گوٹے والا سوٹ ۔۔۔ ثمینہ سید

گوٹے والا سوٹ

ثمینہ سید

آج بہت گرمی ہے سورج سوا نیزے پر ہے۔مجھ جیسا صابروشاکر بندہ بھی سوں سوں اف اف کرنے پہ مجبور ہوگیا ہے۔میرے عجیب مسائل ہیں دیکھا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن پرسکون بھی نہیں ہوں آج من میں بے کلی سی تھی تو بغیر گاڑی گھر سے نکل آیا۔دل چاہ رہا تھا شہر کی سڑکوں پہ بے مقصد گھوموں “مرد ہو جب چاہوجہاں چاہو آزاد پھر سکتے ہو”یہ طنزیہ رائے سحر فاطمہ کی ہےسحر فاطمہ میری پیاری بیوی مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے زیادہ موڈی اور بھائیوں کی لاڈلی۔ہم آٹھ سال سے ہمسفر ہیں اور وہ قریب قریب آٹھ سو بار ناراض ہو کر میکے جا چکی ہے۔میں مناتا نہیں لیکن وہ آ جاتی ہے کہتی ہے “میدان خالی کیوں چھوڑوں آپ تو یہی چاہتے ہیں گھر خالی رہے اور آپ میری جگہ کسی اور کو دے دیں “میں مسکراتا رہتا ہوں وہ اور تپ جاتی ہے۔ مختلف باتیں سوچتا میں فٹ پاتھ پہ چلا جا رہا تھا جب میرے پاؤں ایک کپڑے میں الجھ گئےمیں نے سنبھل کر پاؤں کی طرف دیکھا۔ایک گوٹے والا دوپٹہ تھا اسکے تعاقب میں نظریں اس عورت پہ جا ٹھہریں جو فٹ پاتھ پہ دوپٹہ پھیلا کے بیٹھی تھی میں نے ارد گرد دیکھا عجیب تعفن زدہ ماحول تھا۔میلے کچیلے کھٹے پیلے دانتوں والے بے فکرے مرد اور فٹ پاتھ پہ جگہ جگہ بیٹھی سگریٹ پھونکتیں باتیں کرتیں یہ داستان عورتیں”۔یہاں کوئی صفائی کیوں نہیں کرواتا کوئی ڈینگی مہم والا اس اہم علاقے پہ غور کیوں نہیں کرتا” میں ذرا آگے بڑھا دوپٹے والی عورت گوٹے والی قمیض بھی پھیلا کر دیکھ رہی تھی کچھ بڑ بڑا بھی رہئی تھی۔میں گرنے سے تو بچ گیا مگر الجھ گیا۔ عورت گوٹے والے سوٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی بہت فکر مند تھی نم نم آنکھوں سےکبھی بولتی کبھی مسکراتی۔ میں پاس آ گیا پچاس پچپن سال کی عورت تھی بے حد میلی اس غضب کی گرمی میں موٹی چمڑے والی جیکٹ پہنے دنیا و مافیہا سے بے خبر”یہ تنگ ہو گئی ہے”میں نے اسکی بڑ بڑاہٹ سنی۔وہ قمیض پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔رو رہی تھی میں پاس بیٹھ گیا۔ “ادھر آجاؤ بابو ادھر آپکی پجیرو ہوا میں اڑا کے منزل پہ پہنچاؤں گا” “اے سی گاڑی ہے باجی منٹوں میں پہنچائے گی ٹاپو ٹاپ جائے گی ” “بیگ پتر نوں پکڑاؤ بابا جی میں نوکر غلام” یہ ارد گرد کھڑے ویگن ،رکشہ ڈرائیوروں کی آوازیں تھیں میں دلچسپی سے دیکھ رہا تھا تبھی مجھے لگا کچھ لوگ میری طرف بڑھ رہے ہیں۔ “او باؤ تیری ٹیپ کا مال نہیں پاگل ہے بیچاری” مجھے لگا میرے وجود کو شعلوں نے جکڑ لیا۔”یہ مہینوں سے یہیں ہے میاں واقعی پاگل ہے بیچاری” پھر کوئی بولا میرا دل چاہا اس کا منہ توڑ دوں لیکن میں خاموش رہا “اماں کیا آپ یہ دوپٹہ بیچنا چاہتی ہیں ؟”میں نے عجیب احمقانہ سوال کیا اماں کےساتھ ساتھ کئی لوگوں نے مجھے حیران ہو کے دیکھا جیسے میں پاگل ہوں۔ “اماں آپ روٹی کھائیں گی؟”دوسرا سوال جاندار تھا ہر پاگل عاقل جاہل عالم کو یکساں سنائی دیتا تھا خوب سمجھ بھی آ تی ہے۔ “یہ بیکار ہے تنگ ہو گئی ہے لیکن اندر کپڑا ہے کھل جائے گی”اماں نے قمیض میری طرف بڑھائی انہیں لگا میں نے قمیض کے بدلے روٹی کی پیشکش کی ہے۔ میں نے دیکھا اماں کے سامان سے سوئی دھاگے سگریٹ کی ڈبیاں پرانے کپڑے پھٹے جوتے جھانک رہے تھے۔وہ کھڑی ہو گئی میں بھی اٹھ کے کھڑا ہو گیا لال پیلے نیلے کرتوں والے مرد مجھے نفرت سے گھور رہے تھے۔میں نے ایک نظر ان پہ ڈالی ذرا مسکرایا”تم مسکرا کر بازی پلٹ لیتے ہو ہپنا ٹائز کر دیتی ہے تمہاری مسکراہٹ”یہ سحر فاطمہ کا کہنا تھا پگلی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔ “اوئے بابو تو اس کا کیا کرے گا کچھ تو حیا کر ماؤں جتنی ہے” کوئی بری طرح دھاڑا میں نے اسے دیکھا”میں امیر مصطفیٰ “اپنا گھر” کے نام سے میرا ٹرسٹ ہے جس میں ایسے سینکڑوں لوگ رہتے ہیں” میں ایک پل رکا لوگ سناٹے میں آ گئے چہروں کے تاثرات یکسر بدل گئے آنکھیں یکدم عقیدت سے بھر گئیں “میری ادنیٰ سی کوشش ہے کہ اپنے لوگوں کے درد کا درماں کر سکوں کچھ حق تو ادا کروں اپنے پیدا کرنے والے کا رزق دینے والے کا یہ انسان جو یہاں کچرے کی طرح پڑے ہیں ان کا حصہ ہے ہمارے رزق میں “میں چپ ہوا تو ایک دو ضعیف االعتقاد میری طرف بڑھے اور میرے ہاتھ چوم ڈالے۔”میں رکشہ لاتا ہوں جی صدقے جاؤں پیسے نہیں لوں گا ” یہ جگہ میرے لئے نئی نہیں تھی میں اور سحر یہاں بیسیوں دفع گاڑی میں آ چکے تھے اسے جب کوئی بتاتا کہ منت مانو داتا کے دربار پہ نوراتا کاٹو اللہ اولاد سے نوازے گا میرے سر ہوجاتی اور میں۔۔میں نے کبھی کوئی بات ٹالی ہی نہیں تھی سحر کی “میں پاگل نہیں ہوں”اماں میری پناہ میں آ کے بھی کئی دن یہی فقرہ بولتی رہی سحرکی اماں سے خاص محبت ہو گئی بہت خدمت اور محبت سے اس نے اماں کو ہوش و حواس سے آشنا کر لیا۔ “امی ابا کی موت کے بعد میں نے بھائیوں کو پالا بھیک مانگ کے مٹی کے کھلونے بنا کے کاغذ کے کھلونے بیچ بیچ کے بے غیرت بڑے ہو گئے ایسے دھندوں میں پڑ گئے کہ عزت غیرت سب مر گئی انہوں نے مجھے بیچ دیا ایک بوڑھے کینسر زدہ کے ہاتھوں موت کے بہت قریب تھا وہ ۔۔۔بٹیا میں اسکی خدمت کرنے لگی۔۔۔یہ ایک سوٹ ہی اس نے مجھے دیا نکاح ہوا تھا اس سے میرا۔۔ایک دن کہتا ہے بکسے سے سوٹ نکالو پہین کے دکھاؤ میں نے نکالا نہا دھو کے پہنا اسے دکھانے آئی تو۔۔۔مرا پڑا تھا دیکھنا نصیب نا ہوا اسے”اماں بارہا یہ کہانی سناتیں سحر اور “اپنا گھر “کے سبھی لوگ محبت سے سنتے یہاں کوئی کسی کا مذاق نہیں اڑاتا تھا سب دردمندی سے ایک دوسرے کو سنبھالتے “اماں میں آپکو نیا گوٹے والا سوٹ لے کے دوں گی آپکا پوتا آ جائے تو آپ ہمیں بھنگڑا ڈال کے دکھائے گا”سحر فاطمہ بڑے سے پیٹ کو سنبھالتی پیار سے اماں کے گال کو چھوکے بولی تو قہقہے فضا میں گونجنے لگے۔”لیکن یہ سوٹ میرا اثاثہ ہے یہ نہیں پھینکوں گی” میں نے بھی پیار سے اماں کے شانوں کے گرد بازو لپیٹا۔سحر فاطمہ کی رپورٹس اور ڈاکٹرز کا کہنا تھا وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی لیکن وہ بہت نرم مزاج اورلاڈلی سی ہر کسی کی بے لوث خدمت کرنے والی میٹھے سروں سے غیروں کے ہر درد کا درماں کرنے والی میری سحر بھلا خدا کے ہاں نامراد کیونکر ٹھہرتی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: