تیرہواں آدمی ۔۔۔ رضیہ فصیح احمد

تیرہواں آدمی

(رضیہ فصیح احمد)

یقین آنے والی بات نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں اس شہر بنام کی بسوں میں ایک آدمی بھی کھڑا نہ ہوتا تھا- سب بیٹھ کر سفر کرتے تھے- مسافروں میں کبھی دنگا فساد نہ ہوا تھا- مسافروں اور کنڈکٹر میں تو تو میں میں نہ ہوئی تھی- مسافروں اور کنڈکٹروں کا رشتہ ایسا تھا جیسے کہ ایک اچھے شہر میں شہریوں کا ہونا چاہیے–

مگر پھر یہ ہوا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے اس شہر میںرفتہ رفتہ بسیں کم ہوتی گئیں- مسافر بڑھنے لگے اور سواریوں کی کمی کا مسئلہ شروع ہوا– لوگ دفتروں سے دس پندرہ منٹ لیٹ ہونے لگے تو تشویش کا آغاز ہوا- شہریوں کی زبانوں پر عام شکایات ، اخباروں میں خطوط اور محکمے کے نام آنے والی عرضیوں کے بعد ایک بلند سطح کی کانفرنس بٹھائی گئی- بسوں کی کمی اور مسافروں کیتکالیف کا مسئلہ سامنے لایا گیا- عام خیال تھا کہ ضرورت واقعی ہے اور مسئلہ سنگین ہے-اور اس کا فوری حل ہر حال میں دریافت ہونا چاھئے- چنانچہ کئی سوبسوں کی درآمد کی تجویز منظور ہونے ہی والی تھی کہ ایک ماہرحسابیات جو آدھے  زمین سے اوپر اور آدھے اندر تھے بول اٹھے

“صاحب- اگر اجازت ہو تو میں کچھ عرض کروں۔”

“فرمائیے-” صاحب صدر نے کہا

جناب والا- حساب کی رو سے اتنے لوگ بسوں میں سفرکرتے ہیں اور بسیں اتنی ہیں۔چناچہ اگر ہر بس میں فقط آٹھ آدمیوں کو کھڑے ہونے کی اجازت دے دی جائے تو بات بن سکتی ہے- ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک بس چلتی بس میں 8 آدمی زیادہ سفر کرسکتے ہیں نو حساب کی رو سے کوئی بھی آدمی بس سٹینڈ پر انتظار نہ کرے گا-اور اس طرح ہمارا زرمبادلہ  —- قیمتی زر مبادلہ  جو کسی پیداواری قوت میں اضافہ کرنے والی مشین پر خرچ کیا جا سکتا ہے، بچ جائے گا-یہ میری چھوٹی سی ذاتی رائے ہے۔”

“وا ہ واہ- تو آپ پہلے کیوں نہ بولے –اس میں توکچھ جان نظر آتی ہے ۔”صاحب کرسی نے کہا-

ہر ایسی تجویز جس میں زرمبادلہ بچتا یا صرف اس کی ذات پر خرچ ہوتا ہو حکومت کے ہر افسر کو بڑی جاندار نظر آتی ہے -جب اس تجویز کو دوبارہ صاحب کرسی نے اپنے الفاظ میں ایک کمیٹی کے سامنے پیش کیا تو جن لوگوں کو یہ پہلے یہ مردہ نظر آئی تھی انہیں بھی اس میں جان پڑتی نظر آئی اور تھوڑی ہی دیر کی بحث و تمحیص کے بعد مردہ زندہ ہوگیا-

سب نے اس تجویز پر صاد کردیا- زرمبادلہ کی بچت کی فوری خوشی میں- بھاری چائے پی گئی اور ضروری کاروائی کے بعد یہ حکم نامہ جاری کردیا گیا کہ  بحکم سرکار شہر گمنام کی ہر بس میں آٹھ آدمیوں کو کھڑے ہونے کی اجازت ہے- کنڈکٹر کا فرض ہے کہ وہ آٹھ سے زیادہ آدمی بس میں کھڑے نہ ہونے دے کہ وہ امن عامہ کے لیے خطرہ اورحادثے کا سبب ہو سکتے ہیں۔

– دوسرا دن وہ پہلا تاریخی دن تھا جس میں شہر گمنام میں لوگ بسوں میں کھڑے ہوئے اور جب بھی کنڈکٹر نے گنا وہ آٹھ سے زیادہ تھے نو ، گیار یا بارہ اور جب کنڈکٹر نے آخری آدمی سے اترنےکی درخواست کی یہ تو کسی نے کہا وہ پہلے چڑھا تھا آخری آدمی کوئی اور تھا- کسی نے کہا کہ وہ بوڑھا اور کمزور ہے اس لیے اس سے پہلے جانے دینے کی اجازت ہونی چاہیے– نوجوان نے جواب میں کہا تو کیا وہ اپنی جوانی کی سزا بھگتے اور بس سٹینڈ پر کھڑا کھڑا بوڑھا ہوجائے- پہلے ہی دن آخری آدمی کی تلاش نہ ہو سکی نہ یہ طے پایا کہ کس عمر اور سائز کا بچہ اٹھواں آدمی شمار کیا جا سکے گا- یہ وہ پہلا دن تھا جب بوڑھوں نے جوانوں کے سر سے شفقت کا ہاتھ اٹھایا اور جوانوں کے دلوں میں بوڑھوں کالحاظ ختم ہوا- مسافروں کی آنکھوں سے ایک دوسرے کی مروت اٹھ گئی

اس دن تقریبا ہر اخبار میں بسوں میں کھڑے ہونے والوں  کی تصویریں شائع ہوئی- اور یہ خبر چھپی کے شہر گمنام میں ہر جگہ آٹھ سے زیادہ آدمی کھڑے ہوئے جس پر آپس میں جھگڑا ہوا-تب کانفرنس دوبارہ طلب کی گئی اور بڑے صاحب نے کہا کہ مسئلہ حل تو ہوا مگر پوری طرح حل نہیں ہوا- تب اس ماہر حسابیات نے کہ آدھا زمین کے اندر اور آدھا باہر تھا کہا- ” آپ نے غور کیا کہ ہر جگہ کھڑے ہونے والوں کی تعداد گیارہ اور بارہ کے درمیان تھی –چار ہی  مسافروں کی تو بات ہے– اگر ان چار مسافروں کو کھڑے ہونے کی اجازت دے دی جائے تو مسئلہ خود بخود حل ہوگیا –”

چنانچہ دوسرے دن سے 12مسافروں کو کھڑے ہونے کی اجازت دے دی گئی اور تاحال شہر گمنام میں ایک بس میں 12مسافروں کو کھڑے ہونے کی اجازت ہے- تیرہواں آدمی وہ آخری آدمی ہے جسے بس میں گھسنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کی تلاش آج تک نہ ہوسکی- تیرہواں  آدمی قانونا مجرم ہے اور کنڈکٹر کو حق ہے کہ گردن پکڑ کر اسے نیچےاتاردیے مگر ہر شخص کہتا ہے کہ وہ تیرہواں آدمی نہیں ہے- اب تو مدت ہوئی پوچھنا اور دیکھنا بھی چھوڑ دیا گیا ہے کہ تیرہواں آدمی کبھی کوئی تھا بھی– بس میں جو آدمی مسافروں کی تعداد چیک کرنے آتا ہے اسے بس میں گھسنے تک کی جگہ نہیں ملتی اور ویسے بھی اب کھڑے ہونے والوں کی تعداد گن لینا آسان بات نہیں ہے- اس لیے چیکنگ کرنے والا باہر ہی  سے لوٹ جاتا ہے جیسے تیرہواں آدمی وہ خود ہی ہو-

اپنا نذرانہ وہ باہر ہی سے لے لیتا ہے اور حکومت سے اس کی تنخواہ ماہ بماہ آج بھی مل رہی ہےجب کبھی سوال اٹھتا ہے یہی سوال اٹھتا ہے کہ آیا مسافروں کو بس کی چھت، اسکے  بریک ونڈ سکرین- اسٹیئرنگ وہیل پر بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی اجازت  دی جاسکتی ہے۔ –

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: