کہانی سفر میں ہے :: ثمینہ سید :: تبصرہ:: راشد جاوید احمد

کہانی سفر میں ہے

ثمینہ سید

تبصرہ کار:: راشد جاوید احمد

کہانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان۔جب ایک انسان نے اپنے دکھ سکھ میں دوسرے انسان کو شریک کرنا چاہا تو اسے زبان کا سہارا لینا پڑا  اور پھر قلم کی ایجاد نے زبان کی جگہ لے لی اور خوب لی کہ زبان سے ادا شدہ لفظ ، سننے والا، کچھ بھی سمجھ سکتا ہے لیکن لکھا ہوا لفظ تو تبدیل نہیں ہو سکتا۔ میں یہاں کہانی یا افسانے کی تاریخ  بیان نہیں کروں گا کہ اس پر بہت کچھ اور بہت اعلی پیمانے پر لکھا جا چکا ہے اس لئے افسانوں کی اس کتاب کی طرف آوں گا جو حال ہی میں مجھے پڑھنے کو ملی۔

” کہانی سفر میں ہے ” اس میں اٹھارہ کہانیاں ہیں۔یہ افسانے تکنیکی اعتبار سے بیانیہ ہیں لیکن کہیں کہیں کرداروں کا ڈوب کر مطالعہ کرنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ کہانی کے اس سفر میں سماجی اور معاشرتی زندگی کی جھلکیاں ہی نہیں آج کا سارا سماج اور معاشرت نظر آتی ہے کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویریں اور زندہ حقائق ہیں۔  ان کہانیوں میں معاشرتی رویوں کی ناہمواریوں کا کینوس خاصا وسیعؑ نظر آتا ہے۔ زمانے کی ہوس ناکی کا نشانہ بنا انسان اندر ہی اندر کہاں کہاں مرتا اور ٹوٹتا ہے، عزت اور شرافت کا بھرم رکھنے کے لیے وہ کن اذیتوں سے گزرتا ہے، اس سب کی ایک قبیح صورت ہے ان کہانیوں میں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار خود بھی ان کہانیوں کا کوئی کردار ہے۔

ان افسانوں کے موضوعات میں گھر، گھر کے ماحول، تعلق داریوں، انسانی ہمدردی اور خلوض کے جذبوں کی بھی تفصیل ملتی ہے۔ عداوتیں ہیں، رقابتیں ہیں، جن کا رشتہ کہیں معاشی مسائل سے ہے تو کہیں سماجی بے راہ روی سے۔ ذمہ داریوں اور پریشانیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے گھر، متوسط طبقے کی خواتین اور انکے مسائل ان افسانوں کے بنیادی موضوعات ہیں۔ حقیقی زندگی، تلخ تجربات اور ایک عام انسان کی روز مرہ مشکلات مصنف کی  فکری رو کے ساتھ بندھی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ثمینہ سید اپنے ارد گرد میں ہر طرف قول و فعل میں تضاد دیکھتی ہیں تو بے یقینی اور بد اعتمادی کے پھوٹتے سوتے، انہیں کچھ سوچنے اور پھر سوچ کو تحریر میں ڈھالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ اس کا کھلم کھلا اظہار بھی کرتی ہیں لیکن چونکہ وہ اس سسٹم کو تبدیل نہیں کر سکتیں، اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ کہانی لکھنے کے بعد نڈھال بھی ضرور ہوتی ہوں گی۔ سماج میں ناہمواری اور بے اعتدالی کا جنم تب ہوتا ہے جب ہر طرح کی صورت حال کو ہمارا اجتماعی طرزاحساس قبول کرتا رہتا ہے، ایک افسانہ نگار یا ادیب اس سے لا تعلق نہیں رہ سکتا تو پھر وہ ایسی کہانیوں کی تخلیق میں پناہ ڈھونڈتا ہے جو اس مجموعے میں ہیں۔ ثمینہ سید کی ان کہانیوں میں ان متضاد رویوں کی باز گشت بہت بلند آواز میں سنائی دیتی ہے جو ہماری معاشرتی زندگی کو دیمک کی مانند چاٹ رہے ہیں۔ ان کہانیوں کا سماج، جائے پناہ نہیں، جائے عبرت ہے۔

ان کہانیوں کے کردار تخیلاتی نہیں بلکہ اسی زمین سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی تما تر خوبیوں اور خامیوں سمیت جلوہ گر ہیں۔ کہانیوں کی ڈکشن سادہ مگر پر اثر ہے۔ ” ہم کہاں کے سچے تھے”، میں طاہرہ”، دوغلی”، ہاتھ میرے خالی”، رنگ رسیا”  افسانہ نگار کے  شعور اور مشاہدے کی عکاس کہانیاں ہیں۔ ” گوٹے والا سوٹ” اور ” خوشیاں ٹی سٹال” اس مجموعے کی بہتریں کہانیاں ہیں۔

میں خود افسانہ لکھنے کی مشق کر رہا ہوں تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ثمینہ سید کو اپنی اگلے افسانوی مجموعے کے لیے کچھ نئے موضوعات پر توجہ دینا چاہیئے اور تحریر میں کچھ، مقصد،کچھ  احتجاج کا عنصر شامل کرنا چاہیئے تاکہ وہ کہانی کے اس سفر میں ، ریگستان میں چلتے چلتے پانی کے سراب میں صحرا میں نہ بھٹک جایئں۔وہ اپنے منفرد طرز تحریر اور طاقتور قلم سے ایسی کہانیاں تخلیق کر سکتی ہیں جو قاری کے لیے گواہی اور شہادت کا مقام رکھیں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: