چڑیا کا جوڑا ۔۔۔ سعیدہ گزدر

Author of half a dozen books including collections of short stories, poems and the translation of a novel originally written in Bangla, Saeeda Gazdar has no pretensions about herself. Unlike some writers and poets, she is extremely modest and does not beat her own drum to draw the attention of critics.

چڑیا کا جوڑا

( سعیدہ گزدر )

میرے کمرے کی نیلی چھت کے درمیاں ٹنگے ہوئے برقی پنکھے میں اب بھی گھاس پھونس کے تنکے اور روئی کے ٹکڑے الجھے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے گھونسلے میں رہنے والا وہ جوڑا بری طرح یاد آ رہا ہے جو اب سے ایک ہفتہ قبل میرے کمرے میں ہر وقت پھدکتا پھرتا تھا۔ کمرے میں اتنا سناٹا ہے کہ میں سامنے شیلف پر رکھی ہوئی گھڑی کی دھڑکنیں بخوبی گن سکتا ہوں۔اتنا سناٹا ، اتنی گھمبیرتا اور اتنی اداسی میرے کمرے میں کبھی نہیں چھائی تھی۔ ان چند دنوں کی لگا تار خاموشی سے میں مضطرب سا ہو گیاہوں۔

اب سے چار ماہ قبل ، میں شہر کے ایک گنجان علاقے میں رہتا تھا۔ اس تنگ و تاریک کمرے میں مجھے دن کو بھی بجلی روشن رکھنا پڑتی تھی۔ وہاں سڑکوں کے شور، لوگوں کے لڑائی جھگڑے اور زندگی کی بے ترتیبی سے تنگ آ کر میں ایک پر سکون اور بہتر ماحول  کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ اسی دوران میرا ایک دوست شہر چھوڑ کر چلا گیا اور مجھے اپنا یہ کمرہ دے گیا۔ یہ کمرہ کرائے کے لحاظ سے مہنگا سہی لیکن شہر کے گنجان علاقے سے باہر ایک خاموش جگہ واقع تھا جہاں رات کی تاریکی میں کتوں کے بھونکنے کے علاوہ سارا دن گرمیوں کی دوپہر جیسی طویل خاموشی چھائی رہتی۔

پہلے دن جب میں اپنا سامان لے کر اس جگہ آیا تو کمرے میں داخل ہوتے ہی چڑیوں کے اس جوڑے نے چوں چوں کر کے اور پھدک پھدک کر میرا استقبال کیا مگر اس وقت میں خوش آمدید کہنے کے اس انوکھے انداز کو سمجھے بغیر اپنا سامان ترتیب سے لگانے میں مشغول ہو گیا۔ کافی دیر بعد جب میں سستانے کے لئے پلنگ پر لیٹا تو میری نظریں چھت پر ٹنگے پنکھے کے پیالے نما حصے پر پڑین جس میں ایک بہت بڑا سا گھونسلا بنا تھا۔ اس گھونسلے کے کنارے پر وہ جوڑا مجھے بیٹھا یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی مہربان اور خوش مزاج میزبان اپنے دور سے آئے ہوئے تھکے ہوئے مہمان کو دیکھتا ہے۔ میں نے غور سے دکھا تو وہ مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے۔

” دیکھو ہم عرصے سے یہاں کے باسی ہیں۔ اس کمرے کی چھت ہماری ہے اور زمین تمہاری۔ ہم اچھے دوستوں کی طرح رہیں گے۔ کیا تمہیں یہ سمجھوتہ منظور ہے ؟ ”  میں خود بخود ان کی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔ کمرے کے ماحول میں خلوص کی گرمی پھیل گئی اور وہ جوڑا شور مچاتا کھڑکی سے باہر اڑ گیا۔

اس کے بعد ہم تینوں اچھے دوستوں کی طرح رہنے لگے۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو پہچان گئے اور ایک دوسرے کی عادتوں سے واقف ہو گئے۔ میں جب لکھنے پڑھنے میں محو ہوتا تو وہ کبھی اپنی آواز یا اڑان سے میرے کام میں خلل انداز نہ ہوتے۔ میں صبح دیر سے اٹھنے کا عادی ہوں ۔ خصوصا ایسی جگہ جہاں بسوں، ٹراموں اور موٹروں کا شور نہ ہو  میں دس بجے سے پہلے کبھی نہیں اٹھا۔ چند دنوں تک تو یہ جوڑا میری کاہلی کو نظر انداز کرتا رہا ۔ مگر آخر کب تک ؟۔۔۔۔۔ ایک صبح چڑیا میرے سر کے پاس آکر شور مچانے لگی ۔ میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ ابھی چھ ہی بجے تھے۔ اتنے سویرے آنکھ کھلنے پر میں جھنجھلا گیا لیکن چڑیا اپنے شریر دیدے گھما گھما کر چوں چوں کرنے لگی جیسے کہہ رہی ہو

” بڑے افیونچی ہو۔ آخر صبح کیوں نہیں اٹھتے ؟ ” میں اسکی آنکھوں کے اس لہجے پر مسکرا دیا۔ پھر ہم دونوں میں خاموش معاہدہ ہو گیا۔ اب روز صبح چھ بجے چوں چوں کی آواز سے میں جاگ اٹھتا اور جس رات میں دیر تک کام کرتا رہتا وہ کبھی میری نیند میں مخل نہ ہوتے۔ وہ بڑی خاموشی سے کھڑکی سے باہر نکل جاتے اور پھر دن چڑھے واپس آتے۔ جس رات سردی زیادہ ہوتی اور میں کھڑکیاں بند کر کے سوتا یہ چپ چاپ اپنے گھونسلے میں بیٹھے انتظار کرتے رہتے کہ کب میں جاگوں اور انہیں باہر نکالوں۔

یوں کمرے میں تنہا رہنے کے باوجود مجھے تنہائی کا احساس نہ رہا۔ جب کام کرتے کرتے میرا دل اکتا جاتا تو میں اس جوڑے کی دلچسپ حرکتوں کو دیکھا کرتا۔ صبح ناشتے میں ڈبل روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے توڑ کر میں میز پر ڈال دیتا۔ وہ دونوں باری باری آکر انہیں چونچ میں اٹھا لیتے۔ میں شام کو واپس آتا تو بلا ناغہ چوں چوں کی آوازیں میرے استقبال کو آگے بڑہتین اور میں اندر آ کر آرام کرسی پر دراز ہو جاتا جیسے اپنی دن بھر کی تکان اور مصروفیت کا اظہار کسی چاہنے والے پر کر رہا ہوں۔

ایک صبح جب میں ناشتے کے لئے بیٹھا تو چڑا اپنے حصے کی روٹی اٹھا کر چلتا بنا لیکن چڑیا نہیں آئی۔ چڑیا کی باری پر بھی وہ دوبارہ آکر بیٹھ گیا۔ میں نے اسے ہاتھ سے بھگانے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ مجھے اس کی اس بے ایمانی اور ڈھٹائی پر غصہ آنے ہی والا تھا کہ چوں چوں کی آواز گھونسلے کے اندر سے آنے لگی۔ میں نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ بی چڑیا مجھے یوں تک رہی تھی جیسے کہنا چاہ رہی ہو

” میں نیچے آون تو بھلا کیسے ؟ اب تھوڑے دنوں کے لئے تم میرا ناشتہ چڑے کی چونچ سے پہنچا دیا کرو ” چڑے کی معنی خیز نظریں دیکھ کر میں معاملہ سمجھ گیا۔ چڑیا انڈوں پر بیٹھی تھی۔

میں بے چینی سے اس دن کا منتظر تھا جب انڈوں سے بچے نکلیں اور چڑیا نیچے آئے۔ آخر ایک دن وہ آ ہی گئی اور اپنے حصے سے بہت زیادہ ناشتہ اٹھا لے گئی۔ پھر جب میں نے ہنس کر اسے مبارکباد دی تو وہ نئی نویلی ماں کی طرح غرور سے پر پھیلا کر کھڑی ہو گئی، اب مجھے بچوں کے پر نکلنے کا انتظار تھا۔ میں سوچتا تھا کہ وہ دن کب آئے گا جب ننھے ننھے مہمان میری میز پر موجود ہوں گے۔

ایک شام میں بستر پر لیٹا کتاب پڑھ رہا تھا۔ چڑیا اور چڑا دونوں باہر گئے ہوئے تھے۔ اب بچے بڑے ہو رہے تھے اور وہ انہیں تنہا چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ گھونسلے سے چوں چوں کی آواز آئی۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا کچھ نظر نہیں ایا۔ پھر آواز آئی اور اس مرتبہ ایک گنجا سر کنارے سے جھانکنے لگا۔ ابھی میں اسے ٹھیک طرح دیکھ بھی نہیں سکا تھا کہ ایک ننھا سا بچہ گھونسلے سے زمین پر آ رہا۔ بہت ہلکی سی آواز نکلی اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔

مجھے بچے کے مرنے کا بہت رنج ہوا۔ وہ ایک چڑیا کا جوڑا ہی سہی پر بچے کے مرنے کا غم تو انہیں بھی ہو گا۔ میں نے غور سے اس چھوٹی سی بے جان چیز کو دیکھا جس کے پر ابھی بس نکلنا ہی شروع ہوئے تھے۔ میں نے کاغذ میں لپیٹ کر اسے آہستگی سے باہر پھینک دیا۔

رات کا کھانا کھا کر جوں ہی میں کمرے میں آیا چوں چوں کا ایک زبردست شور بپا ہو گیا۔ میں نے گھبرا کر بتی جلائی۔ چڑیا دیوانوں کی طرح کمرے میں چکر لگا رہی تھی۔ وہ بار بار ٹھیک اس جگہ آکر بیٹھتی جہاں چند گھنٹے پہلے اسکا بچہ گر کر مرا تھا۔اوپر گھونسلے میں بیٹھا چڑا اسے بے بسی سے دیکھ رہا تھا۔ چڑیا کبھی باہر اڑ کر چلانے لگتی جیسے اپنے لا پتہ بچے کو آواز دے رہی ہو۔ سرد ہواوں سے اسکا پتہ پوچھ رہی ہو۔ کبھی اندر آکر کمرے کے چکر کاٹنے لگتی۔ اب میں اپنی غلطی پر پچھتا رہا تھا۔ کاش میں نے اس بچے کو اٹھا کر باہر نہ پھینکا ہوتا تو شاید چڑیا اتنی پریشان نہ ہوتی۔ میں نے مجرموں کی طرح اسے دیکھا۔ وہ ابھی تک چکر لگا رہی تھی۔ آخر تھک کر میں نے بتی گل کر دی اور ایک دم سے کمرے میں سناٹا ہو گیا۔

دوسرے دن چڑا ناشتے پر آیا اور بے دلے سے چند ٹکڑے اٹھا کر چلا گیا۔ چڑیا کی میں نے اواز تک نہیں سنی۔ میں اپنے ہی کمرے میں اجنبیوں کی طرح سر جھکائے ناشتہ کرتا رہا۔

شام کو میں اپنے کمرے میں گیا تو وہاں مکمل سناٹا تھا۔ آج کسی کی پیار بھری چوں چوں نے میرا استقبال نہیں کیا۔ میں آرام کرسی پر پڑا بے دلی سے پرانے رسالوں کے ورق الٹتا رہا۔ بار بار میری نظریں اوپر گھونسلے میں اٹک جاتیں جہاں کمرے سے بھی زیادہ مہیب خاموشی چھائی تھی۔

اس رات سخت سردی کے باوجود میں نے کمرے کی ساری کھڑکیاں کھلی رکھیں۔ اس امید پر کہ شاید رات کے کسی حصے میں چڑیا کا جوڑا واپس آکر اپنا ویران گھر بسا دے لیکن وہاں سناٹا جوں کا توں قائم رہا۔ دوسرے دن صبح میری آنکھ معمول کے مطابق بہت سویرے کھل گئی۔ میں آنکھیں بند کئے چیں چیں کی موسیقی کا انتظار کرتا رہا۔ آکر کھسیا کر اٹھ بیٹھا۔ کمرے میں دھوپ پھیلی ہوئی تھی مگر ان دونوں کا نام و نشان نہ تھا۔

میں اب معمول کے مطابق منہ اندھیرے جاگتا ہوں لیکن آنکھیں بند کئے بستر پر پڑا رہتا ہوں اس امید پر کہ شاید وہ جوڑا واپس آ جائے اور آوازیں دے کر مجھے بیدار کردے۔ ناشتے پر تنہائی کا احساس شدید ہو جاتا ہے اور میں پہلے کے مقابلے میں بہت کم کھا سکتا ہوں۔ دفتر سے واپسی پر میں اسی طرح دراز ہو جاتا ہوں جیسے بہت تھکا ہوا ہوں۔ لیکن جلد ہی مجھے اپنے اس انداز سے کوفت ہونے لگتی ہے۔ آخر اپنی تھکاوٹ کا اظہار کس سے کروں ؟ اور میں اوپر پنکھے میں اٹکے ہوئے گھاس کے تنکے اور روئی کے گالوں کو دیکھتا رہتا ہوں جو اپنے مالکوں کے انتظار میں بدستور وہاں موجود ہیں۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: