چند نظمیں ۔۔۔ محمود درویش

 چند مختصر نظمیں

محمود درویش

محمود ، میرے دوست۔
دکھ ایک ایسا سفید پرندہ ہے
جو میدان جنگ کے قریب بھی نہیں پھٹکتا
فوجی کے لیے دکھ گناہ ہے
وہاں تو میں صرف ایک مشین ہوتا ہوں
جو آگ اگلتی ہے
اور علاقے کو ایک ایسے سیاہ پرندے میں تبدیل کردیتی ہے
جو اڑ نہیں سکتا

(فوجی جو سوسن کے خواب دیکھتا ہے)

اور تم اب ہماری دہلیز پر کھڑے ہو
آؤ ، اندر آجاؤ، ہمارے ساتھ بیٹھو
اور عرب کافی کی چسکیاں لو
[شاید تم بھی محسوس کرنے لگو کہ تم بھی انسان ہو، جیسے ہم ہیں]

(محاصرے کے دوران)

ماں! کیا ہم سے کوئی غلطی ہوگئی ہے
کیوں ضروری ہے کہ ہم دو بار مریں
ایک بار تو مریں زندگی میں
اور ایک بار زندگی کے بعد
بید کے جنگلو! کیا تمھیں
کیا تمھیں یاد رہے گا کہ وہ
جسے دوسری مردہ اشیا کی طرح
تمھارے اداس سایوں میں پھینکا گیا ، ایک آدمی تھا ؟
کیا تمھیں یاد رہے گا کہ میں ایک آدمی ہوں؟

(جلاوطنی سے خط)

معدوم ہوتے لفظوں کے درمیان سے گذرنے والو!
تمھاری اور سے تلوار،ہماری طرف سے خون
تمھاری اور سے فولاد
ہماری طرف سے گوشت
تمھاری طرف سے ایک اور ٹینک
ہماری طرف سے پتھر
تمھاری طرف سے آنسو گیس
ہماری طرف سے وہی آنسو اور بارش
ہم پر بھی اور تم پر بھی آسمان
ہمارے لیے بھی اور تمھارے لیے بھی ہوا
اس لیے لے لو ہمارے خون میں سے اپنا حصہ
اور چلے جاؤ
جاؤ چلے جاؤ کسی رقص کی تقریب میں
ہمیں تو ابھی آبیاری کرنی ہے
پھولوں کی، شہیدوں کی
ہمیں تو ابھی اور زندہ رہنا ہے
جہاں تک بھی ممکن ہوسکے گا
……………………………………
دُور افتادہ شہر میں اجنبی

 جب میں جوان تھا اور خُوبرُو تھا

 گلاب کا پھول میرا گھر ہوا کرتا تھا اور

 چشمے میرے لیے سمندر تھے۔

 گلاب کا پھول ایک زخم بن گیا،

 چشمے پیاس میں تبدیل ہوگئے۔

 ’’کیا تم بہت بدل گئے ہو؟‘‘ ’’نہیں ، اتنا نہیں۔‘‘

 جب ہم آندھی کی صورت واپس اپنے گھر لوٹیں گے

میرے ماتھے کو غور سے دیکھنا،

 گلاب کا پھول کھجور بن گیا ہوگا اور چشمے پسینہ۔

 اور تم مجھے ویسا ہی پاؤ گے جیسا میں پہلے ہوا کرتا تھا:

جوان اور خُو برُو۔۔
…………………………………………………
اُنہوں نے اُس کے دہن پر زنجیریں لگا دیں
اُس کے ہاتھوں کو مُردوں کے پتھر سے باندھ دیا
اور کہا: تم قاتل ہو!
وہ اُس کی غذا، اُس کے ملبوسات، اُس کے پرچم چھین لے گئے
اور اُسے زندانِ مرگ میں پھینک دیا
اور کہا: تم چور ہو!
اُنہوں نے اُسے ہر بندرگاہ سے نکال باہر کیا
وہ اُس کی جواں سالہ محبوبہ لے گئے
اور پھر کہا: تم پناہ گیر ہو!
اے خوں میں آغشتہ آنکھوں اور ہاتھوں والے!
یقیناً رات سریع الزوال ہے
نہ تو کوئی حراست گاہ ہمیشہ باقی رہے گی
اور نہ حلقہ ہائے سلاسل ہی!
نیرو مر گیا، لیکن روم نہیں مرا
وہ اپنی آنکھوں سے لڑتا رہا!
اور خشکیدہ سنبل کے بیج
وادی کو سنبلوں سے لبریز کر دیں گے!

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: