غزل ۔۔۔ نادیہ عنبر

غزل

( نادیہ عنبر لودھی )

سیم وزر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں 
کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میں


مکتبِ عشق سے وابستہ ہوں کافی ہے مجھے 
داد ِ غالب ، سند ِ میر نہیں چاہتی میں


فیض یابی تیری صحبت ہی سےملتی ہےمجھے 
کب ترے عشق کی تاثیر نہیں چاہتی میں


قید اب وصل کے زنداں میں تو کر لے مجھ کو 
یہ ترے ہجر کی زنجیر نہیں چاہتی میں


مجھ کو اتنی بھی نہ سکھلا تُو نشانہ بازی 
تجھ پہ چل جاۓ مرا تیر نہیں چاہتی میں


اب تو آتا نہیں عنبر وہ کبھی سپنے میں
اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتی میں 

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: