ہم کوئی ایسا جرم کریں ۔۔۔ خوش بخت بانو

ہم کوئی ایسا جرم کریں

خوش بخت بانو

ہم کوئی ایسا جرم کریں

کہ لوگ ہمیں کسی تاریک کوٹھڑی میں بند کردیں اور کبھی پلٹ کر ہماری خبر نہ لیں

تاکہ ہم لوگوں کی بے خبری سے فائدہ اٹھا سکیں

ہمیں صدیوں پرانی جیل میں بند کر دیا جائے

جہاں ظالم بادشاہ اپنے خلاف سازش کرنے والوں کو بند کیا کرتے تھے

یا ان بزدل لوگوں کو جو زمین کا ذرا سا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے انسانی خون بہانے کے خلاف تھے

ہم وہاں دفن آوازوں کو اپنی سماعت کا تحفہ دیں

ہم کوئی ایسا جرم کریں جس کی پاداش میں

دونوں کو ایک قبر میں زندہ دفن کردیا جائے

اور ہم خودکشی کرنے والوں کے ساتھ مل کر قہقہے لگائیں

ہم کوئی ایسا جرم کریں

جس سے تاریخ کی کتابوں میں مرے ہوئے کیڑے مکوڑے زندہ ہوکر سیاہ صفحات پر رینگنے لگ جائیں

کوئی ایسا جرم کریں

کہ اس سیارے کے لوگ ہمیں کسی ایسے سیارے پر جانے کی سزا دے دیں

جہاں زندگی ممکن نہ ہو

ہم وہاں زندگی کریں

اور انکو وہاں سے ایک خط بھیجیں

جس میں یہ لکھیں کہ تم نے زمین کو جہنم بنا کر اس میں خود کو دفن کیا ہوا ہے

ہم اپنے ہونے والے بچے کا ذکر کریں

اور لکھیں کہ محبت کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

October 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons