دُعائے مستجاب ۔۔۔ ثمینہ سیـد

دعائے مستجاب


ثمینہ سید 

بچے بہت معصوم ہوتے ہیں۔ان کی ہر دعا اللہ پاک پوری توجہ سے سنتے ہیں اور پوری کرتے ہیں عنبرین بہتے آنسووُں کے ساتھ بیٹے کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے آواز کو ذرا صاف کر کے اس کی توجہ بٹا رہی تھی۔
“مِیں کہوں بابا جانی واپس آجائیں۔ تو یہ دعا بھی سنیں گے اللہ میاں جی؟” 
” یہ ممکن نہیں ہے میری جان۔کچھ لوگ بہت پیارے ہوتے ہیں بہت نیک وہ اللہ کو بہت عزیز ہوتے ہیں تو اللہ پاک ان کو اپنے پاس بلا لیتے ہیں۔وہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔بہت دور ہے ناں اللہ کا گھر”
آ پ تو کہتی ہیں اللہ پاک ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہیں پھر دور کیسے” ثمر نے گردن چھو کے بہت معصومیت سے سوال کیا تو عنبرین کچھ پل بول ہی نہیں سکی۔
” اور مما اگر اللہ پاک اپنے پیارے لوگوں کو بلاتے ہیں تو مجھے بھی بلا لیں۔میں بھی تو اتنا پیارا ہوں ” عنبرین تڑپ کے اٹھ بیٹھی اور ثمر کو بھینچ کے زاروقطار رونے لگی۔وہ بھی رو رہا تھا۔
پچھلےکئی ماہ سے دونوں ایسے ہی دن رات تڑپتے تھے ۔دن میں کوئی نہ کوئی آتا جاتا رہتا تو ثمر کا دھیان بھی بٹ جاتا۔ لیکن جیسے ہی رات کی سیاہی پھیلتی دونوں کی آہیں اور ضبط جواب دے جاتا۔
عبداللہ امین کو فوج میں جانے کا شوق بچپن سے تھا۔جیسے ہی موقع ملا فورا” بھرتی ہوگئے۔گاوُں کے لوگ حاجی صاحب کی قسمت پہ رشک کرتے تھے کہ خود انتہائی نیک اور عبادت گزار تھے اب بیٹا بھی ملک و ملت سے محبت کے جذبے سے معمور تھا۔عبداللہ کو فوج میں ملازمت کیا ملی تمام رشتے دار حاجی صاحب کے آگے پیچھے ہونے لگے کہ ان کی بیٹی حاجی صاحب کے گھر کی زینت بنے۔
حآجِی صاحب نے سوچ رکھا تھا اس بار عبداللہ آتا ہے تو اس کی مرضی اور پسند پوچھیں گے۔پھر ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔
عبداللہ کے چھٹی آنے پر گاوُں میں عید کا ساسماں ہوجاتا تھا۔حاجی صاحب کے گھر کھانوں کا انبار لگ جاتا ۔رات گئے تک سب بوڑھے جوان عبداللہ کے پاس محفل جمائے رہتے۔ملکی حالات اور بارڈر پہ کیا حالات ہیں ۔یہ سب موضوعات چلتے رہتے۔اسی دوران حاجی صاحب نے عبداللہ کے یاروں سے کہا
” شادی کرنی ہے اگلی بار اس کی یہ بھی اہم کام ہے پتر۔ملک کی حفاظت سر آنکھوں پر لیکن میری خوشی بھی دیکھو۔جانے کا وقت ہو رہا ہے اب۔اس کی شادی کر کے آرام سکون سے مرنا چاہتا ہوں۔ایک زمانے سے یہ گھر ویران پڑا ہے اسے آباد کرنا بھی عبداللہ صاحب آپکی ذمہ داری ہے۔”
“ارے بابا کمال کرتے ہیں اپنی ذمہ داری بھی میرے سر ڈال دی۔یہ کام آپ ہی کریں میں نے اپنی پسند اپنی خوشی فوج سے جوڑ رکھی تھی جو مجھے مل گئی۔گھر آباد کرنا آپکی خوشی ہے اپنی پسند اور خوشی سے بہو لے آئیں ۔” عبداللہ کا یہ کہنا تھا کہ سب اٹھ کے دھمال ڈالنے لگے۔ حاجی صاحب بھی خود پہ قابو نہ رکھ پائے جھومتے ہوئے” اللہ تیرا شکر۔اللہ تیرا شکر ” بولتے جاتے۔
” بس مجھے اولاد کا دکھ نہ دکھانا مالک” وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولے۔
ملکی حالات بہت خراب ہوتے جا رہے تھے فوجیوں کی تبدیلیاں ان کی مہارتوں اور اہلیت کے مطابق کی جانے لگیں اور دور دراز تعیناتی کے بعد دس دن کی چھٹی دے دی گئی۔عبداللہ اپنا سامان اٹھائے برفیلے راستوں سے گنگناتا گزر رہا تھا۔دل کے کسی کونے میں جیون ساتھی کا میٹھا سا تصور اتر رہا تھا۔مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی جارہی تھی۔ ” بابا اجازت دیں گے تو اسے ساتھ ہی لے آوُں گا۔”
عنبرین حاجی صاحب کی بھتیجی تھی۔ بن ماں باپ کی بچی کو بڑی عزت سے اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے بیاہ لائے۔ایبٹ آبادکی سردی زوروں پہ تھی اور حاجی صاحب کا نحیف بدن اس شدت کو سہارنے سے قاصر تھا۔یوں بھی فرض کیا ادا ہوا حاجی صاحب تو ہاتھ پاوُں چھوڑ بیٹھے بمشکل ولیمے کی رات نکالی اور خاموشی سے راہ عدم روانہ ہوگئے۔
عبداللہ خوشی اور غم کی انتہاوُں پر تھا قسمت کے اس کھیل پر حیران وششدر۔بابا کے آبائی قبرستان میں انہیں سپرد خاک کرنے کے بعد وہ نئی نویلی دلہن کو گاوُں واپس لے آیا۔زندگی کے اس روپہلے سفر اور بےانتہا حسین وجوان جیون ساتھی کے ساتھ نے عبداللہ کو تو دیوانہ کردیا۔گھر کے درودیوار باباجان کی جدائی میں آزردہ تھے۔وہ کچھ دن ہی رہ سکا پھر عنبرین کو لیے کوہاٹ چلا آیا۔نئی پوسٹنگ بہت خوبصورت اور رومانوی جگہ پر ہوئی تھی لیکن ویران علاقہ تھا۔اپنی ہی آواز پلٹ کر گونجتی رہتی ۔شہری آبادی سے بہت دور وہ دونوں نئی زندگی کے سفر پہ رواں دواں تھے۔عنبرین نئی زندگی کو محبت بھری ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتی کہ کہیں اپنی ہی نظر نہ لگ جائے۔ ابھی جانا تھا کہ جیون اکیلے کچھ نہیں ہوتا۔ جیون ساتھی کا ساتھ ہی زندگی کا اصل حسن ہے۔وہ اتراتی پھرتی اورانہی لطافتوں کی کوملتا میں عبداللہ اسے شہادت کی فضیلتیں اور اپنی خواہش کی شدت بھی بتاتا رہتا۔وہ جانے انجانے میں اسے تیار کر رہا تھا۔ہر فوجی جوان کی طرح اپنے گھر والوں کو مضبوط کرنا اور جدائی کے زہر کو پینے کی ہمت دلاتا رہتا۔وہ ہنستی اور کہتی” ایسا کچھ نہیں ہوگا ابھی مجھے آپکا بہت سارا ساتھ چاہیے بہت سارا” وہ دونوں بازو پھیلا کرپورے یقین سے کہتی۔لیکن تقدیر لکھی جا چکی ہوتی ہے۔اسے کسی کے یقین و گمان سے کیا سروکار۔
یہ ساتھ بمشکل پانچ سال کا تھا معصوم سے ثمر اور دنیا و مافیہا سے انجان عنبرین کو چھوڑ کر عبداللہ نے شہادت کے تمغے سینے پر سجا لیے۔عنبرین پر غم کاپہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ابھی تو دونوں کے رشتہ دار اور گاوُں والے تعزیت کے لیے آرہے تھے۔اور طرح طرح کے مشورے دے رہے تھے۔لیکن زندگی کس طور گزرے گی وہ بالکل نہیں جانتی تھی۔ہاں عدت گزرنے سے پہلے ہی لوگوں کی محبتیں عیاریوں میں بدلتی نظر آنے لگیں۔وہ حیران تھیں وہی لوگ جو حاجی صاحب کے سامنے آنکھ نہ اٹھاتے تھے عبداللہ کے فوجی ہونے کو بےحد عزت دیتے تھے اب یکسر بدل گئے تھے۔اسے بڑے مان سے گاوُں لے آئے تھے۔حاجی صاحب کے گھر میں رکھا اور دروازے سے جاتے جاتے چوہدری نواز پلٹ آیا۔”یہ حاجی صاحب کا گھر نہیں ہے۔میرا ہے۔حاجی صاحب سارے گاوُں کے بچے پڑھاتے تھے اور مرنے پرنے بھی انہی کے ذمہ تھے۔بی بی اب دیکھ لو جلدی فیصلہ کر لینا یہاں کس خدمت کے صلے میں رہنا ہے۔سمجھ گئی ناں” چوہدری نے عنبرین کے گھونگٹ والے ہاتھ کو چھو کر کہا اور چلا گیا۔وہ دیر تک کانپتی رہی۔
زندگی ایک پل میں سوال بنی کھڑی تھی چار سال کے بیٹے کے ساتھ کہاں جائے؟
پھر ایسے ہی بےشمار روپ سروپ ۔کتنے ہی بھیانک چہرے عنبرین کے وجود کو بھنبھوڑنے کے لیے بےتاب نظر آنے لگے۔
فوج کی طرف سے ایک اچھی رقم مل گئی تو ذرا سا آسودگی کا در کھلا اور وہ رات کی بکل مارے بیٹے کو بانہوں میں لیے انجان راستوں پہ نکل آئی۔شوہر کے ایک دوست کا گھر جانتی تھی انہی کے پاس آگئی ۔ان کی مدد سے ایک چھوٹا ساکمرہ کرایے پر لیا بیوگی کی سفیدچادر میں کشمیری حسن کو دفنا کر بچوں کو قرآن پاک پڑھانے لگی۔ چہرہ ایسا چھپایا کہ خود کو بھی اپنی شکل بھول گئی۔خوبصورت ہاتھ بےدردی سے داغ داغ کر تباہ کر ڈالے۔کمر جھکا کر چلتی آہستہ آہستہ مشہور ہوگیا کہ ثمر کے ساتھ اس کی نانی رہتی ہے۔ماں بھی مر گئی۔مر ہی تو گئی تھی وہ شوہر کی جواں مرگی کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھی ۔
ثمر عباس پڑھنے لگا ۔بہت دل لگا کر پڑھتا تھاجب بھی کوئی بڑی مشکل آتی وہ ثمر کے ننھے ہاتھ اٹھا کر کہتی۔
” دعا کرو تمہاری دعا ضرور مستجاب ہوگی”۔
ذہین فطین بچہ بچپن سے جوانی میں قدم رکھتے ہی فوج میں ایک اعلی’ عہدے پر فائز یوگیا۔کامیابیوں کی منزلیں تسخیر کرتا جا رہا تھا اب عنبرین کی جینے کی ہمت رہی نہ امنگ۔بیٹے کی شادی کردی اس کے ساتھ ہی خاموشی سے ایک کمرے میں بند پڑی رہتی۔کچھ دن بہو نے خیال کیا پھر آدم بےزار سمجھ کر خبر بھی نہ لی۔لیکن عنبرین کو لگتا دن بدل گئے ہیں یہ ثمر کے قہقہے اس کے بیوی بچوں کی خوش حالیاں سب عنبرین کی کامیابیاں ہیں۔وہ پرسکون ہونا چاہتی تھی۔ جینا چاہتی تھی۔ لیکن زندگی اس کے اندر بہت عرصہ پہلے ہی مر چکی تھی ۔اس کے کینسر زدہ وجود کو ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔وہ تھکے ہارے وجود کے ساتھ بھی بیٹے کو دیکھ کر مسکرادیتی۔بازو پھیلا کر پیار دیتی ۔لیکن آہستہ آہستہ یہ ہمت بھی ختم ہو گئی وہ مہینوں گزرنے پر بھی بہتر نہیں ہو رہی تھی ہر لمحے کے ساتھ ہارتی جا رہی تھی بہت تکلیف نے وجود کو نڈھال کر رکھا تھا۔گاوُں والوں کو خبر ہوئی تو پوچھنے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ہر آنے والا ثمر کے شاندار رہن سہن کو دیکھ کر عنبرین کی ریاضتیں اور قربانیاں یاد دلاتا اس کی جوانی اور ناسمجھی کے باوجود زندگی کس سلیقے سے گزاری اس پہ تعریف کیے بنا نہ رہ پاتا تو ثمر کو احساس ہوا کہ ماں کی طرف اس کا فرض کچھ زیادہ بنتا ہے۔وہ جب وقت ملتا ہسپتال چلا آتا
اپنوں کے اصل چہرے تنگدستی میں اور بیماری میں ہی تو سامنے آتے ہیں۔عنبرین بےحس و حرکت پڑی رہتی اور ثمر گھنٹوں ماں کا چہرہ تکتا رہتا انہی سارے دنوں میں ماں کے ساتھ گزرا سارا وقت اسکی آنکھوں میں گھومتا رہتا۔وہ حیران پریشان تھا کوئی ایسے بھی خود کو تباہ کرتا ہے کسی کو بنانے کے لیے ۔دوسروں کے احساس دلانے سے وہ اور زیادہ مغموم ہوجاتا۔عنبرین ہر لمحہ ثمر کا قرب محسوس کر رہی تھی اسے دنوں ،ہفتوں کا حساب کتاب نہیں تھا بس آواز آتی رہتی تو زندہ ہونے کا احساس ہوتا رہتا۔وہ مرنا نہیں چاہتی تھی پاس بیٹھے اپنے بیٹے کے ساتھ ایسے ہی جینا چاہتی تھی۔کہ بس وہ دونوں ہوں۔
کمرے میں بہت خاموشی تھی ثمر ماں کا ہاتھ پکڑے بیٹھا کسی سے بات کر رہا تھا” میری ماں ہیں وہ میں کیسے انہیں لاوارث چھوڑ دوں۔تم عجیب عورت ہو ماں ہو کر بھی انکی تکلیف محسوس نہیں کررہی”
کر لی بہت ثمر۔حد ہوتی ہے کسی بات کی ۔مہینوں ہو گئے آپ کے اور بھی کچھ فرائض ہیں صرف ماں کے گھٹنے سے لگنا ہے تو یہ اپنے بچے بھی لے جائیں۔مجھے اکیلے چھوڑ دیا ہے کیا کیا نپٹاوُں۔بچوں کی سو ضرورتیں ہیں فرمائشیں ہیں۔میں اکیلی سب نہیں کر سکتی۔ختم کریں یہ تماشا۔وینٹیلیٹر بند کروائیں گے تو کچھ فیصلہ ہوگا ناں” زمرہ رو رہی تھی۔عنبرین کی سماعتوں پر زمرہ کی آواز ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی عنبرین کی خودغرضی ٹوٹنے لگی۔اس نے سن رکھا تھا ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آپ کے اپنے آپکے وجود سے اکتا جاتے ہیں۔
ثمر کو لگا ماں کے ہاتھ میں حرکت ہوئی ہے وہ خوشی سے چیخا”زمرہ ماں نے ہاتھ چھوا ہے میرا” 
“ماں شاید محھے دعا کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں ۔زمرہ ماں کو میری دعا پہ بہت یقین ہے وہ سمجھتی ہیں میری ہر دعا مستجاب ہوتی ہے۔”
وہ چھلکتے آنسووُں کے ساتھ بول رہا تھا۔
” اماں بہت تکلیف میں ہیں ثمر دعا کریں کہ۔۔۔۔۔”
” اماں چلی گئیں شاید ۔۔۔زمرہ میں تھک گیا تھا لیکن ماں کے لیے موت نہیں مانگ سکتا تھا۔۔”
موبائل ایک طرف رکھ کے ثمر دیوانوں کی طرح ماں کو چوم رہا تھا ڈاکٹرز بھی آگئے۔لیکن عنبرین جا چکی تھی آسودہ روح کے ساتھ۔
وہ جو دلوں کے حال بہتر جانتا ہے وہی دعاوُں کو مستجاب کرتا ہے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: