مجھے لکھنے کی عادت ہے ۔۔۔ محمد اویس

مجھے لکھنے کی عادت ہے۔
(محمد اویس)

مجھے لفظوں کو سولی پر چڑھانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی
خیالوں کے سمندر کو
سیاہی، روشنائی سے نما یاں کرتے رہنے میں
کوئی وقفہ نہیں آتا
زباں کی ساخت کی، اوقات کی ہر لے پرکھنے میں
کبھی لجّا نہیں محسوس ہو پاتی
مجھے، نظموں کے موضوع،
کھوکھلے عنوان گھڑنے میں،
بہت عریاں خیالوں سے
کسی کے کان بھرنے میں،
حیا کا جھول آجائے:
کبھی ایسا نہیں ہوتا
مگر جو چاہتا ہوں، خود میں جس کا خواب رکھتا ہوں
کبھی ویسا نہیں ہوتا۔۔۔
کبھی بھی دل کی عریانی،
ہر اک حد تک، زباں پہ لا نہیں سکتا
میں جو محسوس کرتا ہوں،
وہ سب بتلا نہیں سکتا
میں سب کے سامنے منظر پہ ویسے آ نہیں سکتا
اگر میں دھوپ کو چھاوں کہوں،
یا ہاتھ کو پاوں کہوں
تو لوگ مجھکو سننا چاہیں گے؟
یہی ڈر ہے کہ کوئی شخص مجھ سے مونہہ نہ موڑے
کوئی اپنی توجہ
میرے چہرے، میرے لفظوں سے ہٹائے نہ!
میں سب کے کان بھرتا جاوں؛ کوئی روک پائے نہ
مگر یہ ڈر بھی اپنے آپ میں بندش ہے نظموں پر
روایت ایک آمر ہے زمانے بھر کے لفظوں پر؛( کہ ہر اک سوچ باندی ہے روایت کی!)
تو پھر کاغذ کے پنوں پر
روایت کی غلامی کا
میں کوئی باب کیوں لکھوں۔۔؟
اگر یہ خواب بھی لفظوں نے جنمے ہیں
تو اپنے خواب کیوں لکھوں۔۔؟
مگر لکھنا روایت ہے!
مجھے لکھنے کی عادت ہے،

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

May 2021
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: