انتظار ۔۔۔ نجمہ ثاقب

انتظار

نجمہ ثاقب

کہتے ہیں جب آغا حکمت اللہ نے قصہ خوانی بازار کے عین دل میں کھڑے تنگ بالکنیوں اور لکڑی کے اُوندھے چھجوں والی لکشمی بلڈنگ کے صدر دروازے پہ قدم رکھے تو ’یاور خاناں‘ انھیں دروازے کے پیچھے چار قدم کے فاصلے پہ وہاں کھڑا ملا جہاں مغل شہنشاہوں کی پرانی یادگاری باؤلی پہ ٹوٹی اینٹیں اور ان گھڑے پتھر بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر پھیلے آنسوؤں نے گرد، مٹی اور میل کے داغوں کو مزید گدلا رکھا تھا اور وجود پہ بھولپن کے چھینٹوں کی جگہ وحشت اور درماندگی ناچ رہی تھی۔

آغا نے اس کی انگلی تھامی اور اونچے چوبارے کے اس گوشے پہ چڑھ آئے جہاں گول چکر کھاتا تنگ زینہ سب سے اوپری منزل کی جانب مڑ جاتا تھا۔ وہاں فولادی زنجیروں اور لکڑی کے دوہرے تختوں سے بنا ہاتھی دانت کے سے سفید لٹوؤں اور جا بجا گڑی میخوں والا وہ تاریخی دروازہ تھا جسے دیکھ کر آغا کی خانم نے بغل میں دابے بچے کو گٹھڑی بھر بوجھ کی طرح زمین پہ اتار دیا اور دوچند ہوتی حیرت سے بولی: ’’ایں چیست آغا؟‘‘

اور آغانے کمالِ بے نیازی سے سر اونچا کر کے کہا تھا: ’’ایں خانۂ شماست۔‘‘

’’چہ قدر خوب! خانم کے لہجے میں چھپے طنز کو شیر قند کی طرح حلق سے اتارتے آغا نے ’یاور خاناں ‘کی کمر پہ ایک مشفق دھپ رسید کی۔ بولے: ’’ایں سوم است (یہ تیسرا بیٹا ہے)‘‘

خانم نے ناک بھوں چڑھا کر کہا: ’’چہ طور؟ (کیسے؟)۔‘‘

آغا بولے: ’’چشمِ تماشا بیار (دیکھنے والی نگاہ لاؤ)

خانم نے ایک نگاہِ غلط اس پر ڈالی اور غڑاپ سے آدھ درجن بچوں سمیت دروازے سے اندر گم ہو گئی جہاں سیلے در و دیوار والے بے صحن کے کمروں والے گھر میں دن کو بھی ملگجا اندھیرا چھایا رہتا تھا۔ جہاں آنے والے دوچار سالوں میں خانم آہیں بھر بھر کر گنگنایا کرتی تھی:

’’روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شُد

حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شُد‘‘

(ہم نے ابھی پھول کا چہرہ جی بھر کے نہ دیکھا تھا کہ بہار ختم ہو گئی، افسوس! کہ پلک جھپکنے میں محبوب کی رفاقت ختم ہو گئی)

انھیں آنے والے دنوں میں ’یاور خاناں‘ کو پتا چلا کہ آغا کا اصل وطن ہرات ہے جہاں کی خالص چمڑے اور گدیلی روئی سے بنی پوستینیں سارے وسط ایشیا میں جانی جاتی ہیں۔ جہاں آغا چمڑے کے اتنے ہی بڑے تاجر تھے کہ سال میں دو چکر روس اور ایک آدھ پاکستان یا بھارت کا لگا لیتے۔ مگر ان کا گھر زندگی کے لیے ضروری سبھی آسائشوں سے بھرا ہوا تھا اور اتنا کھلا اور کشادہ تھا کہ خانم کو وہاں یہاں جیسی تنگ دامنی کا احساس کم از کم نہ ہوتا تھا۔

جب کبھی وہ موج میں ہوتیں تو اس سمیت سب بچوں کو سامنے بٹھا کر ایسی تصویر کشی کرتیں کہ یاور خاناں کو لگتا کہ وہ اپنے زندہ وجود سمیت وہاں گھوم آیا ہے۔

جہاں سیاہی مائل پتھروں اور خاکستری اینٹوں سے بنی دیواریں انگور کی بیلوں میں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں۔ کھلے صحنوں میں آلوچے، سرخ انار، سرخ اور سبز کا امتزاج لیے سیب دہک رہے ہیں۔ سردیوں میں دھندلے راستوں پہ بچھی سفید برف قدموں کے نشان ڈھونڈتی ہے۔ آس پاس کہیں آبشاروں کے میٹھے پانیوں کی شرر شرر سکوت کی چادر کو دھیرے سے مسک دیتی ہے۔

یہاں وہاں بھیڑوں کی نرم روئی سے گندھا فرغل پہنے خانم قصہ کہتے کہتے منظر کا حصہ بن جاتی۔ پھر آغا آتے، اپنی بوسیدہ ٹی بی زدہ کھانسی کھانستے۔ لکڑی کا بھاری دروازہ ایک گڑگڑاہٹ کے ساتھ کھلتا اور ملگجے کمرے کا سحر ٹوٹ جاتا۔ بچے مرغی کے چوزوں کی طرح اِدھر اُدھر کونوں میں پھیل جاتے۔ شکست خوردہ سی خانم چھجے کی طرف چل دیتی جہاں آغا نے کپڑا تان کر عارضی باورچی خانے کی شکل بنائی تھی۔ خانم نے ’یاور خاناں‘ کی مدد سے دیوار میں دو لمبے لمبے کیل ٹھونک کر ایک فرائنگ پین اور ایک توا لٹکا کر نیچے مٹی کے تیل کا چولھا رکھ دیا تھا۔

پھر ایک روز آغا وقت سے پہلے گھر آ گئے۔ وہ پہلے کی نسبت پُر جوش اور خوش دکھائی دیتے تھے۔ ویسے تو ان کے گھر آنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہ تھا اور نہ ہی اسے معلوم تھا کہ وہ روزانہ کہاں اور کس غرض سے جاتے ہیں۔ البتہ یہ سب جانتے تھے کہ وہ دن کا بڑا حصہ گھر سے باہر رہتے ہیں۔ جب واپس آتے تو ان کے کپڑے گرد آلود ہوتے۔ ہاتھوں پر خراشیں اور قدموں سے تھکن لپٹ رہی ہوتی۔ وہ دونوں ٹانگیں لٹکا کر چار پائی پہ بیٹھ جاتے اور خانم گرم پانی سے ان کے ہاتھ پاؤں دھلواتے، منہ ہی منہ میں کچھ بدبدایا کرتی۔

پھر جب گھر سے باہر کھلے آسمان پہ تارے چمکنے لگتے۔ عروسِ شب اپنے نقرئی گہنے پاتوں سمیت رونق افروز ہوتی۔ نیچے بازار میں زمینی کپڑوں کی مانند بکھری آواز نیند کی رہگزر میں اتر جاتیں اور خانم کے خراٹے بچوں کے معصوم اور البیلے خوابوں سے ہم آہنگ ہونے لگتے۔ آغا اپنی درد بھری آواز میں وہ نغمہ چھیڑتے جسے سننے کی خواہش میں ’یاور خاناں ‘اپنی چارپائی پہ دیر تک چپکا پڑا رہتا تھا۔

وہ کمرے کے ملال کھلائے سیلے سیلے ماحول میں ’’یا قربان‘‘ کی تان اٹھاتے۔ یاور خاناں کا انگ انگ کان بن جاتا۔

ستادستر گوبلا واخلے ما (اے میری جان! میں تمھاری آنکھوں پر

وجانا نہ زما(قربان ہو جاؤں)

اسے اپنی پختون دادی یاد آ جاتی جو ہمیشہ چار گز گھیراؤ کی لمبی فراک پہنتی تھی اور ہفتے میں ایک روز بالوں میں خوب تیل ڈال کر انھیں مینڈھی مینڈھی گوندھتی تھی۔ جو کنواری لڑکیوں کے ماتھے کھدوا کر نشانوں کو سرمے سے بھرتی۔ جو پختونوں کو سب سے اچھا مسلمان اور یوسف زئیوں کو سب سے اچھا پختون سمجھتی تھی اور جس نے دشمنی کی بھینٹ چڑھ جانے والے بیٹوں اور پوتوں کی لاشوں پہ کھڑے ہو کر کمالِ ضبط سے’یا قربان‘کا نعرہ داغا اور ’یاور خاناں ‘کو یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے علاقہ بدر کرا دیا کہ یہاں رہے تو باپ بھائیوں کی طرح اپنے ہی چچیرے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہو جاؤ گے۔ دور چلے جاؤ، ایسی جگہ جہاں تمھارے سانسوں کی ڈوری سلامت رہے اور اونچے کوہاٹی طروں والے خانوں کے دلوں میں یہ امید باقی رہے کہ ان کے مرقدوں پہ کبھی نہ کبھی کوئی دیا جلانے آئے گا۔

ہاں تو اس روز آغا وقت سے پہلے گھر آ گئے۔ وہ پہلے کی نسبت خوش اور پر جوش دکھائی دیتے تھے۔ انھوں نے آتے ہی سب بچوں کو آوازیں دے دے کر بلایا۔ وہ اکٹھے ہوئے تو انھیں پشاور کی سیر کرانے نکل کھڑے ہوئے۔ خانم نے اس افتاد پہ پہلے تو انھیں حیرت سے گھور کر دیکھا۔ پھر حسبِ عادت بُڑ بُڑ کرتی اندر کمرے کے اندھیرے میں گم ہو گئی۔

آغا آگے آگے چل رہے تھے اور بچے ان کے پیچھے۔ یاور خاناں کی نگرانی میں دائیں بائیں یوں تکتے چلے آ رہے تھے جیسے اردگرد کے سارے مناظر، دکانوں کے تھڑوں پر سجی اشیا، شیشے کے دروازوں کے اندر دھرے رنگ رنگیلے کھلونوں سمیت ہر شے نگاہوں میں سمو لینا چاہتے ہوں۔

خود یاور خاناں کو بھی اس روز بازار کی رنگینی معمول سے سوا معلوم ہوئی۔ قہوہ خانے کے باہر دیگ جتنی بڑی کیتلی اینٹوں سے چُنے چولھے پر دھری تھی اور اس کے نیچے دھڑا دھڑ جلتی لکڑیاں اب انگاروں میں تبدیل ہو گئی تھیں۔

انہی انگاروں کی تپش کو محسوس کرتے نسوار فروش جابجا زمین پہ کپڑا بچھائے مال لگا کے بیٹھے تھے۔ وقفے وقفے سے دکانوں سے باہر بنے تھڑوں پر بیٹھے تماش بین بوڑھے جو حقے کی نے چھوڑتے تو پہلو میں دھرے تھال سے گُڑ کی ڈلیا اٹھا کر منہ تر کرتے۔ کبھی کبھار مزہ دوبالا کرنے کے لیے چٹکی بھر نسوار کلّے میں دبا کر بازار کی ان پرانی رونقوں کو یاد کر کر کے آہیں بھرتے جنھیں صرف ان کے باپ دادا نے دیکھا تھا۔

جس کے قصّے انھوں نے منہ زبانی بڑے شوق سے دہرائے تھے۔ جب خیبر کے درّے سے گزر کر قافلے اس پار اترتے تھے اور کمر سے پٹکی باندھے سارے وسط ایشیا سے آنے والے رنگ رنگیلے تاجر قصہ خوانی بازار کی سرایوں اور قہوہ خانوں میں ان علاقوں کی کہانیاں سناتے تھے۔ جہاں جنگجو برسات کی کھمبیوں کی طرح اگتے ہیں۔ راستے سارا سال برف اوڑھ کے اونگھتے رہتے ہیں۔ جہاں سرد راتوں میں چاندنی چٹکتی تو زمین روئی کا سفید بچھا بستر معلوم ہوتی۔ تارے جھک جھک کر پربتوں سے سرگوشیاں کرنے کے بعد وادیوں میں اتر آتے۔ مناظر کا بوجھ پلکوں پہ دھرے سننے والے اونگھنے لگتے اور بازار سیاحوں، راہ گیروں اور تاجروں کے قدموں کی دھمک سے ہونکنے لگتا۔

بازار میں نو عمر لڑکے جا بجا خوانچے گلے میں لٹکائے امریکی سگریٹ، ایرانی صابن اور روسی ماچس بیچ رہے تھے۔ الائچی اور گرم مسالا بیچنے والوں کی پوری پوری دکانیں دیکھ کر بچوں نے ابھی حیرت سے انگلیاں مونہوں میں دابی ہی تھیں کہ بازار ختم ہو گیا۔ آغا دُلکی چال چلتے بڑی سی سڑک پر ہو لیے۔پھر تھوڑی دیر چل کر داہنی طرف مڑ گئے۔ پھر بائیں، پھر دائیں اور آخر میں ناک کی سیدھ میں چلنا شروع ہوئے تو بڑے لڑکے کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔

وہ انگشت شہادت کی طرح سیدھا اکڑ کر کھڑا ہو گیا اور ترنت بولا:

’’آغا! کجا می روی؟ (کہاں جا رہے ہیں؟)

آغا پہلی مرتبہ کھل کے ہنسے۔ ان کے ہموار دانتوں کی سفیدی ایک لحظے کے لیے کوندی۔ وہ بولے: ’’جان پدر!منزل مادورنیست۔‘‘

پھر یکدم چلتے چلتے وہاں رک گئے جہاں لوہے کے فولادی جنگلے، ریلوے اسٹیشن کی حدود شروع ہونے کا پتا دیتے تھے اور جس کے اندر لوہے کی وہ فولادی پٹڑی بچھی تھی۔ جس پر ریل کا کالا بھجنگ انجن دن میں کئی بار سبز اور پیلے ڈبوں کی قطار پیچھے لگائے چھکا چھک بھاگا کرتا تھا۔

بچوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ دور تک جاتی پٹڑی کو کالی ناگن کی صورت زمین پر لیٹے دیکھا اور جب دور سے دھک دھک کرتی زمین کے سینے پر سیاہ رو انجن نمودار ہوا تو سب سے چھوٹا بچہ آغا کی ٹانگوں سے چمٹ گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن اور انجن کی دھمک میں کچھ فرق باقی نہ رہ گیا۔ جب کھلے دروازوں اور سلاخوں والی کھڑکیوں میں رنگ برنگے لوگوں کو بٹھائے شیطان کی آنت جیسی لمبی بلا ڈھڑ دھڑ کرتی ان کے قریب سے گزر کر گز بھر کے فاصلے پہ رک گئی تو انھوں نے کھلی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگوں کا ایک طوفان بدتمیزی ہے جو ریل کے دروازوں کے اندر باہر آن بپا ہوا ہے۔

باہر آنے والے اندر جانے والوں کو دھکیل رہے ہیں۔ اندر جانے والے باہر آنے والوں کو دوبارہ گاڑی پرسوار کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ تب آغا نے بچوں کے سیب کی طرح تمتماتے گالوں کو نظر بھر کے دیکھتے ہوئے بتایا کہ اس لمبی بلا کا نام ’’ریل گاڑی‘‘ ہے۔ یہ خاص چیز ان سب کے لیے اس لیے نئی اور انوکھی ہے کہ اس کا وجود ان کے وطن میں کہیں نہیں پایا جاتا۔

اسی لیے آج وہ ان سب کو اس کی زیارت کرانے لائے ہیں اور جلد ہی جب انھیں موقع ملے گا۔ وہ انھیں اس پر سوار بھی کرائیں گے مگر کئی روز گزرنے پر بھی ایسا موقع نہ آیا۔ آغا بیمار پڑ گئے، ان کی روز افزوں کھانسی جان کا روگ بنی جاتی تھی۔ وہ خانم کے ’’خیراتی دوا خانے‘‘ سے لائی دوا پی کر دن بھر چار پائی پہ پڑے رہتے۔ دل چیر دینے والی آواز میں گنگنایا کرتے۔

؎نہ مکتوب تومی آید نہ از حالت خبر دارم

(نہ تمھارا کوئی مکتوب آتا ہے نہ تمھاری حالت کی خبر ہے)

پھر آہ بھر کر کہتے:

چوں مسافر باز شد ہستم یا نیستم

خانم تیر کی طرح اندر سے نکلتی اور چادر کے کنارے سے آنکھیں پونچھ کر کہتی:

’’روزی مسافر باز خواہد آمد

(مسافر ایک روز ضرور واپس آئے گا)

اور آغا کی ذات پر لمبی خاموشی کا وقفہ در آتا۔

آغا کا باہر جانا کیا موقوف ہوا۔ یاور خاناں پہ ان کی فگار انگلیوں کا راز کھلنے لگا۔ گھر میں اب دو وقت خمیری روٹی بھیگے قہوے کے گلاس کے ساتھ نگلی جانے لگی۔ قہوے کی کیتلی جو سارا سارا دن آگ پہ دھری کالی ہوتی رہتی تھی، اب وقت کے وقت چولھے پہ چڑھائی جانے لگی۔

تب ’یاور خاناں‘ کے خالص پختون خون نے ابال کھایا۔ اس نے بنوں وول کی سِلی تھیلی سے وہ مڑے تڑے نوٹ نکالے جو کوہاٹ بس اڈے پر دادی نے اس کے حوالے کیے تھے۔ چھتی سے لوہے اور تام چینی کے روغن اترے تھال کو اتار کر اس میں مُلٹھی، سوکھا دھنیا اور الائچی سجا کے بڑی سڑک کے کنارے جا بیٹھا۔ پہلے روز راہگیروں نے صرف اسے دیکھا۔ دوسرے روز اس کے قریب رکے اور تیسرے دن ایک آدھ نے دو چار الائچیاں اور پاؤ بھر دار چینی خرید ڈالی۔

اگلے پندرہ بیس روز میں وہ اس قابل ہو گیا کہ خانم کے دستر خوان پر گوشت نہ سہی سبزی دال ضرور چن دیتا۔ انہی کملائے سنولائے دنوں میں ایک روز وہ واپس آیا تو آغا کے پاس ایک اجنبی صورت پیر مرد بیٹھے دیکھا جس کے چہرے سے تھکن ہویدا تھی۔ مٹیالی پگڑی کے میل خوردہ پیچ کسی لمبے سفر سے آمد کی گواہی دے رہے تھے۔

البتہ آغا اسے پہلے کی نسبت قدرے خوش اور بشاش معلوم ہوئے۔ انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے قریب بلایا۔

یہ ہرات میں میرے ہم کار ہوتے تھے۔ آج مدت بعد ملے ہیں اور میرے لیے بڑی خوشخبری لے کر آئے ہیں۔

یاور خاناں کو ان سے ملنے کی خوشی کیا ہوتی وہ تو اس بات پر مسرور تھا کہ آغا آج بڑے دنوں کے بعد مسکرائے تھے۔ ان کی کھچڑی داڑھی ہولے ہولے لرز رہی تھی۔ اگلی

صبح انھوں نے پھر اسے پاس بٹھا لیا۔

یاور خاناں! تم جانتے ہو آج میں کتنا خوش ہوں؟

سیف اللہ میرا حقیقی بھائی ہے۔ دس سال پہلے جنگ کے مہلک شعلوں نے اسے نگل لیا۔ وہ دشتِ لیلیٰ کا مسافر بنا اور نامعلوم مدت کے لیے مجھ سے بچھڑ گیا۔ آج وہ مجھ سے ملنے یہاں آ رہا ہے۔

تب اسے معلوم ہوا کہ کل جو خوشخبری لے کر وہ اجنبی آیا تھا۔ اسی کی تاثیر ہے کہ آج گھر کا ہر فرد بلبل ہزار داستاں کی طرح چہک رہا ہے۔

تم میرے تیسرے بیٹے ہو، یاور خاناں۔ انھوں نے اس کی پیٹھ ٹھونکی۔ مجھے اپنے انتخاب پہ ناز ہے۔

پھر وہ حسبِ عادت گنگنا اٹھے، اور اسی شام انھیں لیے وہ ایک مرتبہ پھر ریلوے اسٹیشن کی جانب روانہ ہوا جہاں وہ چند ماہ پہلے بچوں کے ہمراہ گئے تھے۔ فرق یہ تھا کہ تب آغا صحت مند تھے اور اب بیمار۔ مگر چال میں آج بھی پہلے کی سی سبک رفتاری اور روانی تھی۔

انھوں نے اپنا اکلوتا سوٹ دھلوا کر پہنا تھا۔ ہراتی پوستین کو دبا کر استری کیا تھا اور کوہاٹی چپل کو گیلے کپڑے سے رگڑ رگڑ کر صاف کرنے کے بعد اب وہ بازار کے اس حصے میں اڑے اڑے پھر رہے تھے جہاں قہوہ خانوں کی رونق ماند پڑنے لگتی ہے اور بساطیوں کے ٹھیلوں کے پہلو بہ پہلو دنداسہ بیچنے والے کریم پاؤڈر اور ازاربند، دیا سلائی، سگریٹ، پان والے خوانچہ بردار آواز کا جادو جگاتے ہیں۔

بازار ختم ہوا۔ پھر بڑی سڑک گزری، پھر دائیں اور بائیں مڑنے اور ناک کی سیدھ پہ یک رخ چلنے کے بعد جب لوہے کا مخصوص نوکدار جنگلا نظر آیا جو پشاور ریلوے اسٹیشن کی حدود کے شروع ہونے کی نشاندہی کرتا تھا تو آغا کی دُلکی چال میں عجیب سی مستی در آئی۔

انھوں نے مڑ کر کسی معمول کی طرح پیچھے پیچھے آتے یاور خاناں کو دیکھا اور بولے: ’’ دس سال ایک عرصہ عمر ہوتا ہے۔ کسے خبر اب وہ کیسا ہو گا؟‘‘ مجھے پہچانے گا بھی یا نہیں۔

پہچانے گا کیوں نہیں آغا! خون خود بول پڑے گا دیکھنا! آغا اس کی بات پہ کھل کر ہنسے۔ یاور خاناں کو لگا کہ چاند بدلیوں کے درمیان سے نکل آیا ہے۔ ہر طرف اجلی چاندنی چٹکنے لگی ہے۔

اسٹیشن پہ وہی معمول کی رونق تھی۔ پکوڑوں، سموسوں، خوانچے والے جگہ جگہ پھر رہے تھے۔ چائے پان والوں کے کھوکھوں پہ مخصوص رونق تھی اور رسالوں کے اسٹال پہ اکا دکا لوگ فلمی جریدوں کی ورق گردانی کر رہے تھے۔

آغا پلیٹ فارم پہ دھرے سنگی بنچ پہ بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد اٹھ کے ٹہلنے لگے پھر جھک کر ریل کی پٹڑی پہ دور اس رخ تکا کیے جہاں سے گاڑی کو نمودار ہونا تھا۔ پھر تھک کر واپس آئے اور بنچ پہ بیٹھ کر گنگنانے لگے:

یا قربان! ستاد ستر گو بلا واخلے ما وجانانہ زما

کبھی کبھی سب سے توجہ ہٹا کر وہ یاور خاناں کو دیکھتے اور پوچھتے: ’’کیا خیال ہے یاور خاناں! گاڑی آج لیٹ نہیں ہو گئی؟

یا…سوچتا ہوں۔ سیف اللہ مجھے پہچان تو لے گا؟

یا… تمھاری خانم نے آج کابلی پلاؤ بنانا تھا۔ اسے میوۂ خشک تو پکڑا آئے تھے؟

اور جب یاور خاناں ان کے ہر سوال پہ تسلی بخش جواب دیتے دیتے اکتانے لگا تو گاڑی کا اگلا سرا مخصوص گڑگڑاہٹ کے ساتھ نمودار ہوا اور پلیٹ فارم اس کی آمد سے تھرتھرانے لگا۔ آغا یک لخت کھڑے ہو گئے۔

دھڑ دھڑ کرتے دو چار ڈبے ان کے سامنے گزر گئے اور گاڑی سست ہوتے ہوتے بالآخر رک گئی۔ پھر وہی معمول کی دھکم پیل، ہر شخص چڑھنے یا اترنے کو لپکا پڑتا تھا۔ پلیٹ فارم پر دور دور تک سروں کی فصل اگ آئی تھی۔

آغا کبھی ایک ڈبے کی طرف دیکھتے۔ کبھی تیز تیز چلتے دوسری جانب جاتے۔ بھیڑ کے اندر سے جھانکنے کی کوشش کرتے۔ ان کا بس نہ چلتا تھا کہ انسانی جنگل کے اوپر سے تیر کر گاڑی کے اندر داخل ہو جاتے۔

بھیڑ قدرے چھٹی تو آغا پھر آگے کو ہوئے۔ سامنے کے ڈبے سے نکلتے کسی مانوس چہرے نے ان کے قدموں کو اٹھایا۔ پھر یوں جکڑ لیا جیسے پتھر کی طرح ساکت آغا زمین میں گڑ گئے ہوں۔

’یاور خاناں‘ نے ان کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا۔ بے بازو اور بن ٹانگوں کے گٹھڑی سا دھڑ تنو مند جوان کے کندھوں پہ دھرا دروازے کے پائیدان سے اتر رہا تھا۔ اس کے سرخ و سفید چہرے پہ آغا کی سی کھڑی ناک دھری تھی اور سنہری بالوں سے بھرے ماتھے تلے دو بے نور آنکھیں یوں گڑی تھیں جیسے آغا حکمت اللہ کی جوانی دشتِ لیلیٰ کے صحرا میں مسافر ہو گئی ہو۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: