دو غزلیں ۔۔۔ روبینہ ناشاد

دو غزلیں

روبینہ ناشاد (نابینا شاعرہ)

وہ جدا ہو گیا دیکھتے دیکھتے

کیا سے کیا ہو گیا دیکھتے دیکھتے

دل کی نگری اچانک اجڑ سی گئی

حدثہ ہو گیا دیکھتے دیکھتے

ان کے دل میں محبت ہمارے لیے

معجزہ ہو گیا دیکھتے دیکھتے

جانے کب کس طرح دل ہمارا صنم

آپ کا ہو گیا دیکھتے دیکھتے

عشق کرنے کا سوچا نہیں تھا کبھی

با خدا ہو گیا دیکھتے دیکھتے

ان کی نظروں نے جانے کیا، کیا اثر

جو نہ تھا ہو گیا دیکھتے دیکھتے

کل تلک رہزنی میں جو مشہور تھا

راہ نما ہو گیا دیکھتے دیکھتے

یہ درد یہ آہیں یہ چبھن کس کے لیے ہے

آنکھوں میں مری اب یہ جلن کس کے لیے ہے

خلوت میں یہی سوچتی رہتی ہوں شب و روز

دن رات مشقت، یہ تھکن کس کے لیے ہے

میں کون ہوں کیا ہوں مجھے کوئی تو بتائے

آخر یہ میری جان، یہ من کس کے لیے ہے

کہتی ہوں بڑے پیار سے جس کے لیے غزلیں

گر وہ نہیں سنتا تو سخن کس کے لیے ہے

آنکھوں میں سجائے ہوئے ہوں اب بھی کئی خواب

آباد میرے دل کا چمن کس کے لیے ہے

جب کوئی نہیں تیرے سوا اپنا خدایا

دنیا سے مجھے پھر بھی لگن کس کے لیے ہے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: