ہوں رکھ لینا”

” کتابیں اور اتنی ساری ۔۔” میں نے سرعت کے ساتھ جائزہ لینا شروع کیا ۔

” ابا !یہ قانون کی کتاب ہے۔۔اس کی قیمت پانچ ہزار لکھی ہے ، اب تو اور بھی مہنگی ہوگئی ہوگی ” میری آنکھیں پھیل گئیں ۔” اور یہ ۔۔۔۔ یہ تو انجیل کے نسخے ہیں ، ابا یہ بھی؟ ” میرے دل پر گھونسہ لگا ۔

” ابا یہ تو انیس سو باسٹھ(1962) کارسالہ ہے آپ کے بچپن کا ۔ اب تو چھپتا بھی نہ ہوگا ۔”

میں تیزی سے کتابیں الگ کرتی گئی ۔ ابا بھی کتابوں کا جائزہ لے رہے تھے اور میری طرح موضوعات کے مطابق کتب کو الگ الگ کررہے تھے ۔

” ابا!…..ابا یہ تو سورہ یوسف کی تفسیر ہے ،یہ ۔۔یہ دیکھیں انیس سو بیس(1920) کی شائع شدہ ۔۔

ابا! مفسر نے اپنے سفر حج کے دوران لکھی یہ کتاب ۔۔سو سال سے زیادہ پرانی۔۔۔۔” میرے استعجاب کی انتہا نہ رہی ۔

” ہنممم ، ” ابامیری خوشی میں خوش.. میرے ہاتھ سے کتاب لے کر دیکھنے لگے ۔

” ابا !کہاں سے لائے ہیں یہ کتابیں ؟ میں نے حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں سوال کیا۔

” بلدیہ آفس کی لائبریری ختم کی گئی ہے ، بڑے ٹھیکے داراپنی مرضی کی کتابیں مہنگے داموں لے گئے ہیں ، پچاس روپے سیر کے حساب سے ” ابانے تاسف سے کہا۔

” پچاس۔۔۔۔۔پچاس روپے ۔۔۔۔۔۔۔” میرے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی .

“ابا، میری کمیٹی آئی ہے بیس ہزار کی ، آپ پلیز مجھےسارے پیسوں کی کتابیں لا دیں ” میں نے تین سال کی پونجی داؤ پر لگائی۔

” یہ تو آخری آخری کتابیں تھیں جو بہت سستے داموں بیچی گئیں ،ٹھیلے والا لے کر جارہا تھا اس سے لی ہیں بیس روپے سیر” ابا نے آنسو چھپانے کے لیئے رخ موڑ لیا۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2024
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930