کائی میں لپٹی بیوہ ۔۔۔۔ صفیہ حیات

 

 

Safia Hayat, a teacher a women empowerment worker is a renowned poet of Pakistan. Her poetic ingredients capture the reader and leave him ponder over.

کائی میں لپٹی بیوہ

(صفیہ حیات )

وہ بدن پہ مرد کے نام کی 
جمی کائی کھرچتی رہی۔
کھرچن 
چاردیواری کے سوراخوں میں 
کبھی رستہ نہ بنا پائی تھی
یہ تو 
آنگن میں لگے پیڑ نے
ھوا کو پاوں پہنائے
یہ کم بخت! ایسی کٹھور نکلی
جاتے جاتے ھر پتے پہ
کتھا لکھ گئی
اب سارا جنگل
بھا نت بھانت کی بولیاں بولتا ھے۔
کل بھی نیم کے پتے 
اسکے عیب لکھ لائے۔
آج بانسوں کے سبزیلے پہ 
نامردی کو عورتانہ نااہلی لکھا دیکھا
وہ جنگل کی طرف 
ھوا خوری کے لئے نہیں جاتی
سب سرگوشیاں کرتے ہیں۔
اسے دیکھ کر 
بوڑھا برگد انھیں خاموش کرواتا ھے۔
وہ مسکراتی بہری
نصیحتوں کے ریشم کو کاٹتی ھے
عزم مصمم کے تیزدانتوں سے 
ان گنت لہراتے 
بل کھاتے سوالوں کی گھنجلوں میں
الجھی زمانہ سے لڑتی عورت
اپنے زیور 
اور
اسکی غیرت و مردانگی کا ادلہ بدلہ کرتی
خوب مطمئن رھتی ھے۔

Safia Hayat
READ MORE FROM THIS AUTHOR

Safiya Hayat studied at Punjab University, Lahore. She is a famous Urdu, Punjabi poet, and fiction writer. 

Read more from Safiya Hayat

2 thoughts on “کائی میں لپٹی بیوہ ۔۔۔۔ صفیہ حیات

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: