وہ کافر ۔۔۔ ثمینہ سید


وہ کافر

 (ثمینہ سید )
.
’’امن مَیں بہت پریشان ہوں۔ ایسے لگتا ہے میرے پاؤں آگے کی طرف بڑھتے اور وجود کہیں پیچھے رہ جاتاہے۔ اور لوگ سمجھتے ہیں مَیں بہت خوش ہوں اور بے حد خوش قسمت ، خوش قسمت تو ہوں ،تمہارے ابو بہت اچھے اور نفیس انسان ہیں۔ خدا نے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا ۔ سسرال کے لمبے چوڑے جھنجھٹ بھی نہیں ہیں ۔ تم دونوں بہن بھائی بھی ذہین اور فرمانبردار ہو۔ مگر بیٹا اپنا ملک چھوڑ کر جانا بہت مشکل مرحلہ ہے۔ نئی زمین، نئے لوگ، نئے رسم و رواج، کیا خبر کہاں میری تربیت کم پڑ جائے ، کہاں میرے فائدے نقصانات میں ڈھل جائیں، اندیشوں کے بچھو مجھے ڈرا رہے ہیں۔‘‘سعدیہ عمر حیات اپنی لاڈلی بیٹی امن کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بول رہی تھیں وہ چپ چاپ سنتی رہی او پھر ماں کا ہاتھ دبا کر پورے یقین سے بولی ۔
’’آپ کی تربیت بہت اعلیٰ ہے مما!۔۔۔آپ مطمئن رہیں مَیں اور میرا بھائی کبھی بھی نہیں بگڑ سکتے ۔ آپ نے ہمارے اندر محبت، اخلاق، تہذیب اور مذہبی اقدار کے جو دئیے روشن کئے ہیں یہ ہمیشہ روشن رہیں گے۔ باہر کی روشنیاں تو عارضی ہیں ہم پر اثر انداز نہیں ہوں گے ۔ اور آپ اپنے اللہ پر بھی تو بھروسہ رکھیں جس کے حفظ و امان میں صبح و شام ہمیں دے کر بھیجتی ہیں۔‘‘امن نے بے حد سنجیدگی سے ماں کے اندیشوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تو سعدیہ نے بیٹی کا ماتھا چوم لیا۔
’’مجھے بہت فخر ہے تم پر۔ مگر تمہاری عمر کی بیٹیاں لے کر باہر رہنے والے وطن واپس لوٹتے ہیں۔باہر نہیں جاتے۔ نجانے تمہارے ابو کو کیا سوجھی جو اب بلا لیا۔ تمام عمر تو جدائی کاٹی مہینہ دو مہینہ کے لئے آجاتے تھے بس ٹھیک تھا۔ اب تو عادت ہو چلی تھی تو میاں کو فیملی کا خیال آگیا۔‘‘
’’اچھا بس کریں۔ آرام سے سو جائیں انشا اللہ سب اچھا ہی ہو گا ۔ہم بھی تو مکمل فیملی بن کر زندگی گزاریں ۔ ابو کے ساتھ رہنے اور لاڈ پیار کے مزے لوٹیں ‘‘امن نے اپنے بال سمیٹتے ہوئے ماں کو پیار کیا اور گڈ نائٹ کہہ کر نکل گئی۔اور سعدیہ بیگم دعائیں پڑھتی سونے کی کوشش کرنے لگیں ۔
عمر حیات عرصہ دس سال سے آسٹریلیا میں تھے۔ ہر دو سال بعد وطن کی محبت ، گھر والو ں کی محبت کھینچتی تو مہینہ بھر رہ کر واپس لوٹ جاتے۔لیکن اچانک ہارٹ اٹیک ہونے اور زندہ بچ جانے نے ان کی نظر میں زندگی کی اہمیت بہت بڑھا دی تھی۔ خوف کی جھرجھری سی بدن میں سرائیت کر جاتی جب بھی یہ خیال آتا کہ اگر مَیں یہاں لاوارث مر جاوں تو؟؟؟میرے بچے کیسے مجھے لے جائیں گے؟ کیسے زندگی کو سنبھالا دیں گے؟ بس اسی ایک خیال نے ا نہیں مجبور کیا کہ اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس بلا لوں۔
’’کتنے سال ہو گئے۔۔۔؟ بیوی کے سرد و گرم دیکھے بچوں کے ناز اٹھائے‘‘عمر حیات نے آہ بھری اور فوراً فون کر کے سعدیہ کو حکم دے دیا ۔’’بیوی مستقل بوریا بستر سمیٹو اور میرے پاس آجاؤ‘‘رشتہ دار دوست احباب روز ملنے چلے آتے ۔ بڑے تایا جان نے تو سعدیہ کو یہاں تک کہہ دیا کہ’’ہماری بچی ہمیں دے جاؤ بھابھی جان میرے ہارون کے لئے۔ اور خود مزے سے زندگی گزارو‘‘
لیکن سعدیہ بیگم ابھی ان جھنجھٹوں میں پڑنا نہیں چاہتی تھی۔ خود اس کے بہن بھائیوں نے امن کا رشتہ اپنے بیٹوں کے لئے مانگا ساتھ ساتھ اسے زمانے کا چلن سے ڈرایا بھی۔کہ بیٹی کی زمہ داری اتار کر جاؤ وہاں نجانے کیا حالات ہوں۔ لیکن امن نے ابھی صرف میٹرک کیا تھا۔ وہ اسے ابھی اس قابل نہیں سمجھتی تھیں کہ شادی جیسی بڑی زمہ داری اس پر ڈال دیتیں۔
****
واہموں اور اندیشوں کا ڈھیر بھی سامان کے ہمراہ سڈنی ائیر پورٹ پر اترا تو عمر حیات دوست کے ہمراہ لینے آ پہنچے بچوں کا ماتھا چوما۔ بیوی کا حصار میں لیا تو جیسے وہ دھوپ سے چھاؤں میں آگئی ہوں۔ خود کو مطمئن کر کے اپنے اللہ کے بھروسے پر سب چھوڑ دیا۔
****
امن کا ہائی سکول شروع ہو گیا ۔ جبکہ خضر کے ایم فل میں ایڈمیشن کی کوششیں چل رہی تھیں۔ کافی دنوں کی مصروفیت کے بعد زندگی معمول پر آنے لگی۔اجنبیت ذرا کم ہونے لگی ۔عمر حیات بے پناہ خوش تھے خضر جیسے مضبوط نوجوان بیٹے کی موجودگی نے انہیں مضبوط اور جوان کر دیا تھا۔ روز دوستوں کو لئے چلے آتے اپنے بیوی بچوں سے ملا کر عجیب طرح کا سکون ملتاتھا سعدیہ بھی سالہا سال کے جدائی کے زخم کو مندمل کرنے میں لگی تھیں طرح طرح کے کھانے بناتیں۔ شوہر اور بچوں کے آتے جاتے صدقے اتارتیں۔اور خود کو مطمئن رکھنے کی پوری کوشش کرتیں مگر جب بھی امن سکول کے لئے نکلتی وہم سر اٹھانے لگتے۔ یہاں بی اے تک ہائی سکول سسٹم تھا۔ امن نے یونیفارم کے ساتھ اسکارف بھی شروع کر دیا وہ سر کو سلیقے سے لپیٹ کر نکلتی۔تو سعدیہ سوچنے لگتیں
’’لوگ تو ان ممالک میں آکر کپڑے کم کرتے ہیں۔ میری لاڈو کے تو بڑھ گئے ہیں۔‘‘پھر اپنی تربیت پر فخر کر کے مسکرا دیتیں۔ امن اپنے ملک میں تو دوپٹہ بھی نہیں اوڑھتی تھی۔ میٹرک تک بس یونیفارم کے ساتھ باریک سی سلیش کندھے پر ہوتی تھی یہان آتے ہی اسے نجانے کیا ہوا اپنے اردگرد بہت کم کپڑوں میں لڑکیوں کو دیکھتی تو اس کے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگتیں’’لڑکے جب پورے کپڑے پہن سکتے ہیں تو ہم لڑکیاں کیوں نہیں پہن پاتیں۔ ہم میں ایسا کیا جو دکھانا ضروری ہے۔‘‘امن نے فروا سے کہا فروا انڈین تھی۔لزا آسٹریلین اور مارتھا انگلینڈ سے آئی تھی۔ جبکہ ان کے ذہین فطین گروپ میں علی، فیضان ، سندر سنگھ اور مائیکل بھی شامل تھے ۔ امن ڈھیروں کپڑے پاکستان سے سلوا کر لے گئی تھی جدید تراش خراش کی لانگ شر ٹس اور فراک پاجامے ساتھ میں اسکارف سے سر لپیٹتی تو عجیب طرح کا رعب اور وقار اس کی شخصیت میں آجاتا۔ وہ پوری طرح سیٹ ہو گئی تھی اسکی ذہانت کا سکہ بھی چلنے لگا تو اور بھی پر اعتماد ہو گئی ۔ فارغ وقت میں وہ لوگ لمبی لمبی بحثیں کرتے اپنے اپنے ممالک کے تہذیب و ثقافت،مذہب ، سیاست اور رسم و رواج رشتہ داروں کے بارے میں بھی خوب جان پہچان ہو گئی تھی۔دوسرے سال کے اختتام تک دوستیاں محبتوں میں بدلنے لگیں ۔ لڑکے لڑکیاں جوڑے بنا کر پھرتے رہتے تو امن پر اچانک انکشاف ہو اکہ ہری کانچ آنکھوں والا مائیکل جیسے اسکی پروقار ذات میں پوری طرح براجمان ہے۔ وہ کانپ کر رہ گئی۔
’’نہیں یہ میرا وہم ہی ہے‘‘اس نے ڈپٹ کر اپنے آپ سے کہا۔
’’ایسا ممکن ہی نہیں، ہم صرف اچھے دوست ہیں ہر وقت ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے بس اسی لئے لگا کہ ہم ایک دوسرے کے لئے ضروری ہیں۔‘‘
’’مَیں امن عمر حیات الحمد اللہ مسلمان ہوں اور مائیکل ایتھیست جو خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا ، جس کا کوئی مذہب بہیں جو کسی سے دعا نہیں مانگ سکتا۔ میرا دل اس کافر کے لئے کیسے سوچ سکتا ہے۔کیونکر کوئی نرم گوشہ رکھ سکتا ہے۔‘‘امن آئینے کے سامنے کھڑی بھری بھری آنکھوں سے خود کو ڈانٹ رہی تھی لیکن آنکھیں صاف اس کا مذاق اڑا رہی تھیں اسے جھوٹا بنانے پہ تل گئیں تو وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ گئی بار بار سر جھٹک کر خود کو جھٹلایا ۔
’’محبت کے بارے میں تمہارا مذہب کیا کہتا ہے؟‘‘آج ہی تو مائیکل نے پوچھا تھا وہ سب اس کا مذاق اڑاتے کہ وہ لڑکی نہیں ہے کوئی بھٹکی ہوئی روح ہے جو جذبات سے عاری ہے۔ پتھر کی طرح سخت اور بے حس۔ اس سوال پہ بھی وہ زور سے ہنسی ’’کچھ نہیں کہتا‘‘
’’پھر بھی؟‘‘وہ ہری کانچ آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکا کر اٹکا رہا
’’کچھ نہیں کہتامیرا مذہب، مذہب کو کیا پتامحبت کیابلا ہے ، ویسے مائیکلْ یہ کچھ ہے بھی نہیں گھٹیا اور ہوس زدہ بہانے کے سوا ۔ جو ہم انسان ایک دوسرے کو سنا سنا کر دھوکہ دیتے ہیں۔ کاٹتے ہیں، نوچتے ہیں، خالی کر کے پھینک دیتے ہیں‘‘امن انتہائی سنجیدگی سے بولی تو وہ حیرت سے مرنے والا تھا۔ وہ اسے حیران چھوڑ کے آگے آگئی اور اب تک خود سے لڑ رہی تھی۔ رات بھر جاگنے اور خود سے لڑنے کی وجہ سے اسے صبح تیز بخار تھا۔ امی اور خضر نے بمشکل سنبھالا ،ہسپتال لے گئے تو انہوں نے داخل کر لیا۔ دو دن بعد طبیعت ذرا سنبھلی۔ تو دماغی حالت بھی سنبھل گئی خود کو نارمل کر کے وہ پھر مائیکل کے ساتھ والی سیٹ پر آ بیٹھی۔
’’تم بیمار ہو؟ ‘‘مائیکل نے اسے بغور دیکھا ۔
’’اب ٹھیک ہوں‘‘وہ مسکرا کے بولی ۔ دونوں جانتے تھے محبت کے آکٹوپس سے بچ نکلنا مشکل ہے بے حد مشکل۔مگر وہ انا پرست تھا آگے بڑھ کر مانگنے اور مسترد ہو جانے سے ڈرتا تھا جبکہ امن خدا پرست تھی وہ گنہگار ہونے سے مرنا بہتر سمجھتی تھی۔ جنگ ہی چل پڑی تھی اپنے ہی وجود سے دونوں کی۔ مگر بھرم بنا رہا اور یوں وقت گزرتا گیا۔مائیکل آخری پیپر کے بعد کہیں نظر نہ آیا۔ امن کا پژمردہ وجود مردہ ہو رہا تھا سعدیہ بیگم، بھائی اور ابو بہت پریشان تھے۔ امن کو ماہرِ نفسیات کو بھی دکھایا گیا مگر جو راز وہ خود سے بھی چھپائے ہوئے تھی۔ ماہرِ نفسیات بیچاری کیسے اگلواتی۔ وقت نے خود ہی ساری چیزیں نارمل کرنا شروع کر دیں۔
سعدیہ بیگم کی تربیت اب بھی جیت گئی ۔وہ مطمئن تھیں۔ خضر کے لئے پاکستان سے بھتیجی بیاہ کر لے گئیں۔ شادی کی رونقیں مزید پڑھائی اور پھر جاب نے امن کو جیسے سب کچھ بھلا دیا تھا۔
مگر وہ اپنی پہلی محبت، کچی عمر کی پکی محبت کو دبا تو سکتی تھی بھلا نہیں سکتی تھی۔ خضر بھائی کا بیٹا ہو گیا سعدیہ کو اب امن کی فکر باقاعدہ فکر مند کرنے لگی۔ بہت سے رشتے آتے مگر امن کی ضد تھی کہ’’پی۔ ایچ ۔ڈی کے بعد شادی کروں گی مما، پلیز یہ اتنا ضروری کام نہیں ہے۔‘‘
چھ سال بعد بھی وہ ہر کہیں ہر جگہ مائیکل جیسی کی سبز آنکھیں ڈھونڈتی پھرتی تھی۔ جس سے محبت آپ کرتے ہیں وہ سب سے الگ سب سے منفرد ہو جاتا ہے۔ پھر ویسا کوئی نہیں لگتا۔
’’تم امن ہو ناں؟ امن مسلمان؟‘‘یہ فروا تھی اس کی کلاس فیلو اور گروپ فیلو جب سب اسے امن مسلمان کہہ کر پکارتے تھے۔ مائیکل نے اس کا یہ نام رکھا تھا۔ امن کو لگا خوشی سے دل پسلیوں سے باہر آجائے گا وہ عرصے بعدبھاگ کر آگے بڑھی فروا سے گلے ملی
’’تم ٹھیک ہو؟۔۔۔ہاں بالکل‘‘
’’آؤ فروا کہیں بیٹھتے ہیں باتیں کرتے ہیں۔۔۔‘‘امن نے بیتابی سے کہا تو فروا مڑ کر دیکھنے لگی۔’’یہ میرے شوہر اور یہ بیٹا اور بیٹی‘‘’’واہ تم نے تو بہت ترقی کر لی۔‘‘امن نے بچوں کو پیار کیا۔’’تمہیں پتا ہے مارتھا اور سندر سنگھ نے شادی کر لیاور مزے کی خبر یہ ہے کہ اسی طرح میری ملاقات مائیکل سے ہوئی شاپنگ مال میں۔ امن وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ اس نے قرآن پاک بھی حفظ کر لیا۔ اس کا نیا نام احمد ہے۔‘‘امن کی آنکھوں کے آگے ہر چیز گھومتی جا رہی تھی۔ اچانک ساری دنیا دائروں میں چلنے لگی تھی پتا نہیں فروا نے اور کیا کہا۔ اور کب چلی گئی۔ بھابھی امن کو بازو سے پکڑ کر گھر لے آئیں وہ ابھی تک ہراساں تھی۔
’’مائیکل کون تھا؟ جو احمد بن گیا؟‘‘بھابھی کی آواز اسے چونکا یا تو وہ رو دی ۔ سالوں کے آنسو تھے بہتے چلے گئے۔ بہت دیر بعد بولی’’وہ میرا احمد ہے بھابھی میں اس سے بے پناہ محبت کرتی ہوں۔ اب اسے ڈھونڈنا ہے بس۔‘‘وہ خود کلامیوں میں اعترافِ محبت کر گئی تھی آنکھیں کبھی روتیں کبھی ہنستیں۔ وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اور گول گول دائروں میں گھومتی رہی پھر بیڈپر گر کر رونے لگی۔
’’کتنا وقت لگا احمد مجھے تم تک پہنچنے میں کتنا وقت‘‘رات بھر امن نے سارے فیصلے کر لئے وہ پوری طرح تیار تھی کہ درد کے ، جدائی کے ، پچھتاوؤں کے، نفرتوں کے سارے غبار دھو ڈالے گی۔ ’’صبح ہوتے ہی فروا کو فون کر کے احمد کا پتہ پوچھوں گی۔ امن آنکھیں موند کر اونچی آواز سے بولی ‘‘
اور پھر صبح سویرے گھر میں ہلچل تھی۔ ناشتہ، بچوں کی تیاری، ابو کی باتیں، اخبار میں موجود پاکستان کے حالات کے تذکرے، خضر کی جھنجھلاہٹ اور امن کے قہقہے۔
’’بھائی تم کتنے سڑو ہو گئے ہو‘‘
’’اور تم۔۔۔ابھی ابھی زندہ ہوئی ہو وجہ؟‘‘
’’بس ہے وجہ۔۔سرپرائز ہے۔۔۔‘‘وہ گنگنائی۔
’’یہ آج کی ڈاک۔۔۔‘‘امی نے میز پر خط رکھے تو وہ جھپٹی۔
’’بھابھی کی بہن کا خط۔ امی کے میکے کا خط، خضر حیات کا خط اور یہ۔۔۔یہ فاطمہ حامدی ۔۔۔یہ کون ہے؟‘‘امن نے سب کی طرف دیکھا سب نے لا علمی کا اظہار کیا تو وہ خط کھولنے لگی۔
’’امن تم یقیناً نام کی طرح پر امن اور پیاری ہو گی جس نے ہماری زندگی بدل کر رکھ دی‘‘
’’یہ کون؟‘‘ امن کے ہاتھ کانپے۔
’’تم آگے پڑھو۔۔۔‘‘ابو بولے تو وہ پڑھنے لگی۔
’’مَیں فاطمہ حامدی ہوں۔۔۔ احمد حامدی کی بہن۔۔۔یہ نام ہمیں استادِ محترم نے دئیے۔ جن سے ہم نے اسلام قبول کیا اور دین کی سمجھ بوجھ حاصل کی۔ جنہوں نے ہمیں بتایا کہ مذہب کیا ہے۔مسلمان کیسے مسلمان بنتا ہے۔ میرا بھائی تم سے بہت محبت کرتا تھا۔‘‘
’’وہ اکثر تمہارے نام خط لکھا کرتا جو وہ کبھی پوسٹ نہیں کرتا تھا۔۔۔تب مَیں اس کا مذاق اڑاتی تھی اور آ ج مَیں نے وہ خط اپنے ا س خط کے ساتھ پوسٹ کر دئیے ہیں۔۔۔ اگر پتا ہوتا یہ کرنا پڑے گا تو۔۔۔‘‘امن کا پورا وجود اس ادھورے فقرے پر تھر تھر کانپنے لگا مگر اب وہ رک نہیں سکتی تھی۔ پڑھتی گئی۔
’’ہم اکثر سے بھی زیادہ تمہاری باتیں کرتے تھے۔۔۔ تمہاری محبت ، میری احمد بھائی اور میری ماں کی نس نس میں سما چکی تھی۔ہم لوگ پاکستان آ گئے بھائی تمہیں بھی شادی کر کے پاکستان لانا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے تمہیں اپنے وطن سے بہت محبت ہے دس دن پہلے امی اور احمد بھائی ایران جا رہے تھے ۔اس کے بعد عمرے پہ تمہارے ساتھ جانے کا پروگرام بھی طے تھا۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیا گیا۔ ‘‘امن کے آنسو اور روانی سے بہنے لگے سب اس کے اردگرد آگئے اسے سمیٹنے لگے۔
’’ہمارے مسلمان ہونے کی ایک بڑی وجہ تم بھی ہو امن۔۔۔تم ہی بتاؤہم سنی ہیں یا شیعہ یا پھر دہشت گرد؟؟؟؟ہمارا مذہب اسلام کیا صرف مسلمانوں کا مذہب نہیں ہے؟۔۔۔یہ شیعہ،سنی، وہابی، دیوبندی، یہ سب کیا ہے تمہیں بتانا ہی ہو گا؟‘‘
امن گود میں احمد کے خط رکھے دھاڑے جا رہی تھی ’’ابو!۔۔۔ہم کون ہیں مجھے بتائیں ہم کون ہیں؟؟؟؟؟؟‘ ‘اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ابو سے پوچھا۔

Top of Form

Bottom of Form

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: