بد ذائقہ لمحوں کی چپ ۔۔۔ صفیہ حیات

بد ذائقہ لمحوں کی چپ

صفیہ حیات

چپ دانت نکوستی ھے
جب نظم
ابارشن کے مرحلے سے گزرتی
چیختی ھے۔
نرس اسکے ھونٹوں کو سی دیتی ہے
تاکہ چنگھاڑتی چیخ کا دم گھٹ جائے۔
ادھوری تخلیق کبھی کوکھ میں نہیں پلتی
چپ نئی نظم لکھتی ھے۔
جس میں دمدار جرثومے
فرعونیت کے دعوے دار بن کر
سمندر میں ڈوب مرتے ہیں۔
کوکھ میں پلنے والے
دو سو دنوں کی تنہائی چھکتے ہیں
تنہائی کا اپنا کوئی ذائقہ نہیں
کاغذ کی پیشانی پہ
نظم لڑکھڑا کر گرتی ھے۔
منفی سوچ کی لہروں کے شور میں
نظم کرلائی
ادھوری تخلیق نے پھر جنم لیا
کوکھ اور جرثوموں نے سر تھام لیا۔
انسان
دوغلے پن کا سہارا لے کربھی
ہار گیا
چپڑ چپڑ بول سکوت ہڑپ کر گئے
گونگے بہرے لوگ
جرثوموں کی دموں پہ بیٹھ کر
زبردستی کےگیت
لکھنے سے باز نہیں آتے۔

بد ذائقہ لمحوں کی چپ

صفیہ حیات

چپ دانت نکوستی ھے
جب نظم
ابارشن کے مرحلے سے گزرتی
چیختی ھے۔
نرس اسکے ھونٹوں کو سی دیتی ہے
تاکہ چنگھاڑتی چیخ کا دم گھٹ جائے۔
ادھوری تخلیق کبھی کوکھ میں نہیں پلتی
چپ نئی نظم لکھتی ھے۔
جس میں دمدار جرثومے
فرعونیت کے دعوے دار بن کر
سمندر میں ڈوب مرتے ہیں۔
کوکھ میں پلنے والے
دو سو دنوں کی تنہائی چھکتے ہیں
تنہائی کا اپنا کوئی ذائقہ نہیں
کاغذ کی پیشانی پہ
نظم لڑکھڑا کر گرتی ھے۔
منفی سوچ کی لہروں کے شور میں
نظم کرلائی
ادھوری تخلیق نے پھر جنم لیا
کوکھ اور جرثوموں نے سر تھام لیا۔
انسان
دوغلے پن کا سہارا لے کربھی
ہار گیا
چپڑ چپڑ بول سکوت ہڑپ کر گئے
گونگے بہرے لوگ
جرثوموں کی دموں پہ بیٹھ کر
زبردستی کےگیت
لکھنے سے باز نہیں آتے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: