شیریں ۔۔۔ مریم تسلیم کیانی

شیریں

مریم تسلیم کیانی

ادھیڑ عمر فرہاد سُرمئ رنگ کا میلا کچیلا کُرتا شلوار پہنے ہوئے ایک پرانی کالے رنگ کی کُرسی پر بیٹھا حسب ِمعمول سگریٹ کا دُھواں اُڑا رہا تھا ۔

وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی شام کا منظر دیکھ کر فارغ ہوا تھا۔

دُھند میں لِپٹا نارنجی سورج ، ملگجا اندھیرا ، آسمان پر پھیلتا سیاہی مائل اُودہ رنگ اور فرہاد کی تنہائی نے تمام منظر افسردہ بنا دیا تھا ۔

فرہاد جس فلیٹ میں رہتا تھا اُس کی بالکونی پر بندھی رٙسی پر پرانے مِٹی لگے میلے کپڑے نہ جانے کب سے ٹٙنگے ہوئے تھے ۔ بالکونی میں رکھے گملوں میں پودے سُوکھ چکے تھے ۔ ہوا سے بالکونی کا پھٹا ہوا سیاہی ماِئل رنگ کا پردہ ہِل جُل کررہا تھا ۔

تقریباً خالی کمرے میں جگہ جگہ سگریٹ کی راکھ ،سگریٹ کے ٹکڑے ،چائے وغیرہ کے برتن اور چند پرانی کتابیں بکھری تھیں ۔ کمرے میں اندھیرے کی بدولت مزید کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔

وہ کرسی سے اُٹھ کر اندر کمرے میں آکر اپنے مخصوص صوفے پرٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔

کچھ دیر بعد اچانک وہ چونک کر سیدھا ہوا ۔ اُسےصوفے کی سائیڈ ٹیبل ہر رکھے موبائل پر کچھ سنائی دیا تھا ۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھالیا ۔ موبائل آن کرتے ہی اسکرین روشن ہوگئ اور اُس کے چہرے پر نیلی مدھم روشنی پڑی ۔ اِس نیلی روشنی میں اُس کے چہرے کے خدوخال واضح دکھائ دے رہے تھے۔ وہ نازک ناک نقشے کا تھا مگر اس وقت اس کے چہرے پراُلجھن کے تاثرات نمایاں دکھائی دے رہے تھے ۔ آدھا چہرہ سفید اور سیاہ بالوں کی بے ڈھنگی داڑھی مُونچھ سے بھرا ہوا تھا ۔ وہ لاغر اور مُضمحل بھی لگ رہا تھا ۔

موبائل کی اسکرین پر میسج دکھائی دیا ۔میسج بھیجنے والی کی ڈسپلے پکچر میں مسکراہٹ کا ایموجی بنا ہوا تھا۔

میسج : آج بہت اکیلی ہوں ۔ ویسے تو روز اکیلی ہوتی ہوں مگر آج اپنی تنہائی کو بہت زیادہ محسوس کررہی ہوں۔ آپ کیا کررہے تھے ؟

فرہاد نے پورا میسج پڑھ کر دھیرے سے مسکرانے کی کوشش کی ۔ پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا ۔

فرہاد : جو آپ محسوس کررہی ہیں، میں بھی وہ ہی محسوس کررہا ہوں ۔ بقول شاعر ~

فرہاد مجھے دیکھ میں کیا کاٹ رہا ہوں

اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہا ہوں !

میسج : اوہ تو یوں سمجھیئے کہ آپ ابھی تک سزا کاٹ رہے تھے مگر اب میں آگئ ہوں ۔ اب ہم مل کر تنہائی کاٹیں گے ۔

فرہاد : تنہائی کو بہت مشکل سے پالا پوسا ہے ۔ میں اٙزل سے ابٙد تک تنہا ہوں ۔ مجھے اِس تنہائی کی عادت ہوچکی ہے ۔

میسج : ایسے کہیں گے تو میں چلی جاوں گی ۔ بہت مشکل سے تو آپ کا نمبر اور آپ ملے ہیں مجھے ۔

فرہاد : میرا نمبر اور میں آپ کو کیسے ملا ؟ میں تو آج تک خود کو مل نہیں پایا آپ کو کہاں سے مل گیا ؟!

میسج : یوں سمجھیئے کہ جہاں آپ نے خود کو چُھپایا ہوا تھا مجھے اُس کمرے کی چابی مل گئ ہے ۔

فرہاد : پھر دیکھ لیا میرا اجاڑ سا بد رنگ کمرہ !!

میسج : جی دیکھا تو نہیں اندازہ کرلیا ہے ۔ مگر رنگ بھرنا تو میراکام ہے ۔ میں نے آپ کے اندر خالی کینوس دیکھا تو دوڑی چلی آئی ۔

فرہاد : . آپ جانتی نہیں شاید کہ مجھ سے زندگی کے تمام رنگ بہت پہلے کھو گئے ہیں ۔ میں نے خود کو تباہ کرلیا ہے ۔

میسج : میں نے بتایا ناں کہ مجھے دوبارہ رنگ بھرنے آتے ہیں ۔

فرہاد : اچھا ۔۔۔ ویسے صنفِ نازک کا کام ہی ہے کائنات میں رنگ بھرنا مگر میری کائنات بہت کُوری ہے۔ بے حد بنجر، یہاں چارہ گری کی عام تراکیب کام نہیں کریں گی ۔

میسج : میں جانتی ہوں فرہاد ۔۔۔۔ آپ عام انسانوں سے بہت الگ ہیں ۔

فرہاد : آپ کو میرا نام کیسے معلوم ؟غالباً آج دوسری بار بات ہورہی ہے !!

میسج : آپ نےہی بتایا تھا ۔ بھول گئے شاید ۔ خیر مجھے یاد ہے ۔

فرہاد : آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں ؟

میسج : ابھی نہیں ۔ ہم عام انسانوں کی طرح بات کیوں کریں ۔ پہلے آپ کی زندگی میں رنگ بھرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ کہیں کیا خیال ہے ؟

فرہاد : خیال تو واقعی اچھا ہے ۔ آپ کے جذبے کا خیر مقّدم ہے ۔ اِس پُر خلوص پیش کش کا تہِہ دل سے شکرگزار ہوں ۔

میسج : پھر ٹھیک ہے ہم روزانہ یونہی باتیں کریں گے ۔

فرہاد : خوش آمدید ۔ بس ایک شرط ہے ۔ مجھ سے عشق نہ کیجیے گا ۔

میسج : کیوں عشق سے ڈر لگتا ہے ؟

فرہاد : اِس عُمر میں ڈر لگتا ہے ۔

میسج : کیا عُمر ہے ؟

فرہاد : سو کے درمیان کا ایک نمبر ہے ۔

میسج : نمبر سے کیا ہوتا ہے ۔آپ عشق سے مت ڈریں ۔ ویسے بھی عشق انسان کےباطن کو باغ وبہار کردیتا ہے ۔دیکھیے گا آپ دوبارہ جوان ہوجائیں گے ۔

فرہاد : عشق وہ کفن ہے جو ایک بار پہن لیا تو اُتار نہیں سکتے ۔

میسج : ارے تو مت اُتاریں ۔ کس نے کہا ہے ۔

فرہاد : گویا آپ کے ارادے بہت خطر ناک ہیں ۔

میسج : جی ۔ مگر میری بھی ایک شرط ہے ۔

فرہاد : سر آنکھوں پر ۔

میسج : آپ مجھ سے ملنے کی ضِد نہیں کریں گے جب تک عشق نہ ہوجائے ۔

فرہاد : بہتر ۔میرے لیے آپ کا احساس ہونا کافی ہے ۔ مجھے کتنے لوگ ملے مگر سب آخر کار اپنے اپنے راستے واپس چلے گئے ۔ آپ کا احساس کافی دیر پا لگتا ہے ۔

میسج : جی اور یہ احساس ہی تاحیات قائم رہتا ہے ۔

فرہاد : نام تو پوچھ سکتا ہوں شیریں ۔ (مسکراہٹ )

میسج : میرا نام شیریں ہے ۔ (مسکراہٹ کا ایموجی )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرہاد نے مُسکرا کر موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا ۔ کمرے میں روشنی بڑھ گئ تھی ۔ کمرے کی ایک طرف کتھئی رنگ کی لوہے کی دو پٹ والی پرانی الماری رکھی تھی جس کے ایک دروازے پر قد آور آئینہ چِسپاں تھا ۔

آئینے میں فرہاد کو اپنا عکس عجیب سا محسوس ہوا. اُس نے اپنی کھچڑی داڑھی کو تُرشوانے کا فیصلہ کیا اور سگریٹ سُلگا لی۔ ۔

اگلی صبح فرہاد نے اپنا عکس آئینے میں دیکھا ۔اُس نے اپنی داڑھی ترشوالی تھی۔ اب اُس کا چہرہ صاف ستھرا دکھائی دے رہا تھا ۔ وہ معصوم سے نقوش کا تھا ۔ چہرے سے داڑھی مونچھیں شیو کردی جاتیں تو وہ مزید جوان دکھائی دیتا ۔

کمرے میں پردے سے چھنتی ہوئی پیلی دُھوپ آرہی تھی ۔

کمرہ گُزشتہ دِنوں کی بانسبت صاف دکھائی دے رہا تھا ۔

کمرے کی دیواروں پر دو جگہ پینٹنگز لگی ہوئ تھیں ۔ جن پر لال رنگ کے چھت والے گھر بنے تھے ۔ گھروں کے پیچھے آبشار بہتے دکھائی دے رہے تھے ۔ اُس کو یہ پینٹنگز بہت پسند تھیں ۔

ایک دیوار پر دُھول میں اٙٹی پرانی تصویر لگی تھی ۔

فرہاد مخصوص صوفے پر بیٹھا کافی پی رہا تھا ۔۔

سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل میں میسج وصول ہونے کی آواز نے اُسے چونکا دیا.

اُس نے لپک کر موبائل اٹھایالیا تھا ۔

شیریں : اچھا بتائیں ذرا کہ ایک رات میں کیا کچھ بدل گیا ؟

فرہاد : سچ بتاوں ۔ میں نے اپنے اوپر لادا ہُوا بوجھ ہلکا کرنا شروع کردیا ہے ۔میں نے اپنی داڑھی تُرشوا لی ہے ۔

شیریں : اوہ واقعی !! مجھے پتا تھا کہ میرا کچھ تو اثر ہوگا آپ پر ۔ اب ذرا اپنے پودوں کا بھی خیال کریں ۔ ان سے آپ کی زندگی میں رنگ شامل ہوں گے ۔

فرہاد : آپ شامل ہوگئیں یہ بہت بڑی بات ہے ۔ معلوم ہے شیریں کل رات میرے کمرے میں جیسے ٹھہر گئ ہے ۔ نہ رات کمرے سے جاتی ہے نہ کمرہ رات سے جُدا ہونا چاہتا ہے. کیا سحر طاری کردیا ہے آپ نے ۔ مجھے لگ رہا کہ اب میری سیاہ تنہائی میں رنگ بھر رہے ہیں ۔

شیریں : تنہائی اور درد کی ایک سی فطرت ہے ۔ ہم اُن کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

فرہاد : اب مجھے دن رات ایک ہی بات کا انتظار رہے گا ۔آپ کا ۔

شیریں : رات کو بات کرتے ہیں ۔ جب تک آپ زندگی کے مزید رنگ دیکھیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرہاد نے موبائل رکھ دیا ۔ اِس بار اُس کے چہرے پر کِھلی کِھلی سی مسکراہٹ تھی ۔

پودوں کو روزانہ پانی مل رہا تھا ۔ بالکونی میں رسی پر اب دُھول سے اٹے کپڑوں کی جگہ رنگین صاف کپڑے لٹکے ہوئے تھے ۔

پرانے پردے کی جگہ گلابی رنگ کا پردہ ٹنگا ہوا تھا ۔ کمرے میں میرون رنگ کا چھوٹا سا فریج بھی دکھائی دے رہا تھا ۔

شام کا منظر بھی اُجلا اُجلا تھا ۔ شفق کے رنگ اور کمرے کی دیواروں کے رنگ ہم آہنگ تھے ۔ دیوار پر لگی تصویر بھی آج صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ وہ فرہاد کی جوانی کی تصویر تھی ۔ جس میں اُس نے رنگین شرٹ اور نیلے رنگ کی جینز پہنی ہوئی تھی ۔

فرہاد نے الماری سے وہی کپڑے نکالے جو وہ اُس تصویر میں پہنے ہوئے تھا ۔ تصویر میں وہ کلین شیو تھا ۔ اُس نے اپنا کلین شیو کرلیا ۔

فریاد نے تصویر والے کپڑے پہن کر آئینے میں اپنا عکس دیکھا ۔

وہ ہُو بہو اپنی پرانی تصویر جیسا دکھائی دے رہا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔.

فرہاد : آپ کو پتا ہے میرے اردگرد بے شمار رنگ بکھر چکے ہیں ۔ پودے بھی رنگین پھولوں سے مہک رہے ہیں ۔ صبح سویرے تو نارنجی اور زرد رنگ کی تتلی بھی منڈلاتی دیکھی تھی ۔

شیریں : آپ کو محبت ہوگئی ہے !

فرہاد : پتا نہیں شیریں مگر میرا دل تڑپ رہا ہے ۔ بے قراری سی ہے ۔ میٹھی کسک سی ہے ۔

شیریں : تڑپ ہی محبت ہے فرہاد ۔

فرہاد : ایک بار مل لیں ؟

شیریں : ملنا ضروری نہیں ۔ محبت کا اظہار ضروری ہے ۔

فریاد : شیریں میرا دل کرتا ہے کہ آپ سے ہر روز نئے الفاظ میں محبت کا اظہار کروں کہ لغت تمام ہو جاۓ پھر میں کسی نئی زبان میں محبت کااظہار کروں…!! زبانیں تمام ہو جائیں تو پھر نئے اشاروں سے اظہار کروں..! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہر روز میری محبت کا ایک الگ زاویہ دیکھیں . بس ایک بار ملنے کی تمنا دل میں نہ رکھنا میرے بس میں نہیں رہا ۔

شیریں : اچھا جی سمجھ گئی ۔ ویسے بھی محبت میں ایک ملاقات ضروری ہے۔ نہیں تو زندگی پھر مرجھا جائے گی اور بے رنگ و نور ہوجائے گی ۔ جو میں نہیں چاہتی ۔

فرہاد : آپ کہاں رہتی ہیں شیریں کس شہر میں کس علاقے میں ؟؟ بتائیں مجھے میں خود ملنے آجاوں گا ۔۔

شیریں : میں کراچی میں گرین پارک علاقے میں رہتی ہوں ۔ مجاہد بلڈنگ میں ۔۔۔

فرہاد : یا خدا !! سچ!! گرین پارک ایریا میں ، مجاہد بلڈنگ میں ۔ کراچی شہر میں !! افف میں ۔۔ میں بھی وہیں رہتا ہوں ۔

شیریں : کیا واقعی !!یہ تو واقعی کمال ہوگیا ۔ ہم ایک ہی بلڈنگ میں تھے اور اب تک ملاقات کا شرف نہ پاسکے !!

فرہاد : ہاں۔مگر اب ہم ملیں گے ۔ وقت بتائیں مجھے بتائیں آپ ۔ اپنے فلیٹ کا نمبر بتائیں ۔ میں آپ کو کب کیسے کہاں دیکھوں گا ؟

شیریں : میرے فلیٹ کا نمبر 3/5 ہے مگر میں آپ سے پانچ بجے شام کو بلڈنگ کی لابی میں ہی ملوں گی ۔ آپ لابی میں آجائیے گا ۔

فرہاد : میں آپ کو پہچانوں گا کیسے شیریں ؟

شیریں نے مسکراہٹ والا ایموجی بھیجا ۔

فرہاد : یہ ایموجی کیوں بھیجا !؟

شیریں : آپ مجھے پہچان لیں گے ۔ میں نے آپ کی تنہائی کو محسوس کیا ہے. آپ نے مجھے اجازت دی ہے اسی لیے میں آپ کی زندگی میں آئی ہوں ۔ آپ بس ٹھیک وقت پر آجائیے گا ۔

۔۔۔۔۔

شام پانچ بجے فرہاد نے تیار ہو کر اپنے فلیٹ کا دروازہ بند کیا اور بلڈنگ کی لابی میں آگیا ۔ اُس نے وہ ہی تصویر والی پینٹ اور رنگین شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔

اُس کا دل شیریں کے بارے میں سوچ سوچ کر بہت تیز دھڑکنا شروع ہوگیا تھا ۔

اُس نے سگریٹ سُلگا لی اور کش لینے لگا ۔ اُسے محسوس ہورہا تھا کہ آج اسے اپنی ازلی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے ایک ساتھی ملنے والا تھا ۔ جو اسے زندگی میں رنگ ہی رنگ عطا کررہی تھی ۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ جنت میں ہے اور اُس پر وہ پل بیت رہا تھا جب خالق نے آدم کے لیے بی بی حوا کو تخلیق کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔ ایک ساتھی کی خواہش یا تڑپ کو وہ دل سے محسوس کررہا تھا ۔

فرہاد بے قراری سے ٹہل کر بار بار جُھنجلا کر کلائ موڑ کرہاتھ پر بندھی گھڑی دیکھ رہا تھا ۔

شام کے چھ بج گئے تھے مگر شیریں نہیں آئی تھی ۔ انتظار کی گھڑیاں اُس کے دل میں ہلچل مچا رہی تھیں ۔

وہ عمارت کی مختصر سی لابی میں مسلسل ٹہل رہا تھا ۔

سات بجے اُس کا صبر جواب دے چکا تھا ۔

آٹھ بجے اُس نے اپنے فلیٹ میں واپس جاکے موبائل پر میسج کرنے کا سوچا اور اِس خیال کوخود ہی رّد کردیا. کیونکہ وہ اپنی طرف سے شیریں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اس نے دل میں سوچا کہ شاید کوئی ایمرجنسی ہوگئی ہو گی جو وہ نہ آسکی ۔ شیریں نے اسے عام انسانوں کی طرح بات کرنے سے منع کیا ہوا تھا ۔ اس لیے وہ فون کرکے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا ۔

نو بجے وہ انتظار کر کر کے مزید نڈھال ہوگیا تھا ۔

مسلسل چھوٹی سی جگہ پر چل کر اُس کی رانیں اور پنڈلیاں بھی بھاری ہوگئی تھیں ۔

وہ تھکے تھکے قدموں سے واپس اپنے فلیٹ کے کمرے میں آگیا ۔

کمرے سے سفید جگمگاتی روشنی پُھوٹ رہی تھی ۔

چند روز قبل وہ کمرے میں لگی ٹیوب لائٹس کی تعداد بڑھا چکا تھا ۔ وہ لابی میں جانے سے پہلے کمرے کی تمام لائٹس روشن کرکے گیا تھا ۔ کیونکہ شیریں سے ملنے کی خوشی میں اُس کا دل جگمگا رہا تھا ۔ شیریں سے ملنے کی تڑپ نے اُسے پُرجوش بنا دیا تھا ۔اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ پوری دنیا روشنیوں سے بھر جائے ۔

مگر انتظار کا طویل سفر طے کرکے خالی ہاتھ واپس آنے پر اُس کا دل مرجھا گیا تھا ۔ مِلن کی چاہ نے اُس کے رگ وپے میں اُمنگیں جگا دی تھیں ۔ وہ خود پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا ۔

اُس نے میرون رنگ کے چھوٹے سے فریج سے پانی کی سبز رنگ کی بوتل نکالی اور صوفے پر بیٹھ کر پانی پینے لگا ۔

تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کر پریشانی میں ٹہلنے لگا ۔

‘ شیریں نے میسج کیوں نہیں کیا ۔؟

‘ اس نے خود وقت طے کیا اور خود ہی نہیں آئی ۔ مگر میں کیوں پریشان ہوں ۔ وہ آئے یا نہ آئے ۔ میرے لیے تو اس کا احساس کافی ہے ۔ ملنا ضروری نہیں ہوتا ۔ وہ میرے دل میں ہے ۔ احساس کو زندہ رکھنا زیادہ اہم ہے ۔’

وہ دل ہی دل میں شیریں کی محبت بھری باتیں دہرانے لگا ۔

وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے اُس کی آنکھ لگ گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرہاد کی آنکھ کُھلی تو نیا دن اپنی آب و تاب سے جگمگا رہا تھا ۔

دماغ کےجاگتے ہی گزشتہ شام اور رات کی بے چینی نے اسے دوبارہ آگھیرا ۔

شیریں کے تصور میں آتے ہی وہ اٹھا اور حسب معمول پودوں کو پانی دینے لگا. . بالکونی میں بندھی ہوئی رسی سے کپڑے اتارے اور تہہ کر کے الماری میں رکھ دئیے ۔ چھوٹے سے کچن میں جاکے اپنے لیے کافی اور سینڈوچ بناکے ابھی وہ صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ ڈور بیل بجی ۔

اُس نے دیوار پر لگی گھڑی دیکھی ۔ صبح کے گیارہ بجے تھے ۔

اِس وقت یا کسی بھی وقت اُس کے فلیٹ کی ڈور بیل شاذونادر ہی بجتی تھی ۔

اُس نے بادلِ ناخواستہ دروازہ کھولا ۔ سامنے ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا ۔

اسے دیکھتے ہی نوجوان نے کہنا شروع کیا ۔

” السلام علیکم انکل ۔ آپ نے ہفتہ دس دن پہلے موبائل ریپئر کرنے کو دیا تھا. وہ میری دادی کا انتقال ہوگیا تھا اس لیے میں شاپ نہیں کھول پارہا تھا ۔ آج جیسے ہی شاپ پر آیا تو آپ کا موبائل ٹھیک کرنے کا سوچا مگر انکل آپ کا موبائل ڈیڈ ہوچکا ہے ۔ اب ٹھیک نہیں ہوسکتا ہے ۔ “

نوجوان لڑکے نے لفافے میں رکھا موبائل فرہاد کو تھما دیا ۔

فرہاد نے لفافہ یوں تھاما جیسے کسی میت کو اٹھایا ہو ۔ بغیر کچھ کہے فرہاد نے دروازہ بند کردیا ۔

باہر کھڑا لڑکا بند دروازے کو عجیب سی نظروں سے دیکھتا ہوا سیڑھیاں اترنے لگا ۔

دروازے پر فلیٹ کا نمبر 3/5 لکھا ہوا تھا ۔

دروازہ بند کر کے فرہاد پلٹا ۔ یکا یک اُس کی نظر الماری پر لگے آئینے کی طرف اٹھی ۔ وہ وہیں ٹھہر گیا ۔

فرہاد نے اپنا عکس آئینے میں بغور دیکھنا شروع کیا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے اُس کا چہرہ مسکراہٹ والی ایموجی جیسا لگنے لگا اور وہ کُھل کر ہنس دیا ۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

February 2024
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
26272829