کیمو فلاج ۔۔۔ رابعہ الربا ء

کیموفلاج
رابعہ الربا

میں اپنی پہلی شادی کا کارڈ بہت خوشی خوشی اسے دینے گیا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ وہ صاف انکار کر دے گا صاف انکار۔۔۔

میرے ذہن میں کئی طرح کے خیال آئے مگر کسی گمان کسی وسوسے پہ یقین نہیں آتا تھا کیوں کہ وہ میرااتنا پرانا یار تھاکہ کوئی پردہ باقی رہ نہیں گیا تھا۔

انکاری جملہ بھی عجیب دھواں دار تھا۔

میں نے عرصہ ہوا مردوں کی شادیوں پہ جانا چھوڑدیاہے۔یہ کارڈ اگر کسی لڑکی کی طرف سے آتا توضرور جاتا۔

اس کا یہ پہلو مجھ پر اب تک نہیں کھلا تھا۔ یہ کہتے ہی اس نے کارڈ میز کی بائیں جانب پڑے کاغذوں کے اوپر رکھ دیا۔

بہر حال وہ حقیقتاً میری شادی پر نہیں آیا اور نہ ہی رسماً مجھے اور میری بیگم کو کوئی دعوت دی، نہ تحفہ نہ مبارک کا کوئی فون ۔۔۔۔۔

میں زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے یار کی وجہ سے گرداب میں پھنس گیا۔ وہ بھی اپنی خوشی کے موقعے پر،بہرکیف شادی کے کچھ دنوں بعد جب ہم ملے تو مجھے دیکھ کر طنزیہ مسکرا رہا تھا جیسے میرا مذاق اُڑا رہا ہو۔

مجھے کئی واہمے ہوئے میں نے خود کو آئینے میں بغور دیکھا نہ سینگ نکلے تھے، نہ صورت بدلی تھی اگرچہ روپ نہیں آیا تھا۔ توبے رونقی کا بھی ابھی شکار نہیں ہوا تھا۔

اس لمحے کے بعد میرا یار میرے لیے مزید معمہ بن گیا۔ یا وہ کسی اور مخلوق میں سے تھا اور یا پھر میں کہیں۔۔۔۔۔ کہیں کچھ ہوا ضرور تھا۔

مگر پھر دھیرے دھیرے وہ میرے ساتھ پہلے جیسی انسانی مخلوق کی طرح ملنے لگا اور ہماری یاری ندی کے بہاؤ والی پرانی سطح پر آگئی۔ اگرچہ وہ خلا ابھی تک جوں کا توں قائم تھا مگر اس نے ہماری یاری میں دراڑ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

میری شادی کو بھی یونہی کچھ برس گزر گئے۔ جذبوں والے سفر طے کر کے میں زندگی کی بور روانی میں شامل ہو گیا۔ بھید کے سارے پردے اب ہر طرح چاک ہو چکے تھے اور زندگی اب پٹی بندھے بیل جیسی ہو گئی تھی۔

ایک دن دفتر میں بیٹھے بیٹھے ماموں یاد آگئے، اللہ جنت نصیب کرے۔

ہر بات پہ کہاوت و حکایت سناتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے انسان بڑا نا شکرا ہے اور نا شکری کی وجہ سے یہ اپنے ہی جال میں پھنس جاتا ہے۔

ہمارا خاندان مشترکہ خاندانی نظام کا ایک حصہ تھا اور چاندنی راتوں میں باتیں داستانوں کی صورت اختیار کر لیا کرتی تھیں۔ ایسی ہی ایک چاندنی رات کو سارا گھرانا چھت پر اکٹھا تھا۔ سب بڑے بوڑھے ایک طرف اپنا گروہ بنائے چار پائیوں پر بیٹھے تھے۔ اور ماضی کو یاد کر رہے تھے اور دوسری طرف ماموں ہم سب کزنز کو لے کر کہاوتوں اور حکایتوں سے نواز رہے تھے۔

ماموں کو اللہ نے نہ جانے کیا تاثیر بخشی تھی کہ کوئی ان کی باتوں سے بوریت محسوس نہیں کرتا تھا۔ بلکہ اشتیاق بڑھ جایا کرتا تھا۔ وہ بولتے چلے جاتے تھے کہ سوال کی گنجائش تک پیدا نہیں ہوتی تھی۔

’’ایک مرتبہ اللہ کے دربار میں مخلوقات عالم حاضر تھیں۔ اللہ نے سب کو بیس بیس سالہ زندگی عطا فرمائی،کسی مخلوق کو اعتراض نہ ہوا تھامگر انسان نے کہااے میرے پروردگار صرف بیس سال؟

کتے نے سنا تو کہنے لگا کوئی بات نہیں تم میرے بیس سال بھی لے لو،انسان پھر بولا۔بس صرف چالیس سال؟

بیل کہنے لگاکہ تم میرے بھی بیس سال لے لو۔ پھر انسان نے کہابس ساٹھ ؟ تب الو بولا تم میرے بھی بیس سال لے لو۔۔۔۔

یہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔کچھ دیر خاموش رہے،پھر کہنے لگے۔

یہ جو بیس سال ہیں ناں،یہ انسان کی اپنی زندگی ہے، اس لیے یہ زندگی کا حسین ترین وقت ہوتا ہے ہم بہت خوش ہوتے ہیں کیوں کہ ہم سب اس حسین دور سے گزر رہے ہوتے ہیں،مگر تب ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہو پاتا ۔۔

ماموں کچھ دیر خاموش رہے، پھر آہستگی سے بولے۔

اور اس کے بعد کتے کے بیس سال شروع ہو جاتے ہیں،انسان کی شادی ہو جاتی ہے۔ نوکری لگ جاتی ہے یا کاروبار شروع کر لیتا ہے۔ تعلیم کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ ذمہ داریاں سر پر آ پڑتی ہیں اور بہت کچھ مل کر اس کے ساتھ کتے والی ہونے لگتی ہے۔

اس کے بعد بیل کی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اور انسان کی آنکھوں پہ پٹّی سی بند ھ جاتی ہے۔ وہ دن رات کے چکر میں پھنس جاتا ہے۔ تاکہ زیست کو زیست کر سکے۔۔۔۔

اور اس کے بعد اُلو کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ بندہ ریٹائرڈ ہو جاتا ہے،کاروبار ہے تو بچوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ وہ خود بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اور بظاہر زندگی سے خارج ۔۔۔ اور گھر کے کسی کونے میں بیٹھا اُلوؤں کی طرح آنکھیں پھاڑے سب کو دیکھتا ہے۔

جب انھوں نے یہ سنایا تھا تو ایک دلچسپ کہانی لگتی تھی مگر اب۔۔۔۔۔۔

میں اسی لمحے گھبرا کے اٹھا، دفترکا وقت بھی ختم ہونے ہی والا تھا گاڑی اسٹارٹ کی اور اپنے یار کے دفتر پہنچا جو کہ پاس ہی تھا۔ دفتری اوقات ختم ہو چکے تھے مگر وہ مصروف تھا۔ لیکن میں نے اسے مجبور کیاکہ بس میرے ساتھ چل۔آج میں اس کے ساتھ کافی پینا چاہتا تھا، وقت گزارنا چاہتا تھا۔

یار تھا میرا،میری روح کاساتھی بھی شاید مان رکھ لیا میرا بھی اور ہم دونوں ایک پر سکون کافی ہاؤس کے پرسکون ترین کونے میں جا بیٹھے۔

میں نے اسے ماموں والی بات سنائی،جو مجھ پر کچھ دیر قبل کسی زلزلے کی طرح وار کر گئی تھی۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ افسردہ ہو گیا۔ گہری سوچ میں گیا اور پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔۔۔

’’یار جب میری شادی ہوئی تو مجھے لگاکہ میں زندگی میں قدم رکھ رہا ہوں۔بہت خوش تھا ایک جیون ساتھی ہوگا اور پُرسکون گھر ہو گا۔ محبت کرنے والی بیوی کیوں کہ عورت کا خمیر محبت سے اٹھاہے مگر آج تک سمجھ نہیں پایا محبت کس کے لیے۔ شاید ساری کی ساری اپنے بچے۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ کے بنے مزیدار کھانے اور پھر کبھی رونے کو دل کرے تو ایک محبوب کندھا۔۔۔۔ کبھی تھک گیا تو اس کی گود میں سر رکھ کر سو جاؤں گا۔ کبھی اس سے اٹکھیلیاں کروں گا، کوئی میرے ناز اٹھائے گا، کوئی مجھے بھی چاہے گا۔۔۔۔

مگر ہم دونوں بھی میاں بیوی ہی تھے۔ ایسا کچھ بھی نہ ہوا، اس کے نزدیک شرم و حیا عورت کا زیور تھی سو محبت زیور کی نذر ہو گئی۔ ناز۔۔۔۔ کیا اٹھانے تھے مجھ پر وا ہواکہ ناز تومرد اٹھایاکرتے ہیں۔

اورباقی سب چونچلے ہیں۔ جس کا اصل زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ فقط فلموں اور ڈراموں یا انٹر نیٹ پہ اچھے لگتے ہیں۔ مرد کا کام کماکر لانا اور گھر چلانا ہے اور عورت کا گھر میں رہ کر بچے اور گھر۔۔۔۔۔

یہ ہے بسsocial contract of life اس کے بعد میں نے اپنے اندر ایک دنیا بسالی تو مجھ پرکشف و الہام کے در وا ہونے لگے، تب مجھے پتا لگا۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔

’’سر تاج‘‘ کے تاج کے نیچے عورت کے پاس ایک چھوٹا ہے۔ وہ چھوٹا جو کسی کھوکھے پر،کسی ٹائر والے کی دکان پر، کسی بوسیدہ ہوٹل میں کسی پان شاپ پر ہوتا ہے۔

اصل سرتاج تو عور ت ہے، وہ ہاری ہوئی فاتح مخلوق ہے۔ وہ اگرچہ گھر میں رہتی ہے۔ گھربناتی ہے اور بچے پیدا کرنا،پالنا تربیت ۔۔۔۔

مگر اس کی حیثیت چھوٹے کی سی نہیں ہے۔ اس کو اس کے لیے ہر کسی کے سامنے ’’آیا جی‘‘۔۔۔۔ ’’اچھا جی‘‘ نہیں کرنا پڑتا۔۔۔ بلکہ وہ توتاج والے سرتاج کے سامنے بھی اپنی ہی مرضی سے آیا جی۔۔۔ اچھا جی۔۔۔ کرتی ہے۔

خصوصاً ہمارے مذہبی معاشرے میں۔۔۔ کیوں کہ تہذیب واخلاق عالیہ کے مطابق شوہر نہ تو اس پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے نہ ہی اس کو یہ کہہ سکتا ہے کہ جاؤ اور کماکرلاؤ تم بھی۔۔۔۔ کیوں کہ اس سے سرتاجی زیر ہوتی ہے۔

جب کہ گھر یلو ملازمائیں اور بھکاری عورتیں کماتی بھی ہیں اور ان کے مرد گھربیٹھے بچے پالتے ہیں۔ اور ہم کتنے بھی بڑے افسر ہو جائیں،ہمارا کوئی نہ کوئی افسر اعلیٰ ہوتا ہے جس کے سامنے ہمیں اپنا گھر چلانے کے لیے ’’آیا جی ‘‘۔۔۔۔۔ اور اچھا جی۔۔۔۔ کرنا پڑتا ہے۔

اور پھر گھر جاکر اپنی سرتاج کو یہ سب دینا پڑتا ہے فقط اس گھر میں رہنے کے لیے اور معاشرے کو دکھانے کے لیے کہ ہمارا بھی گھر ہے۔ بچے ہیں اور اس گھر میں ایک چھوٹا بھی رہتا ہے۔اور عمر بھریہ پتا ہی نہیں چلتا۔

اگر میں ایک روٹی کھا تا ہوں تو سات روٹیاں دوسروں کو کھلاتا ہوں۔یوں ہم گھریلو نظام کے قیدی بنتے چلے جاتے ہیں۔اپنی زندگی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ اور چھوٹاآگے نکل جاتا ہے۔ گھر،بیوی،بچے، والدین، خاندان رسمیں،رشتہ دار یاں،احباب۔۔۔۔ ہمیں خود سے زیادہ ان سب کی فکر ہونے لگتی ہے۔

یار سرتاج تو وہ ہے اس کو صرف یہ معلوم ہے کہ میں نے ہی یہ سب کرنا ہے کیسے؟ یہ اس کا سر درد نہیں ہے وہ صرف بتاتی ہے۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ سنتا۔

برس، گرج بھی لوں توکرنا مجھے ہی ہے کیوں کہ نظام کی چکی کا دانہ میں ہوں،غھن لگا بھی ہو توگالی میرا مقدر ہے۔ وہ تو بچاری کے تاج تلے بھی سرتاج رہتی ہے اور میں سر تاج کے،تاج تلے بھی چھوٹا ہوں۔

یار میں سوچتا ہوں کہ اگر مرد کو آزاد ہونا ہے۔ تو اسے پہلے عورت کوآزاد کرنا ہو گا۔اتنے میں میری بیوی کا فون آگیا

مجھے لگا جیسے میرا یا ر ٹھیک ہی کہتا ہے اس نے میری افسری کے نیچے کی اصل اوقات مجھے دکھا دی ہے۔اور میرا سر جھکا کر مجھے اپنی طرح کا عاجز و انکسار بندہ بنا دیا ہے،

مجھے لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو۔

’’ چھوٹے گھر جلدی آنا تم سے چھوٹا بیمار ہے،اسے ہسپتال لے کر جانا ہے۔‘‘

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2021
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: