سلطنت ( مکینک عبد القدوس) ۔۔۔ محمود احمد قاضی

 سلطنت

محمود احمد قاضی ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ، شہزادی ، کنیز،دربان، غلام،جلاد، مسخرہ، ایلچی، مؤرخ، بہروپیا، مصنف، فقیر، بہروپیا، حلال خور، چور چوکیدار،بازی گر، مکینک  اور فالتو لوگَ


ادارہ پینسلپس کی کوشش تھی کہ، اپنے قاری کے لئے ہر شمارے میں ایک کہانی شامل کی جائے۔آج اس کتاب کی سترویں (17) کہانی پیش ہے۔۔

مکینک عبد القدوس

دن

آغاز کرتا ہے تو وہ بستر کی نرمی کو خیرباد کہتے ہوئے فورا باتھ روم میں گھس جاتا ہے. دانت مانجنے کے بعد وہ شیو کرنے لگتا ہے. جلدی اور شتابی میں کی جانے والی شیو کے نتیجے میں تیز بلیڈ اس کے چہرے پر چرکہ لگاتا ہے مگر وہ اس کی پرواہ کئے بغیر اور زیادہ تیزی سے کپڑے تبدیل کرنے کے بعد ناشتے کی طرف لپکتا ہے, گرم گرم چائے کے ایک دو گھونٹ اپنے حلق کے اندر اتارنے کے بعد اسکے قدم دروازے کی طرف رواں ہو جاتے ہیں. دروازے کے باہر پہنچنے تک کچھ اس کا پیچھا کرتی ہیں.

باپ ۔۔۔ بیٹا میری دوائی لانا نہ بھولنا

. ماں ۔۔۔۔ آج میری شال ضرورلے آنا

. بیوی ۔۔۔  میری ایکسرے رپورٹ بھی

  • ابو ۔۔۔ میرا بھالو

ہاں ہاں  کرتا  وہ لمبے ڈگ بھرتا بس سٹاپ کی طرف بھاگتا ہے

آوازیں اب بھی اس کے پیچھے لبکی چلی آتی ہیں لیکن وہ سنی ان سنی کرتا ہوا اب بس کا منتظر ہے بس آتی ہے وہ ہجوم میں سے ۔ راستہ بناتا کسی نہ کسی طرح بس پر سوار ہو جاتا ہے۔ حسب معمول سیٹ دستیاب نہیں۔

. وہ دوسرے لوگوں میں پھنس کر کھڑے ہو کر بس کی چھت میں نصب راڈ کو پکڑ کر تقریبا جھول جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں وہ اپنے آپ کو ان دھکوں سے بچانےکی سر توڑ کوشش کرتا ہے لیکن دھکوں  کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ راڈ سے اس کا ہاتھ چھوٹنے کو ہے۔ ایک اور دھکا لگتا ہے اور وہ آگے کو پھسلتا چلا جاتا ہے اور آگے وہ سرخ رنگ کا چوبی دروازہ ہے جس کو پار کرتے ہوئے وہ باغ کی خوبصورت روشوں کیاریوں پھولوں اور درختوں کے درمیان میں سے گزرتا اس بینچ تک چلا آتا ہےجہاں پر بیٹھی سرخ رنگ کے لباس میں سرخ ہوتی وہ کسی قدر منہ پھلائے اس کی منتظر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی ناراضگی عارضی ہے۔ وہ اسے دیکھتے ہی اپنے منہ کو اور زیادہ پھلا لیتی ہے۔ مگر اس طرح اس کا انداز اور زیادہ مصنوعی اورمضحکہ خیز ہوجاتا ہے۔ وہ ہنستے ہوئے اور باہیں پھیلائے ہوئے اس کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ پرے سرکتی ہے۔ وہ اور آگے کھسکتا ہے بالآخر بینچ کا آخری کونہ دونوں کے حصے میں آتا ہے۔ وہ اپنی سانسوں پر قابو پاتا مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے تو وہ منہ بسور کر کہتی ہے

آج بھی تم نے دیر کر دی۔ تم ہمیشہ دیر کیوں کردیتے ہو

پتہ نہیں۔۔۔ مجھے پتا ہی نہیں چلتا اور دیر ہو جاتی ہے۔۔۔ حالانکہ میں ہمیشہ جلدی میں ہوتا ہوں۔۔۔ سب لوگ، دفتر کے لوگ، میری ماں،، باب بیوی۔۔۔ میرے سب گھر والے، میرے سارے دوست تو میرے جلدی پن اور ہڑبڑاہٹ سے ہمیشہ نالاں ہی رہتے ہیں مگر تم کہتی ہو کہ میں تم تک ہمیشہ دیر سے پہنچتا ہوں۔ شاید تمام قسم کی جلد یوں اور شتابیوں کو نمٹاتے ہوئے اور تم تک پہنچتے ہوئے مجھے دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ مگر یہ میری فیٹ ہے، تم میری دیرکو جلدی اور میری اس بھول کو پہلی بھول سمجھا کرو شاید سمجھتی بھی ہو تم ہر بار من بھی جاتی ہو شاید تم کو مجھ پر بھروسہ ہے اور اسی بھروسے کے ناطے۔۔۔

وہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔ وہ دونوں باغ کی روشوں پر بھاگتے ہیں ان کی سانسیں بھاگتے ہوئے بے ترتیب ہوئی جاتی ہیں جسم پسینے میں نہا جاتے ہیں پھولوں کو ہاتھوں کے کٹوروں میں بھرتے ادھر ادھر لہراتے پھرتے ہیں اور بے تحاشا ایک دوسرے کو گد گداتے جاتے ہیں پھر انکی بے ترتیب سانسیں ان کی انمٹ محبت اور اتھاہ پیار کا چیخ چیخ کر اعلان کرنے کو ہوتی ہیں تو یک دم  سے صور پھونک دیا جاتا ہے. اور وہ دم بخود رہ جاتا ہے، وہ  اچانک انتہائی بے اعتنائی اور غیریت سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بھاگتی ہے اور پر ہجوم دنیا کے سمندر میں غوطہ لگا جاتی ہے اور اسے جیک پر ٹنگے کسی ٹرک یا کار کے نیچے مٹی میں مٹی ہوتا ہوا اور موبل آئل میں لتھڑا ہوا چھوڑ جاتی ہے۔

.

گہری ہوتی شام کے گہرے دھندلکے میں ایک بار پھر وہ ورکشاپ کی تھکن اور میل کچیل کو ساتھ لیے بس کی چھت پر نصب راڈ کے سہارے لٹکا ہوا اپنا توازن برقرار رکھنے کی ناکام کوشش میں لگا ہے. وہی دھکا  ایک بار پھر اس کے پاؤں اکھیڑتا ہے اور وہ پھسلتا ہے۔ پھسلتا چلتا چلا جاتا ہے۔.

ایک بار پھر وہ دروازے میں داخل ہوتا ہے۔ یہ اس کا گھر ہے۔

 دن کا سفر تمام ہوتا ہے اور اب رات اس کی جانب لپکی چلی آتی ہے۔

 رات

 کو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اپنے بستر استر پر لا پٹختا ہے. نیند اس کی ازلی دشمن پر کوسوں  دور ہے وہ کروٹ پہ کروٹ لئے جاتا ہے. آخر کار اور نیند کی آس لکن میٹی سے اکتا جاتا ہے. اور جما ہیاں لیتا ہوا بستر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے باپ کے کمرے میں جھانکتا ہے باب دو تکیوں کے سہارے اپنے دونوں گھٹنے سینے سے لگائے تقریبا بیٹھنے کے انداز میں سوتا ہے اسے سانس لینے میں آسانی رہتی ہے.. اس کی لائی ہوئی دمے کی دوائی اس کے سرہانے پڑی ہے وہ اپنے باپ کی چارپائی سے نیچے لٹکتے اس کے دائیں بازو کو آرام سے اٹھا کر اس کے پہلو میں رکھ دیتا ہے. وہ اس پر جھک کر اس کی سانسوں کی آمدورفت کوجو ایک  خرخراہٹ کی صورت میں کمرے میں پھیلی ہوئی ہے محسوس کرتا ہے. وہ اپنے باپ کے کندھے کو ہولے سے تھپک کر اچانک پلٹتا ہےاور اپنی ماں کے بستر کی جانب آتا ہے,. اس کی ماں اس کی لائی ہوئی شال اوڑھے سوئی ہوئی ہے وہ سوتے میں مسکرا رہی ہے جیسے اس شال کی نرم گرمی کو اپنے. اترتا محسوس کر رہی ہو۔ وہ اس کے ماتھے کوچومتا  ہے اور پلٹ کر اپنے کمرے میں آ جاتا ہے جہاں اس کی بیویپڑی گہری نیند کے مزے لیتی ہے اور اپنے ہلکے ہلکے خراٹوں کی نرم گونج سے کمرے کو مہربان لذت آمیز خرخراہٹ سے بھرے جاتی ہے. وہ بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو چومتا ہے اس کے ہاتھوں میں لہسن کی بو بسی رہتی ہے.مگر وہ ان ہاتھوں کو برسوں سے اس بوسمیت قبول کئے ہوئے ہے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اگرچہ اس کے لئے وہ سرخ رنگ کا خواب دروازہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے جہاں  اس کے ناز نخرے اٹھانے والی….. جلد روٹھ جانے والی۔//جھوٹ موٹ اس سے ناراضگی کا اظہار کرنے  والی… جلد من جانے والی ۔۔ وہ سرخ لباس والی… وہ سرخ چنریا والی بھی اس کی منتظر رہتی ہے مگر وہ ہر رات سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگم بھاگ ہر چیز کے پیچھا چھڑا کر اس عورت کا آ ہی پہنچتا ہے ۔۔۔ وہ ہمیشہ ہی اسے سوتے میں چومتا اور پیار کرتا ہے۔.

وہ اپنے بستر پر دوبارہ لیٹنے سے پہلے اپنی بیٹی کے پہلو میں روئی کے گالے جیسے نرم مخمل سے بنے بھالو کو اسے آہستگی سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ ایکدم  اسے اور زیادہ سختی سے اپنے ساتھ بھیج لیتی ہے. وہ مسکراتا ہے اوربھالو کے انداز میں اپنے منہ کے زاویے   بناتا بگاڑتا واپس اپےبستر پر آ جاتا ہے بستر پر لیٹتے ہی وہ یوں کلام کرتا ہے۔ ..

‘ ” ابا۔.. میں جانتا ہوں کہ آپ کو مجھ سے بہت سی شکائتیں ہیں میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں اور آپ مجھے کسی دفتر کا بابو بنانے والے تھے مگر قسمت اور تقدیر نے مجھے ٹرکوں اور کاروں کے نیچے تیل میں  ڈوبی ہوئی ڈانگری سمیت خاک پھانکنے پر مجبور کر دیا ہے. میں جانتا ہوں یہ سب آپ کی خواہشات کے خلاف ہوا آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ ہم ہر وقت مقدر کے بے رحم بھیڑیے کے دانتوں میں جان کنی کے عذاب سے گزرتے چلے جاتے ہیں. لیکن ابا اگروہ نہیں ہوا جو آپ نے چاہا تو میں بہر حال آپ کا کماؤ پوت تو ہوں نآن… یہ صحیح بات ہے کہ اس طرح مجھے آپکی مٹھی چاپی کرنے آپ سے گپ لگانے اور یادوں کو تازہ کرنے بلکہ آپ کا حقہ تازہ کرنے کی مہلت نہیں ملتی لیکن میں کیا کروں میرے پاس ان باتوں کا کوئی وقت ہی نہیں بچتا امید ہے کہ آپ مجھے معاف کرتے رہیں گے… کردیں گے ناں معاف ۔۔۔

اور اماں ۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں تیرتے آنسو سوال بن کر میرے دل کو دبوچ لیتے ہیں مرے لبوں کی پھیکی مسکان کے پیچھے چھپی ناآسودہ خواہشوں کی خاک ہی اب میری پہچان ہے میں جانتا ہوں کہ تمہیں اس کا قلق ہے کہ تمہارا لال مٹی میں رل رہا ہے یقین جانو یہ میری تمہاری بلکہ ہم سب کی مشترکہ مجبوری ہے. میں تو تمہارے ساتھ دو میٹھے بول بولنے کا متمنی رہتا ہوں پر کیا کروں َ ؟  اب تم ہی بتاؤ کہ میں کس طرح یہ سب کچھ کروں۔ جس وقت ڈانگری اپنے جسم سے علیحدہ کرتا ہوں تم سونےکے لیے اپنے کمرے میں جا چکی ہوتی ہو… تمہیں شاید علم نہیںمیں اکیلے  میں کس طرح پھپھک پھپھک کر روتا ہوں اور اپنے تکیے کو اپنے آنسو سے بھگو تا ہوں.. میری ماں میں تمہارے لئے رنجیدہ ہوں.. بے حد ملول ہوں لیکن خدا کے لئے مجھے نا خلف نہ سمجھنا کہ میں آج بھی تمہارا وہی پپو سا منا سا بیٹا بن جانا چاہتا ہوں جسے تم… مگر نہیں ٹھہرو یہاں ایک دوسری ہستی بھی تو ہے ایک عرصے سے صریحا حق تلفی ہو رہی ہے یعنی تمہاری بہو اور میری بیوی… اسے بھی مجھ سے ڈھیروں شکایتیں اور گلے ہیں…. میرے پاس اس کے لیے اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ وہ اور میں.. میں اور وہ ایک دوسرے کی طرف نظر بھر کر دیکھ سکیں… یقین جانو ایک عرصے سے میں یہ نہیں جان سکا اس نے کس دن کونسے رنگ کا لباس پہن رکھا ہوتا ہے.. وہ اپنے بال سنوارتی بھی ہے یا نہیں… وہ اب بھی پہلے کی طرح جوان اور خوبصورت ہے یا نہیں… مجھے ان باتوں کا احساس ہی نہیں رہا… میں دن بدن اس احساس سے عاری کیوں ہوتا جارہا ہوں… کیا تم بتا سکتی ہوں ماں ؟ کیا وہ خود بتا سکتی ہے ؟ شاید نہیں. تم دونوں کے پاس میرے ان سوالوں کا جواب موجود نہیں اگر ہے بھی تو تم دونوں جھوٹ موٹ کا مکر کیے اپنی اپنی دنیا میں مگن رہنا چاہتی ہو اور اسی   طرح مجھے اپنی اس ڈگر پر چلتے رہنا ہے۔ کہ اب لے دے کے چھٹی کا دن رہ جاتا ہے جو ظاہر ہے مجھے اپنی پیاری بیٹی کے سنگ کھیلتے ہوئے،ہنستے مسکراتے ہوئے گزارنا چاہیے لیکن اس  دن تو میں چھ دن کی تھکن اتارتا ہوں اور سارا دن سوتا رہتا ہوں…. میری بچی میں تمہارا بھی مجرم ہوں۔

لیکن میرے پیارو ! یقین کرو میں تم سے تم سب سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں… یہ الگ بات ہے کہ اس کے اظہار کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے….. میں ہوتا تو جلدی میں ہوں. ہر کام میں جلدی کرتا ہوں مگر نہیں شاید میں ہمیشہ ہی دیر کر دیتا ہوں محبت کرنے میں بھی دیر کر دیتا ہوں۔ “

وہ پہلو پہ پہلو بدلتا ہے نیند اس سے اب بھی اتنی ہی دوری پر ہے.. اس کے چاروں اور رات طاری ہے اور ابھی ایک اور دن کو طلوع ہونا ہے مگر اس کی رات اس کے دن سے ہمیشہ ہی زیادہ طویل ہوتی ہے… دن رات، رات دن

زندگی یوں ہی بیتے جاتی ہے اور کبھی کبھار دن میں جب وہ جاگتے میں خواب دیکھتا ہے تو اس کے خواب میں وہ سرخ دروازہ اور سرخ چنریا والی  ہوتی ہے یا پھر اسکے گرد ٹرک، شاں شاں کرتے ہیں کہ بی اے کی ادھوری تعلیم کے دوران جس کا پسندیدہ مضمون اردو ادب تھا اور جس کے پسندیدہ شاعر غالب اقبال اور فیض تھے اب ان کے شعروں کے مفہوم سے عاری ہو چکا ہے۔

زندگی اب اسکے لئے ایک نائٹ مئر ہے

وہ اکثر سوچتا ہے

کیا کبھی وہ اپنے پیاروں سے محبت کر نے کے لئے تھوڑی سی فرصت، تھوڑا سا وقت نکال سکے گا ؟

2 thoughts on “سلطنت ( مکینک عبد القدوس) ۔۔۔ محمود احمد قاضی

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

March 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: