ہنسوں میں بٹی زندگی ۔۔۔محمد جمیل اختر تبصرہ ۔۔ راشد جاوید احمد

ہندسوں میں بٹی زندگی

محمد جمیل اختر

تبصرہ :: راشد جاوید احمد

زیر نظر کتاب، افسانوں اور مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے اور اسکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی جگادری ادیب یا  معروف افسانہ نگار کا کوئی فلیپ یا رائے شامل نہیں۔ مصنف نے چھ سطروں کے  پیش لفظ میں بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ کتاب کے بیک کور پر چند تعارفی سطریں تحریر ہیں جو غالب امکان ہے کہ پبلشر کی طرف سے ہیں۔

محمد جمیل اختر کی اس کتاب میں 20 افسانے اور 25 کے لگ بھگ مختصر کہانیاں ہیں۔ مصنف نے ان کو مایئکرو فکشن کا نام نہیں دیا اور اچھا کیا کہ فکشن کی یہ صنف ابھی کلی طور پر اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔ کتاب کا سر ورق بہت خوبصورت اور سادہ لیکن دیدہ زیب ہے اور بک شیلف پر پڑی کتاب آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہے۔

محمد جمیل اختر کا نام میرے لیے نامانوس تھا ( مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے)۔ ایک فورم پر مجھے ان کا ایک افسانہ پڑھنے کا موقع ملا۔ وہ افسانہ اس قدر مکمل افسانہ تھا کہ میں نے مزید افسانوں کی تلاش میں انکی یہ کتاب خرید لی۔ ان بیس افسانوں میں پہلا افسانہ ” یاد داشت کی تلاش میں” ہے اور بیسواں افسانہ ” نیند، خوف اور بازی گر” ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک افسانہ ہے۔ ان افسانوں کی تلاوت کے بعد میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ جمیل اختر کا دماغ تخلیقی صلاحیت سے بھرپور ہے۔ ان کا یہ کام اس قدر معیاری ہے کہ ان کا قد کاٹھ موجودہ دور کے نامور فکش نگاروں میں ہونا چاہیئے۔وہ مطالعہ اور مشاہدے کی دولت سے اس قدر مالا مال ہیں کہ ” ہندسوں میں بٹی زندگی” کے باوجود فکری طور پر قلاش نہیں۔ انکی ہر کہانی، عام لوگوں کی کہانی ہے اور ہر کہانی بھرپور اور دلچسپ ہے۔ کہانی کی زبان نہ تو جناتی قسم کی ہے اور نہ ہی قاری کو کسی فلسفے کی گتھیاں سلجھانے میں الجھاتی ہیں۔

محمد جمیل اخر کی یہ کہانیاں سماجی المیوں کی سماجی منظر کشی کرتی ہیں اور سادہ انداز اور کہانی پر مکمل گرفت، قاری کو اپنے بہاو میں لیے چلتی ہیں۔ بعض کہانیوں جیسے کہ ” بندوق موجد کی کہانی “۔ ” ہایئبر نیشن کا متلاشی نوجوان” ۔ ڈسٹ بن سے جھانکتی زندگی ” میں علامتی انداز نمایاں ہے لیکن عام قاری تک بات گہرائی سے پہنچتی ہے اور اسکے اپنے شعور میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

” مسکراتے شہر کا اداس آدمی “۔ ” وہ جو آدمی تھا “۔ نیند میں چلتا ہوا شہر ” ۔ “سات منٹ کی زندگی” ایسی کہانیاں ہیں جو واقعات پر مشتمل ہیں ۔ یہ حقیقت نگاری ہے لیکن  ایسی نہیں کہ جو سامنے آیا من وعن پیش کر دیا بلکہ ان میں زندگی کی پوری پوری عکاسی اور تصویر کشی ہے۔ ان کہانیوں میں کچلے ہوئے عوام اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ انسانوں کے درمیان جو اونچی دیواریں کھڑی ہو چکی ہیں ان کو مسمار کرنے کا درس ہے اور یہ درس کہانیوں کی زبان میں چھپا ہے، کسی مبلغ یا پر جوش خطیب کی مانند واویلا نہیں۔

محمد جمیل اختر کی “مختصر کہانیاں ” بھی افسانوں کی لو لیے ہوئے ہیں۔ یہ کہانیاں خاصی مختصر ہیں لیکن ان میں بہر حال ایک کہانی پن موجود ہے۔ ان کہانیوں میں صرف واقعا ت ہی نہیں بلکہ مصنف کے تجربات اور مشاہدات کی پوری جھلک نظر آتی ہے۔ روایتی پلاٹ، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، سراپا نگاری کے برعکس جمیل اختر کا اپنا کرافٹ نمایاں ہے اور یہ کرافٹ بھی کسی درس گاہ یا افسانہ یونیورسٹی سے حاصل کیا ہوا نہیں بلکہ اسکی اپنی ہندسوں میں بٹی زندگی سے کشید کیا ہوا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ  کہانی  جمیل اختر کے دماغ میں کسی بیج کی طرح  جگہ پکڑتی  ہے اور پھر  پکے ہوئے پھل  کی مانند  باہر آتی ہے۔ مجھے ان کہانیوں میں کہیں بھی وہ مشقت اور کوشش نظر نہیں آئی جو اکثر کہانی نگار، کہانی کو  بنانے سنوارنے  میں صرف کرتے ہیں۔ یہ کہانیاں خود رو پھول اور کانٹوں کی مانند ہیں۔  جمیل اخترکے مشاہدات اور نظر کے زاویوں کی وسعت اور گہرائی انکے بعض پیش رووں سے اور ہم عصر افسانہ نگاروں سے کہیں زیادہ ہے  ۔ موجودہ دور میں اردو افسانے کو جمیل اختر جیسے دو چار افسانہ نگار اور مل جایئں  تو جدید افسانہ ترقی کی بلندیوں پر گامزن ہو۔

انسان اور زندگی کے اہم ترین موضوع کو اپنے اسلوب میں پیش کرنا، محمد جمیل اختر، لائق تحسین ہے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

December 2020
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: