کندن ۔۔۔ رشید احمد صدیقی

کندن

رشید احمد صدیقی

کندن مر گیا اور گھنٹے بجتے رہے!

کندن کالج کا گھنٹہ بجاتا تھا، معلوم نہیں کب سے، کم و بیش ۳۰- ۳۵ سال سے، اتنے دنوں سے اس پابندی سے کہ اس طرف خیال کا جانا بھی بند ہوگیا تھا کہ وہ مرجائے گا یا گھنٹہ بجانے سے باز آجائے گا! طالب علمی کا زمانہ ختم کرکے اسٹاف میں آیا تو یہ گھنٹہ بجارہا تھا، اسی کے گھنٹوں کے مطابق کام کرتے کرتے پوری مدت ملازمت ختم کی، یونی ورسٹی سے رخصت ہوا تو اسے گھنٹے بجاتے چھوڑا، گھنٹے کی آواز روزمرّہ کے اوقات میں اس طرح گھل مل گئی تھی جیسے وہ کہیں باہر سے نہیں میرے ہی اندر سے آرہی ہو جیسے وہ وظائف جسمانی کے ان معمولات میں داخل ہوگئی ہو جن کا شعوری طور پر احساس نہیں ہوتا۔

کئی دن بعد کسی نے بتایا ،کندن مرگیا۔ ایک دھچکا سا لگا، ارے کندن مرگیا۔ اتنے دنوں سے گھنٹے کی آواز آتی رہی اور حسب معمول یہی سمجھتا رہا کہ کندن بجارہا ہے بتائے بغیر کیوں نہ معلوم ہوگیا کہ کندن مرگیا۔ نادانستگی میں اس کی یاد کے ساتھ یہ کیسا قصور ہوا! پھر وہی بات ذہن میں آئی جو ہمیشہ ہرذہن میں آتی ہے کہ موت سے مخصوص افراد چاہے جس شدت سے متاثر ہوں، نظام فطرت میں اس سے زیادہ ناقابل التفات واقعہ دوسرا نہیں۔ اس سے فطرت کے نظام میں کوئی خلل پڑتا ہے نہ دنیا کے طور طریقوں میں فرق آتا ہے۔ اس احساس سے تسکین تو کیا ہوتی بے چارگی اور بے زاری کے احساس میں اضافہ ہوگیا۔ کیسے نہ کہوں کہ افراد کا متاثر نہ ہونا نظام فطرت کے متاثر ہونے نہ ہونے سے بڑا حادثہ ہے۔ انسان کی جس نہج پر ترکیب ہوئی ہے اس میں تو افراد ہی کے تاثرات سب کچھ ہیں۔ باقی ’’تمام شعبدہ ہائے طلسمِ بے سببی !‘‘

کندن کے گھنٹہ بجانے پر مہدی منزل سے لے کر مشتاق منزل تک کی کلاسیں باہر آجاتی۔ ترکی ٹوپی، سیاہ ترکش کوٹ اور پتلون نما سفید پاجاموں میں ملبوس ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے شریف، امیر، غریب گھرانوں کے خوبر و خوش اطوار ہنستے بولتے نوجوان اسی طرح برآمد ہوتے جیسے بقول انشاء ’’ہوا کھانے کو نکلے ہیں جوانانِ چمن‘‘۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک کتنے خاندانوں کی امیدوں اور امنگوں کا چمن کھلا ہوا نظر آتا۔ دوتین منٹ تک یہ ہمہمہ رہتا، پھر یہی لڑکے کلاس میں جابیٹھتے۔ مقرر وقفے کے بعد کندن گھنٹہ بجاتا وہی سماں پھر نظروں کے سامنے آجاتا۔ پڑھائی کے دنوں میں صبح سے سہ پہر تک یہی سلسلہ جاری رہتا۔ آتے جاتے پوچھ لیتا کندن کون کون سا گھنٹہ چل رہا ہے، اتنا گھنٹہ دریافت کرنے کے لیے نہیں جتنا اس سے ملنے کی تقریب منانے کے لیے۔ ہمیشہ جواب دیتا، ہجور فلان گھنٹہ۔ چاہے پوچھنے والا طالب علم ہو، معلم ہو یا کلرک۔ اس کےہجور کہنے میں توقیر اور تواضع کی حلاوت تھی، خوشامد یا تصنع کی گراوٹ نہیں۔

موت اور زیست کی گردش نے کتنوں کو بڑا کتنوں کو چھوٹا کتنوں کو یکساں کردیا۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے، موت سے زیادہ ہم سطح کردینے والی دوسری کوئی شے نہیں۔ اس ۳۰- ۳۵ سال میں ہم سے قریب ہم سے دور ہمارے لائے ہوئے کیسے کیسے انقلابات برپا ہوئے۔ نوجوانوں کی کتنی نسلیں اس ادارے سے نکلیں اور زندگی کے چھوٹے بڑے محاربوں میں فتح و شکست سے کس کس طرح دو چار ہوئیں یا ہیں۔ ان سب کو کیسے اور کہاں تک یاد میں سمیٹوں۔ یہ سب ہوتا رہا لیکن کندن کا گھنٹہ بجانا جوں کا توں رہا۔ جیسے اس کا گھنٹہ بجانا یونیورسٹی کے موجود اور معتبر ہونے کا اعلان تھا۔ لیکن ہوا وہی جو بلآخر ہوکر رہتا ہے۔ کندن مرگیا۔ تقدیر کے اس معمول میں فرق نہ آیا۔ زِزندہچوتوئی یازفسق ہمچومنی! اگر یہ ہے اور ہے بھی یہی تو یہ جنگ نامساوی طاقتوں کی ہے جس میں فتح ہمیشہ کمزور کی مانی جائے گی۔

یونیورسٹی کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا۔ مرزا اختر حسین صاحب اسسٹنٹ رجسٹرار تھے جن کے سپرد امتحان کا کام تھا۔ کندن کو انھوں نے اپنا آنریری سکنڈ لفٹنٹ اور کو آڈرٹیگل (کچی پکی پارک) کے سارے مہتروں کا کمپنی کمانڈ مقرر کیا اور کھچیر (ایک بوڑھا مہتر) کو لانس کارپورل (Lance Corporal) ) خواص میں یہ کمپنی Mirza Akhter Husain’s won Fussiliery (مرزا اختر حسین اون فوسیلری) کے لقب سے اور عوام میں کندن کی سفر مینا کے نام سے مشہور ہوئی۔ امتحان کے زمانے میں شروع سے آخر تک یونی ورسٹی میں مرزا صاحب کندن اور یہ سفر مینا پلٹن ایک دوسرے سے جدا یا دور نہیں دیکھی گئی۔

مرزا صاحب ہر کام ضابطے اور اہتمام سے کرنے کے شائق تھے۔ اس زمانے میں امیدوار کم ہوتے تھے۔ جن کے لیے اسٹریچی ہال کافی بڑا ہال تھا لیکن موصوف اس دھوم سے امتحانات منعقد کرتےجیسے نہ صرف امیدوار بلکہ ان کے والدین اور قریبی رشتہ دار سب کے سب شریک ہوجانے کا امکان تھا۔ اسٹریچی ہال کے سامنے سے اس زمانے میں گزرے تواس کے اونچے برآمدے کے صدر دروازے پر مرزا صاحب کھڑے کمانڈ کرتے ہوتے۔ کوٹ کی اوپر کی جیب میں رنگ برنگ کی پنسلیں اس ترتیب سے نظر آتیں جیسے ملٹری منصب کا کوئی امتیازی ربن لگا ہوا ہے۔ کسی پنسل کو جگہ نہ ملی ہوتی تو لبوں میں دبا رکھتے۔ ہاتھ میں رنگین کھریا کے ایک آدھ ٹکڑے بغل میں طرح طرح کی فائلیں۔ اور کاغذ کے پلندے ڈیسک یا کرسی پر یا فائلوں میں جہاں جس قسم کی ضرورت دیکھی کھریا سے نشان لگادیے یا پنسل سے نوٹ لکھ دیے۔ زینے پر کندن اس سے نیچے سڑک پر مہتروں کی ’’سفرمینا‘‘ جاروب بدست و کھرپا دربغل، اٹینشن کھڑی ہوتی۔ کچھ اسی طرح کا نقشہ ہوتا جیسا آج کل قومی جھنڈے کو سلامی دینے کے لیے کوئی نیتا کھڑا ہوا اور دوسرے حسب مراتب نیچے صف آرا ہوں۔ مرزا صاحب کا حکم پاتے ہی کمپنی کمانڈر کندن، سفر مینا کے ایک حصے کو ساتھ لے کر اسٹریچی ہال میں نشستیں ترتیب دینے میں مصروف ہوجاتا، دوسرا ڈیٹچ منٹ (Detachment)اہم پوزیشنوں پر جھاڑو دینے لگتا یا کھاس کھودنے لگتا۔

یہ زمانہ مالی مشکلات کا تھا، یونیورسٹی سے تنخواہ پانے والے معلموں کو پرچہ بنانے یا امتحان کی کاپیوں کے جانچنے کا معاوضہ نہیں ملتا تھا۔ اس کی تلافی مرزا صاحب نے کچھ اس طور پر کی تھی کہ جو لوگ نگرانی کے کام پر مامور ہوں لمونیڈ اور برف ان کی خدمت میں مفت پیش کی جائے۔ اس کا حساب کندن رکھتا تھا۔ اور مرزا صاحب ان اخراجات کی ادائیگی امتحان فنڈ سے کرتے تھے۔ ایک دن آفس پہنچا تو دیکھا کہ مرزا صاحب کندن پر گرج رہے ہیں۔ قصہ یہ تھا کہ ایک صاحب نے نگرانی کے دوران میں ڈیڑھ درجن بوتلیں اور اسی حساب سے برف پی ڈالی تھی۔ مرزا صاحب کندن پر بگڑ رہے تھے کہ تونےیہ صورت حال دیکھی تو مجھے کیوں نہ اطلاع دی، اس طرح تو امتحان فنڈ کا دیوالہ نکل جائے گا، مرزا صاحب کے حضور میں کندن کسی قدر شوخ تھا۔ کہنے لگا ہجور اطلاع کرتا تو پہلے۔۔۔ صاحب کے گھروالوں کو کرتا، آپ کو کرنے سے کیا پھائیدہ تھا! مرزا صاحب نے فوراً اس پرچہ پر بھی سُرخ پنسل سے نشان لگاکر بل پاس کردیا لیکن آئندہ کے لیے یہ رعایت ہمیشہ کے لیے اٹھالی! چواز قومے یکے بے دانشی کردو!

مرزا صاحب نے اندرونی ممتحنوں کے لیے ایک رعایت اور رکھی تھی۔ ہرسال امتحان کی پرانی کاپیوں سے سادے اوراق نکال کر نئی کاپیا بنائی جاتی تھیں۔ ہم میں سے جو لوگ مرزا صاحب کے صحیفۂ خوشنودی میں کوئی ممتاز مقام رکھتے تھے اور موصوف کو یقین دلاچکے ہوتے کہ ہم کو لکھنے پڑھنے کا کام دوسروں سے زیادہ کرنا پڑتا ہے، ان کا موصوف نے منصب یا وثیقہ مقرر کردیا تھا۔ جیسے مغلوں کے ہاں پنچ ہزاری یا سہ ہزاری منصب دار یا نوابان اودھ کے ہاں وثیقے دار ہوتے تھے۔ اسی طرح مرزا صاحب کے ہاں پنچ سیری سے لے کر آدھ سیری تک کے منصب دار ہوتے تھے، یعنی ان کو ہر سال اتنے ہی سیر یا آدھ سیر امتحان کی کاپیوں سے نکالے ہوئے سادے اوراق دیے جاتے تھے۔ بعض اس کو مرزا صاحب کےجلوس شاہی کا یوم تقریب دوسرے اس کو فصل کی تیاری اور بٹائی کا زمانہ قرار دیتے تھے۔

یہ منصب داری یا وثیقہ یابی عظمت الٰہی زبیری کے عہد رجسٹراری تک برقرار رہی۔ اس کے بعد یہ قصہ ختم ہوگیا۔ کندن کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ اوراق تول تول کر بنڈل باندھتا اور ہمارے گھروں پر پہنچادیتا اور ہم سب کی توفیق کے مطابق انعام پاتا۔ کندن یہ بنڈل لے کر آتا تو میں پوچھ لیتا کیوں کندن مرزا صاحب کے حضوری ہماری کارگزاری میں کوئی فرق تو نہیں آیا۔ تول ٹھیک ہے؟ کہتا ہجور بالکل ٹھیک ہے، کھاتر جمع رکھیں۔ ایک دن کندن کی عملداری میں سے گزرا۔ نئی کاپیوں کے لیے پرانی کاپیاں پھاڑی جارہی تھیں۔ پوچھا، کندن ہمارے وثیقے کا کیا ہوا، بولا، ہجور اب نبابی (نوابی) نہیں رہی۔ دوسرے عملداری ہے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں تم تو اپنا وثیقہ وصول کرنے کے لیے نوابی زمانے والوں کے پاس آہی جایا کرو۔

کچھ دنوں بعد مرزا صاحب رجسٹرار ہوکر پٹنے چلے گئے اور امتحانات کے لیے، جہاں تک سیٹیں فراہم کرنے اور ان کو ترتیب دینے کا سوال تھا، کندن کو پورے اختیارات مل گئے۔ امتحانات سے آگے بڑھ کر سرکاری اور غیرسرکاری تقریبوں میں نشستوں کے انتظام کافریضہ بھی رفتہ رفتہ کندن کے حصے میں آگیا۔ اختیارات کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کہیں سے کسی کو تفویض کئے جاتے ہیں، بعض لوگ جوڑ توڑ سے حاصل کرتے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بزم مئے میں کوتاہ دستی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ خود بڑھ کر ہاتھ میں اٹھا لیتے ہیں تو مینا انھیں کا ہوجاتا ہے۔ لیکن کہیں کہیں ایسے اشخاص بھی ملتے ہیں جن کی طرف اختیارات خود کھنچے چلے جاتے ہیں جیسے پانی نشیب کی طرف مائل ہوتا ہے، ان ہی میں سے ایک کندن تھا۔ تقریب کہیں کیسی ہو، وقت کم ہو، مہمانوں کے بیٹھنے کا سامان فراہم کرنے میں کتنی ہی دشواریاں کیوں نہ حائل ہوں، گزشتہ ۳۰- ۴۰ سال سے یہ مہم کندن اس خوبی سے انجام دیتا تھا کہ سب حیران رہ جاتے۔

مسلم یونیورسٹی میں یوں بھی طرح طرح کی جتنی چھوٹی بڑی صاف ستھری تقریبیں ’’صلائے عام‘‘ کے اصول پر منعقد ہوتی رہتی ہیں میرا خیال ہے ہندوستان میں شاید ہی کہیں اور، اتنے سے مختصر رقبے اور آبادی میں جتنی کہ یونیورسٹی کی ہے، ہوتی ہوں۔ یہ اچھا ہے یا برا اس بحث سے قطع نظر واقعہ وہی ہے جو بیان کیا گیا۔ ان تقریبوں سے خوبی کا خرابی کا غالباً وہ تقاضا یا تو ازن نیم شعوری طور پر پورا کرلیا جاتا ہے جو بڑے بڑے شہروں مثلاً دہلی کلکتہ بمبئی وغیرہ کا امتیاز یا آشوب سمجھا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے بڑے عہدہ داروں کی ایک اہم صفت اور ان کی ثبات و صحت و حواس کا قوی ثبوت ایک یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے ایک ہفتہ تک یونیورسٹی کے کھانے پینے کی ساری تقریبوں میں جہاں وہ بالضرور مدعو ہوتے ہیں، خوردونوش کے ساتھ شرکت کی اور اپنے معالج سے سرخرو رہے۔

کسی شعبے یا شعبے کے کسی کمرے میں کتنے ڈسک اور کرسیاں ہیں، کیسی حالت میں ہیں، کتنی ٹوٹ پھوٹ میں آگئیں، ان کے بدلے میں کتنی اور آئیں اور اس کی خبر جتنی کندن کو تھی، خود شعبے کے چپراسی کو نہ تھی۔ امتحان کا کاروبار پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا ہے۔ فرنیچر کی کمی، وقت کی تنگی، کمروں کی کمی ان سب سے نپٹنے کے لیے کندن کی ’’ایک شخصی وزارت‘‘ کا مشورہ اور مدد لازمی تھی۔ کندن ہی بتاسکتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ کتنی نشستوں کا کہاں کہاں کس طرح انتظام ہوسکتا ہے۔ امتحان قریب ہوتا تو ہرشعبہ کے صدر کے نام رجسٹرار آفس سے ایک گشتی مراسلہ آجاتا کہ امتحان کے لیے زیادہ سے زیادہ جتنی کرسی اور ڈسک مہیا کیے جاسکیں، شکر گزاری کے موجب ہوں گے، یہ خط لے کر کندن جاتا۔ پوچھا۔ کندن کیسے کدھر آنکلے؟ ہجور امتحان ہے نہ، کرسی ڈسک چاہئیں۔ بھئی یہ ہمیشہ کا دھندا ہے۔ اس میں ایسا پوچھنا کیا۔ میاں خان (شعبے کا چپراسی) اور تم آپس میں سمجھ لو۔ کندن سامان اٹھوالے جاتا۔ امتحان کےختم ہونے پر ہر کرسی اور ڈسک اسی کمرے میں اسی قرینے سے رکھی ہوئی مل جاتی جس طرح لے جائی گئی تھی۔

شعبہ کے فرنیچر پر نام اور نمبر کااندراج بہت بعد کی چیز ہے، اس سے پہلے ان پر پہچان کا کوئی نشان نہ ہوتا۔ لیکن کندن کے پہچان اور اٹکل کو کیا کہیے کہ ہزاروں میز کرسیوں کو پہچانتا تھا کہ ان کا گھر کہاں ہے، کس خاندان کی ہیں، ان کو وہیں پہنچا دیتا۔ فرنیچر کے گھرانوں (شعبے جات جن کی امانت اور نگہداشت میں وہ فرنیچر تھے) میں کسی کو بھی اس کی شکایت نہیں ہوئی کہ کسی یاترا یا میلے میں اس کا کوئی عزیز غائب ہوگیا یا کسی کو اغوا کرلیا گیا۔

کنووکیشن (جلسہ تقسیم اسناد) کی تقریب عام طور سے ساڑھے گیارہ بجے سے شروع ہوکر ڈیڑھ پونے دوبجے ختم ہوتی ہے۔ اسی پنڈال میں تقریباً اتنے ہی اشخاص کے لیے عصر میں چائے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کنووکیشن کا جلسہ جس نوعیت کا ہوتا ہے جس طریقے سے جیسے گنجان نشستوں کا انتظام کیا جاتا ہے چائے کے لیے اس سے بالکل مختلف ترتیب لازم آتی ہے۔ جلسے میں چھوٹی میزوں کی ضرورت نہیں ہوتی، چائے کے لیے ہوتی ہے۔ پھر ہر میز کے گرد چار یا چھ مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے انتظام۔ تین گھنٹے کے اندر اندر اسی طرح کی صدہا میزوں کا لگانا اور سجانا اور صبح کی ترتیب کو یک لخت بدل دینا آسان کام نہیں ہے۔ دوپہر کے جلسے میں جو حضرات شریک ہوئے تھے، سہ پہر کو چائے پر آئے تو دیکھا کہ سارا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے، جیسے صبح کا جلسہ کہیں اور نہیں تو کسی اور دن ہوا تھا۔ اسی پنڈال میں رات کو مشاعرہ ہونے والا تھا۔ بیٹھنے کا انتظام پھر بدلا جائے گا۔ جیسے دیتے ہوں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔ رات گئے تک یہ ’’ہنگامہ شعر و سخن‘‘ پارہے گا۔ دوسرے دن کندن اور کمپنی تمام میز کرسیاں حسب معمول اپنی اپنی جگہ پر پہنچادیں گے۔

جلالتہ الملک شاہ سعود اور اعلیٰ حضرت شہنشاہ ایران کے مختلف اوقات میں درود کی تقریبیں لوگوں کو یاد ہوں گی۔ چھ سات ہزار نشستوں کا انتظام اس میدان میں کیا گیا تھا۔ جسمیں اب یونیورسٹی لائبریری کی نئی عالی شان عمارت کھڑی ہے، یہیں ان کو اعزازی ڈگریاں دی گئی تھیں۔ سہ پہر کی چائے کا انتظام ایک دفعہ کرکٹ ،دوسری بار سوئمنگ باتھ لانس پر کیا گیا تھا، دونوں تقریبوں میں حسب معمول مشکل سے تین گھنٹے کا فصل تھا۔ پنڈال کا تقریباً تمام فرنیچر اتنے ہی عرصہ میں منتقل کرکے پلان کے مطابق ترتیب دینا کندن اور اس کے رفقا کا کام تھا۔

اس کے بعد اتنی بڑی پارٹی کو سجانے اور کھانے پینے کی اشیاء کو حسب منشاء میزوں پر چن دینا دوسرے کندنوں کا کام تھا۔ انھوں نے ان پارٹیوں کاانتظام حسب معمول اس خوش اسلوبی سے کیا جیسے معلوم نہیں کتنی دیر پہلے سے وہ اس اہتمام میں مصروف تھے، اور معلوم نہیں کیسے اور کہاں انھوں نےاس فن میں دستگاہ پیدا کی تھی۔ علی گڑھ میں ہر فن مولانہیں تو ہرفن کے مولا مل جائیں گے جو اپنی اپنی وادی کے مسلمہ طور پر امام مانے جاتے ہیں اور کام کتنا ہی دشوار اور بڑا کیوں نہ ہو اس کو اس خوش اسلوبی سے اتنا جلد انجام دیں گے جیسے ان کے پاس جادو کی کوئی چھڑی ہو یا موکل قبضے میں ہو۔

یونیورسٹی میں نجی تقریبیں بھی چھوٹے بڑے پیمانے پر ہوا کرتی ہیں۔ نشستوں کے لیے میز کرسی کی فراہمی کا انتظام کندن کے سپرد ہوتا تھا۔ بڑے سے بڑے پیمانے پر جتنی جلدی اور جس خوبی سے وہ یہ سب انتظام کردیتا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا فرنیچر صحیح و سالم اپنی اپنی جگہ پر واپس پہنچا دیتا وہ صرف اسی کے بس کی بات تھی۔ چیخ پکار نہ دوڑ دھوپ نہ تو تکار، کام اس طرح انجام پاتا جیسے کام کیا نہیں جارہا ہے بلکہ خود ہوتا جارہا ہے جیسے دن رات کا تواتر۔ ساتھی کام کرنے والوں کا جتنا پکا تعاون کندن کو نصیب تھا کم دیکھنے میں آیا۔ کبھی بعض ممبران اسٹاف کو کہیں سے فرنیچر منگانے یا ملنے میں نزاکتوں کا سامنا ہوتا، یہ مرحلہ کندن بڑی آسانی سے طے کرلیتا، اس کا کسی شعبہ میں جاکر محض یہ کہہ دینا کافی ہوتا تھا کہ فلاں صاحب کے ہاں فلاں تقریب ہے، فرنیچر چاہیے۔ اس کہنے کو کوئی نہیں ٹالتا تھا۔ حجت یا ٹال مٹول تو اس سے کی جاتی جس کے ہاں تقریب تھی۔ لیکن مانگنے والا تو کندن تھا۔ وہ ہر ایک کی خدمت کرچکا تھا، اس کو کون نہ مانتا۔

میرا خیال ہے کندن شاید اس سے زیادہ نہیں جانتا تھا کہ ٹوٹے پھوٹے ہندی رسم خط میں کچھ ہندسے یا ایک آدھ عبارت نوٹ کرلیتا ہو لیکن اس کی اٹکل اور قوت حافظہ غیرمعمولی تھی۔ اپنے کاموں کے علاوہ مدتوں وہ امتحان کے دفتر میں بہت سے کام انجام دیتا رہا۔ اس دفتر میں کام کرنے کی ذمہ داری ہر شخص کے سپرد نہیں کی جاسکتی تاوقتیکہ اس پر کامل بھروسہ نہ ہو۔ کندن کی ایمانداری اور راست بازی ہرشخص کے نزدیک اتنی مسلم اور مستحکم تھی کہ امتحان کے دفتر ہی کا نہیں دوسرے سرکاری نیم سرکاری اور پرائیوٹ کام بے تکلف سپرد کردئے جاتے تھے۔ کندن کے بیان پر کوئی جرح نہیں کرتا تھا۔ وہ جو کہہ دیتا لوگ مان لیتے۔ دفتر نے ایک بار بالکل نئی سرکاری بائیسکل پر اسے بینک یا سنٹرل پوسٹ آفس کسی ضروری کام سے بھیجا۔ کندن نے آکر بتایا کہ سائیکل کوئی اٹھا لے گیا۔ اس کی اطلاع تو احتیاطاً پولیس کو کردی گئی لیکن یونیورسٹی میں کسی نے کندن سے سوال جواب نہیں کیا۔ یہ بات مان لی گئی کہ سائیکل چوری ہوگئی اور بس۔

امتحان کے کاپیوں کا ایک بنڈل کسی ممتحن کے پتے پر باہر بھیجا گیا، کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ممتحن کو وہ پارسل نہیں ملا۔ وہاں کے ریلوے کے دفتر سے پوچھا گیا تو جواب آیا کہ پارسل سرے سے وصول ہی نہیں ہوا، یہ بہت بڑا اسٹیشن تھا، جہاں کے گودام میں پارسلوں کی ایسی کثرت ہوتی ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہوجائے تو کسی خاص پارسل تک رسائی ناممکن ہوجاتی ہے۔

اس مہم پر کندن کو مامور کیا گیا۔ اس نے جاکر اسٹیشن پر ادھر ادھر دریافت کیا۔ بابوؤں نے جیسا کہ ان کا قاعدہ ہے کبھی انکار کیا، کبھی ٹالنا چاہا، بالآخر کندن نے وہ تیور اور لہجہ اختیار کیا جو کبھی کبھی بہ درجہ مجبوری وہ یہاں اپنی سفر مینا کے بعض ممبروں سے اختیار کرتا تھا۔ اور کہا کہ پارسل گھر میں لے چلو میں خود تلاش کرلوں گا۔ یہ آفر یا چیلنج ان کو قبول کرناپڑا۔ اس نے جاکر پارسلوں کے جنگل میں سے اپنا پارسل پہچان کر نکال لیا۔ امتحان کا زمانہ تھا، امتحان ہی کے طرح طرح کے بے شمار دوسرے پارسلوں کے علاوہ یکساں رنگ کے معلوم نہیں کتنے اور پارسل کہاں کہاں سے آئے ہوئے تلے اوپر گڈمڈ رکھے ہوں گے۔ انھیں سے کندن کا اپنے پارسل کو دریافت کرلینا کتنے اچنبھے کی بات ہے۔

۱۹۴۷ کی قیامت برپا تھی۔ علی گڑھ کے نواح میں قتل غارت گری کی جیسی ہوش ربا خبریں آتی تھیں اور ہر طرف مایوس اور درماندگی کا جو عالم طاری تھا اس کا اندازہ کچھ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس زمانے میں یہاں تھے۔ کندن کا مکان دودھ پور میں تھا۔ جو یونیورسٹی سے ملا ہوا ایک مختصر سے گاؤں کی شکل میں اس سڑک کے ہر دو طرف آباد ہے جو یونیورسٹی فارم کو چلی گئی۔ یونیورسٹی کھلی ہوتی تو تقریباً ہر روز کندن سے دوچار ہونے کا اتفاق ہوجاتا۔ پوچھتا کہو کندن کب تک یہ خون خرابا رہے گا۔ گاؤں میں کیا خبر ہے، کندن سرجھکا لیتا جیسے ندامت اور رنج کے بوجھ سے دبا جارہا ہو۔ کہتا ہجور کالج پر سید صاحب کی دعا ہے۔ سب کھیریت رہے گی۔ کالج کا بڑا نمک کھایا ہے، پرمیسر لاج رکھ لے! اس زمانے میں میں نے کندن سے زیادہ مضطرب یونیورسٹی میں کسی اور ہندو کو نہ پایا، جیسے واقعی وہ اپنے آپ کو ’’سید صاحب‘‘ کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہو۔

اس زمانے میں یونیورسٹی کے ایک مسلمان گھرانے کے بچے دہلی کے ایک ایسے محلے میں گھر گئے جہاں حادثے وقوع میں آرہے تھے۔ نہ کوئی جاسکتا تھا نہ وہاں سے کوئی باہر نکل سکتا تھا۔ کسی طرح کی مدد کہیں سے پہنچانے کی سبیل نہیں نکلتی تھی۔ علی گڑھ میں خاندان والے جس بے قراری کے عالم میں تھے، وہ بیان سے باہر ہے۔ اس واقعے کا علم کندن کو ہوا تو اس نے بے تکلف اپنی خدمات پیش کردیں، صورت حال ایسی تھی کہ اس مہم میں خود کندن کی جان کا خطرہ کچھ کم نہ تھا لیکن اس نے اس پر بالکل دھیان نہیں دیا۔ اتا پتا دریافت کیا اور بے محابا دلّی کی آگ میں کود پڑا۔ سب کو نکالا اور بہ حفاظت تمام علی گڑھ لاکر ان کے گھر پہنچادیا۔ کیسے کیسے خطرات کا کس دلیری اور عقلمندی سے کہاں کہاں اس نے مقابلہ کیا اس کا ذکر اس نے خود کبھی نہیں کیا لیکن جن کو چھڑالایا تھا وہ بتاتے تھے کہ کندن پر کب کیا گزری۔

کندن نے اس یونیورسٹی میں اپنے تمام چھوٹے بڑے ہم مذہبوں کی طرف سے یہ خدمت ایسی انجام دی ہے جس کو بھلایا نہیں جاسکتا اور وہ لوگ تو خاص طور پر نہیں بھول سکتے جن پر وہ زمانہ گزرا ہے۔ بڑے آدمی چھوٹی بات کرکے بھی بڑے بنے رہتے ہیں۔ چھوٹا آدمی بڑے کام کرکے بھی چھوٹا ہی رہ جاتا ہے۔ اسے کیا کہیے یا کہہ کر کوئی کیا کرے گا۔

عرصے بعد حالات کچھ راہ پر آئے تو ایک دن یونیورسٹی میں صدا سنائی دی کہ قلندروں نے کندن کو دودھ پور کا راج پرمکھ قرار دے دیا۔ پوچھا، کیوں کندن چپکے چپکے راج پرمکھ بن گئے، خبر نہ کی۔ بولا ہجور، یہ لڑکے ہیں نا جب چاہیں خود راج پرمکھ بن جائیں۔ جب چاہیں دوسرے کو بنادیں۔ ان کا کیا؟

اسٹریچی ہال کے دائیں بائیں زینے دار دو راستے ہیں جن کے سروں پر عالی شان کھلے محرابی دروازے ہیں جن سے سید محمود اور سرسید کورٹ میں آمدو رفت رہتی ہے۔ ان راستوں سے متوازی آمنے سامنے سہ دریاں ہیں جن کے پہلو میں ایک ایک کوٹھری ہے۔ ان میں سے ایک کندن کے قبضے میں تھی۔ معلوم نہیں کب سے۔ یونیورسٹی کھلی ہو ادھر سے گزرے تو کندن اکثر سہ دری میں بیٹھا بیڑی پیتا یا کسی سے بات کرتا ملتا۔ اسٹاف کا کوئی ممبر ہو یا آفس کا کوئی عہدہ دار، دیکھ کر فوراً کھڑا ہوجاتا، سلام کرتا مزاج پوچھتا، کبھی کبھی یہ بھی پوچھ لیتا کہ کوئی خدمت ہو تو وہ بجالانے پر تیار تھا۔ جب تک دروازے سے گزر نہ جائیں کھڑا رہتا۔ تکریم کے خیال سے بھی اور شاید ذمہ داری کے اس تقاضے کے بناپر بھی جس کا ممکن ہے نیم شعوری طور پر احساس ہو کہ اس کی عملداری سے آپ خیریت سے خوش خوش گزرجائیں۔

عمر ستر کے لگ بھگ رہی ہوگی۔ شکل سے پچاس سے زیادہ کا معلوم نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی اس طرح کااحساس بھی ہوا جیسے کندن کی عمر ایک خاص حد پر آکر ٹھہر گئی ہو۔ کم سے کم مجھے اس کے قوی شکل و صورت اور فتار و گفتار میں عرصے سے نمایاں تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ ممکن ہے جسے روز دیکھتے اور عزیز رکھتے ہوں وہ ایسا ہی معلوم ہوتا ہو۔

درمیانہ قد، گندمی رنگ، پتلا نقشہ، معمولی جثہ، مضبوط جسم، گھنٹے ہی کی طرح بجتی ہوئی پاٹ دار آواز، چہرہ بشرہ شریفانہ اور مردانہ۔ کس بلا کا مستعد اور محنتی یہ شخص تھا۔ نہ دن دیکھتا نہ رات، نہ سردی نہ گرمی، نہ بارش۔ کبھی کوئی کہتا، کندن بوڑھے ہو اتنی محنت نہ کیا کر تو وہی کلمہ دہرا دیتا جو اس کا تکیہ کلام سا بن گیا تھا یعنی ’’ہجور کالج کا نمک کھایا ہے۔ پرمیشر نباہ دے۔‘‘

یونیورسٹی کی دی ہوئی وردی خاکی یا بھورے رنگ کا کوٹ کبھی پاجامہ کبھی دھوتی پہنے اپنی عملداری میں وکٹوریا گیٹ سے لے کر باب اسحٰق تک گشت لگاتا رہتا۔ آج وہ فضا ان لوگوں کو کتنی سونی اور سوگوار معلوم ہوتی ہوگی جنھوں نے ۳۰- ۳۵ سال تک مسلسل کندن کو کام کرتے اور اس نواح میں چلتے پھرتے دیکھا تھا۔ اور اس کی موجودگی کو یونیورسٹی کے اہم اور غیر منقطع معمولات سے تعبیر کرنے کے عادی ہوچکے تھے۔

ایک دن میں نے کہا کندن تم اپنے اس بارہ ماسی یونی فارم (بھورے کوٹ) میں خاص طور سے جب اپنی پلٹن کے ساتھ کام پر ہوتے ہو تو نیپولین جیسے معلوم ہوتے ہو۔ نیپولین کو جانتے ہو کون تھا۔ بولا، میں جاہل کیا جانوں۔ میں نے کہا ہسٹری ڈپارٹمنٹ تمہارے سائے میں بسا ہوا ہے، کسی دن وہاں پوچھ آنا۔ ایک زمانے میں کالے کوسوں دور ولایت میں تمہارے ہی طرح وہ بھی گھنٹے بجاتا رہتا اور کلاس کے طالب علموں کی طرح وہاں کے لوگوں اور وہاں کی راجدھانیاں الٹ پلٹ ہوتی رہتیں۔

آخر زمانے میں کندن نے اپنے لیے ایک بڑا اور اچھا سا گھر بنوانا شروع کردیا تھا۔ ’’کالج کا نمک کھانے کا‘‘ ایک تصرف یہ بھی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص چاہے وہ منصب یا دولت کے اعتبار سے چھوٹا ہو یا بڑا تقریب منانے، تعلیم دلانے اور مکان بنانے کا منصوبہ بڑے ہی پیمانے پر باندھتا ہے۔ ستم یہ کہ اپنا ہی نہیں دوسرے کا کام بھی ا سی پیمانے پر کرنے کرانے یا دیکھنے کا جی چاہتا ہے۔ اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے لیکن اب تک اس ’’حرکت‘‘ سے کسی کو باز آتےنہیں دیکھا گیا۔

کندن کی نظر اور نگرانی میں سرسید کی بنائی ہوئی عمارتیں رہیں۔ اسٹریچی ہال کا وہ تنہا تمام عمر کلید بردار رہا، یہ مضبوط شاندار تاریخی عمارتیں اس کے ذہن و دماغ پر مستولی تھیں، زندگی بھر وہ انہی عمارتوں میں بیدار رہا۔ کالج کی تمام تقریبوں کی بساط وہی بچھاتا۔ ظاہر ہے ان عوامل کا اثر اس کے فکر و عمل پر کیسا پڑا ہوگا۔ ’’کالج کا نمک کھانے‘‘ کا ایک اور اثر بھی ہے، سب اثروں سے زیادہ کاری اور خطرناک جو کندن کیا وقت پر سبھی بھول جاتے ہیں یا خاطر میں نہیں لاتے، وہ یہ کہ جتنا بڑا منصوبہ ذہن میں آتا ہے اس کو پورا کرنے کے وسائل اتنے ہی محدود ہوتے ہیں۔ کندن بھی اسی تقدیر کا شکار ہوا۔

تعمیر کے اخراجات آمدنی کی رفتار اور مقدار سے دن بہ دن تیزی سے بڑھنے لگے۔ اسی اعتبار سے فکر اور پریشانی میں اضافہ ہوا۔ اس کے قریب جو لوگ تھے، ان کا بیان ہے کہ اس تعمیر کے چکر میں کندن ادھ موا ہوگیا تھا۔ اقربا کی بے مہری اور سخت گیری نے بقیہ کمی بھی پوری کردی۔ ایسے میں ایسا ضرور ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ناقابلِ تسخیر کندن نے کہاں پہنچ کر شکست قبول کی۔ شاید کندن کو بچایا جاسکتا تھا۔

کندن کے بارے میں جیسے خیالات ذہن میں آئے اور جس طرح کے جذبات امڈے ان کی قدر و قیمت کا اندازہ اس طرح کرسکتے ہیں کہ اس کی جن باتوں سے اور مدت العمر کی غیر منقطع وفا شعاری اور فرض شناسی سے جو تاثرات ایک نارمل شخص کے دل میں بے اختیار طاری ہوجاتے ہیں ان کو روکا جاسکتا ہے یا ان سے روگردانی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں کی جاسکتی تو آج بالکل دنیا کا چاہے جیسا رنگ ڈھنگ ہو کندن کی یاد تازہ رہے گی۔ ہم میں بہت سے ایسے ہوں گے بالخصوص نووارد جو اس سے واقف نہ ہوں گے، وہ تو خیر گھنٹہ بجانے والا ایک معمولی شخص تھا۔ یہ ادارہ اب اتنا پھیل گیا ہے اور پھیلتا جارہا ہے کہ خود اسٹاف کے بہت سے اراکین آج یا کل ایک دوسرے سے واقف نہ ہوپائیں گے۔ اس صورت حال پر ماتم کرنا ثواب کا کام نہیں ہے، لیکن اس کو کیا کیجیے کہ جب تک ہم ’’گزشتہ سے پیوستہ‘‘ میں گزشتہ کا ذکر خیر ایک ایسی روایت ہے (اور یہی ایسی روایت ہے) جو نہ اب تک بدلی ہے نہ کبھی بدلے گی۔

آج کی دنیا میں یہ بات خاص طور پر دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ اتنی دیر تک نئی نہیں رہتی جتنی جلد پرانی ہوجاتی ہے، یہ سائنس کے نت نئے انکشافات اور ایجادات کا کرشمہ ہے۔ پرانی دنیا میں زیادہ دیر تک پرانی بنے رہنے کی صلاحیت تھی۔ پرانی دنیا کی یہ بات قابلِ فخر ہے یا نئی دنیا کی وہ، اس پر یہاں کون بحث کرے۔ قابلِ لحاظ اور قابلِ فخر تو وہ شخصیتیں ہیں جو نئی پرانی کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ایسی ہی ایک شخصیت کندن کی تھی۔

اگلا
ان کی گول چھدری داڑھی، ان کی باریک آواز، ان کی چھوٹے تال کی عینک، بغیر پھندنے کی ترکی ٹوپی، گھسی پسی چپل، موزوں سے کوئی سروکار نہیں، موٹے کھدّر کی ملگجی پیوند لگی کاواک سی شیروانی جس کےاکثر بٹن ٹوٹے یا غائب، ہاتھ میں بدرنگ ساجوٹ کاایک جھولا، دری تکیہ اور موٹی چادر، مختصر بستر، ٹیڑھا میڑھا پرانا چھوٹا سا ایک ٹرنک اور تاملوٹ، یہ تھے حسرت۔

لیکن کس قیامت کا یہ آدمی تھا۔ محشرِ خیال نہیں محشر عمل۔ جس بات کو اپنے نزدیک حق سمجھتاتھا اس کو کسی بغیر تامل کے، بغیر گھٹائے بڑھائے، بغیر ہموار کیے بغیر مصلحت یا موقع کا انتظار کیے، بے ساختہ زبان، بغیر پلک جھپکائے، مخاطب افلاطون ہو یا فرعون، اس کے سامنے کہہ ڈالنا حسرت کے لیے معمولی بات تھی۔ ایسا نڈر، سچا، محبت کرنے والا اور محبت کا گیت گانے والا اب کہاں سے آئے گا۔ کسی سے نہ دبنے والا، ہر شخص پر شفقت کرنے والا، زبان کا فیاض، شاعروں کا والی، غزل کا امام، ادب کاخدمت گزار۔ کیسی سچی بات ایک عزیز نے کہی کہ “سا ست کوئلہ کا کاروبار ہے جس مںا سبھی کا ہاتھ اور بہتوں کا منھ کالا ہوتا ہے سوائے حسرت کے”۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930