نظم ۔۔۔ منتظر گولو

نظم

منتظر گولو

میرے ایک ہاتھ میں

پائبلو نرودا کی نظمیں ہیں

جو تقریبَا بارش میں بھیگی ہوئی ہیں۔۔۔

میرے دوسرے ہاتھ میں

پکاسو کی رنگ پلیٹ اور برش ہے،

جس میں جدت

تجریدیت کے ساتھ زندہ ہے۔

میری زباں پر،

خاموشی مری پڑی ہے….

اور آنکھوں میں ان کہی باتوں کا

بہت سارا شور مچا ہوا ہے

جس کو فقط تمہاری آنکھیں ہی

سن سکتی ہیں’ سمجھ سکتی ہیں۔۔۔۔

میری پيشانی پر

جو عبارت لکھی ہوئی ہے،

ان کو تمہارے ہونٹوں کے اعراب کی ضرورت ہے..

تم ايک دوری سے دیکھ رہی ہو

بارش ہو رہی ہے

رنگ گھیلے ہو رہے ہیں

اور میری پيشانی پر لکھی ہوئی عبارت

مٹ رہی ہے۔۔۔۔۔۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

October 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons