ریڈ لپ سٹک ۔۔۔ سارا احمد

ریڈ لپ اسٹک

سارااحمد

وہ میرے سامنے چلتا ہوا دُھند میں غائب ہو گیا- میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اسے نہیں روکوں گی، اسے نہیں پکاروں گی اور اسے یاد بھی نہیں رکھوں گی- میں اسے یاد نہیں صرف بھلانے کی کوشش کرتی ہوں- اب یہ کوشش یاد تو نہیں ہو سکتی- میرا وعدہ سچا تھا نا- میں نے اپنا عہد پورا کیا                        ***

اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں ریڈ لپ اسٹک ہی کیوں لگاتی ہوں- بیچ چوراہے پر میری ہنسی میرے پیر پڑ گئی تھی- یہ چوراہے جن پر کھڑے ہو کر ہم جیسے رو سکتے ہیں اور نہ کُھل کر ہنس سکتے ہیں- اپنے وجود کا بھار اٹھائے ان پیروں تلے اپنی ہنسی مَسل کر میں نے ایک ٹیکسی روکی اور اسے خدا حافظ کہہ کر چل دی- میرا اسے جواب دینا اتنا ضروری نہیں تھا- وہ کل پھر اسی جگہ موجود ہو گا لیمپ پوسٹ کی طرح ایستادہ کسی تھکے ہوئے مسافر کو سہارا دینے کے لیے- بیوقوف اتنا بھی نہیں سوچتا کہ کیوں ساری ٹریفک ریڈ سگنل پر رک جاتی ہے- یہ میری ریڈ لپ اسٹک بھی دنیا کے لیے ریڈ سگنل ہی تھی- میری واپسی کا سفر کسی ٹیکسی یا آٹو رکشہ سے ہی ممکن ہوتا تھا- اس کے پاس موٹر بائیک تھی- اس نے مجھے کئی مرتبہ پیشکش بھی کی لیکن میں اسے جھڑک دیتی تھی- میں جانتی تھی وہ میرے سارے ٹھکانوں سے واقف ہو گا- وہ ایک معمولی رپوٹر تھا- اخبار کے فلمی صفحے کے لیے کہیں سے بھی کوئی مصالحہ دار خبر تصویر کے ساتھ لگا کر چند روپے کما لیتا تھا- اس کے خیال میں مجھے باعزت روزگار اپنانا چاہیے تھا- اسے معاشرے کی عزت کا بہت خیال تھا- میرا سوال اس سے یہ تھا کہ کیا اس معاشرے کو کسی عورت کی عزت کا خیال تھا؟

میرا اس سے سوال کرنا ہر بار بیکار جاتا کہ وہ اپنی آنکھوں کو سکیڑ کر بند کر لیتا- ایسے میں ایک مرتبہ میں اسے دھکا دے کر آگے بڑھ گئی تھی- وہ اگر لیمپ پوسٹ کا سہارا نہ لیتا تو شاید زمین پر گر جاتا-

اس کا حلیہ اور ناک نقشہ ایک عام سے انسان جیسا تھا- لباس بھی وہ معمولی پہنتا- اس کی پتلونیں گھٹنوں سے گھسی ہوئی اور سردیوں میں اس کی جیکٹیں اور کوٹ لنڈے کے خریدے ہوئے ہوتے لیکن وہ ہر حال میں خوش رہتا- ہر موسم میں شام کے بعد میرا پیچھا کرتا- اس کے قدم اگر زمین پر جمے بھی رہتے تو آنکھیں مجھے اوجھل ہونے پر بھی تکتی رہتیں- میں تمام وقت ان نگاہوں کی تپش محسوس کر سکتی تھی-

اپنی مخصوص جگہ لیمپ پوسٹ سے کمر لگائے میں انجانے میں اس کی منتظر بھی رہتی تھی- کبھی میری نظر تھک کر پلٹ آتی اور کبھی تھکن گہری شام میں گُھل جاتی- وہ سامنے سے آرہا ہوتا اور میں اسے نظرانداز کر کے اپنے قریب رکنے والی گاڑی میں جلدی سے بیٹھ جاتی- اس کے پاس آنے سے پہلے میں اس سے دور ہوتی جاتی-

اس کا پیچھا کرنا مجھے ہمیشہ یونہی محسوس ہوتا جیسے شامِ غم کے ماتم میں کوئی چھلکتے پیمانے سے آنسو بن کر بہہ گیا ہو- اسے مجھ سے ہمدردی تھی- یہ میں جانتی تھی- وہ چاہے میرے جذبات ومحسوسات پر اثرانداز ہو بھی جاتا مگر میرے حالات و واقعات بدلنے پر قادر نہیں تھا-

میں نے لکھنا پڑھنا اپنی خالہ سے سیکھا تھا لیکن وہ مجھے زندگی کے بارے میں نہ سمجھا پائیں- اسے برتنا مجھے ضرورتوں نے سکھایا- آہستہ آہستہ میں نے دوسروں کی زندگی بھی اوڑھنا سیکھ لی- پیٹ کی بھوک اور بدن کا ننگ چھپانا آگیا- زمانے نے عزت دی نہیں اور مجھ سے زبردستی کمائی نہیں گئی- ماسی سے ریسیپشنسٹ کی نوکری تک ہر بار وہی ملا جس کی چاہ نہیں تھی- میں نے پھر چاہ چھوڑ کر خود کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا- ماں، بہن، بھائی اور باپ سب کچھ خالہ تھیں- اپنی معذوری کے دنوں میں خالہ نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان سے میرا خون کا رشتہ نہیں تھا- ریڈ لپ اسٹک کا تھا جو ہم دونوں کے بیچ لہو کی طرح تھی- مجھے رونے کے لیے کسی مرد کا کاندھا نہیں چاہیے تھا- میری مجبوریاں اس معاشرے کی ننگی آنکھ پر پردہ نہیں ڈال سکتی تھیں-

ایک حبس زدہ شام جب میں گلی کی نکڑ والے حکیم صاحب کے پاس گئی تھی وہ وہیں میرا منتظر تھا- دائیں ہاتھ میں پھلوں کا شاپر اٹھائے میری خاموشی پر میرے پیچھے پیچھے چلا آیا- اسے میری خالہ سے ملنا تھا جو اپنے وقت کی مشہور اداکارہ بھی تھیں اور اب بسترِمرگ پر حکیم صاحب کی پڑیاں چاٹ رہی تھیں- وہ ایک کوڑے کرکٹ سے بھری تنگ گلی میں میرے قدموں پر چلتا آیا- میں نے اسے مڑ کر دیکھا- اس کے نتھنے بدبو کے بھبھوکوں سے پھڑپھڑا رہے تھے- وہ میرے اچانک مڑ کر دیکھنے پر گھبرا کر گلی کی اکھڑی ہوئی اینٹوں کو دیکھنے لگا- اس وقت یہاں کوئی نہیں تھا- ہمارے چلنے سے جو آواز پیدا ہوتی تھی اس میں بھی ایک احتجاج تھا- گلی میں بچوں نے برف پانی کا کھیل کھیلنے کے لیے سفید چاک سے ایک دائرہ بنا رکھا تھا- اس دائرے کے اندر سے گزرتے ہوئے میرا جی چاہا میں برف ہو جاؤں اور سورج کبھی طلوع نہ ہو- کوئی مجھے چُھو کر بھی کبھی پانی نہ کر پائے- میں گندی نالیوں میں بہتے بہتے تھک گئی تھی- ایک زنگ آلود گیراج کا گیٹ کھولنے پر وہ ٹھٹک کر مجھ سے دور ہی رک گیا-

” اندر آجاؤ۔۔۔۔۔اگر باہر کہیں نہ ملوں تو یہیں میری لاش ملے گی-“

وہ میرے پیلے دانتوں کی نمائش پر کچھ خفا سا ہو گیا- میں اس کا سوجا ہوا منہ دیکھ کر ہنس پڑی-

ہنسنے پر میں ہمیشہ اپنے تلوؤں کو اپنی چپل سے ضرور رگڑتی تھی- میری ہنسی میرے پیروں سے سرایت کرتے ہوئے میرے اندر سے ختم ہو جاتی تھی- بے کسی میں ہنسنے رونے کے مقام جدا تھے- یہ شاید رونے کا مقام بھی نہیں تھا-

وہ گیراج کی نیم تاریکی میں بُت بنا کھڑا تھا- خالہ کی کھانسی کی گھٹی گھٹی آواز چارپائی پر ان کے ادھ موئے وجود کو جکڑے ہوئے تھی- دوسری چارپائی کی پائینتی پر دو لحاف اور کچھ میلے کھیس رکھے تھے- میں نے وہیں پر اس کے لیے جگہ بنائی اور خود خالہ کے سرہانے بیٹھ گئی-

وہ خالہ سے ان کی زندگی کے بارے میں سوالات کرنے آیا تھا- وہ کچھ دیر خالہ کی لاچاری اور ایک فنکار کی کسمپرسی پر سر جھکا کر اپنی آنکھوں میں اُمڈے آنسوؤں کو روکتا رہا-

” اب تو ہمیں رونا نہیں آتا آپ کیوں روتے ہیں۔۔۔۔-“

خالہ کو دو گھڑی کی زندگی ملی تھی- ان کا کوئی پرستار ان کے آخری لمحوں میں ان کے سامنے تھا- ان حالات میں وہ ان کے لیے غمزدہ بھی تھا- میں وقتی طور پر ان دونوں کے درمیان سے نکل جانا چاہتی تھی- میں گیراج کے ایک کونے میں رکھے اسٹوو کو جلانے کی کوشش کرنے لگی- مٹی کے تیل کی بُو وہاں ازل کی بے بسی میں رچ بس گئی تھی- بے قلعی دیوار کے ساتھ پانی کی بھری ہوئی بوتلیں رکھی تھیں- میں نے دھوئیں سے سیاہ پیندے والی ایک کیتلی میں چائے کے لیے پانی رکھا جو اُبل اُبل کر وہیں سوکھ گیا

                        ***

” میں تمہیں ایک بار دیکھنے ضرور آؤں گا-“

جانے والے اکثر وعدوں کو اسٹیشن پر ہی چھوڑ جاتے ہیں- پلیٹ فارم کے کسی بنچ پر انتظار کی گھٹڑی رکھ کر آسودہ رہتے ہیں- اس نے مجھے نہیں چھوڑا- میں نے اسے الوداع کہہ دیا تھا- وہ گاؤں اپنی ماں کے پاس چلا گیا تھا- اس کے بچپن کی منگیتر بھی وہاں اس کی منتظر تھی- ترقی کی جس خواہش کے ساتھ وہ گاؤں سے چلا تھا اسے ماں کی لوری میں سلانے آخر واپس لوٹ گیا- شہر سب کو راس نہیں آتے-

میرے اثاثے میں سوائے اس کی آہٹوں کے کچھ بھی نہیں- وہ دُھند میں سے نکل کر اکثر شام کے بعد میرے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے- کھانے کے ہر نوالے کے ساتھ اس کی انگلیوں کی پوروں کا لمس میرے بدن کے سارے خار چُنتا ہے- میں گھنٹوں گیراج کے ٹھنڈے فرش پر تنہا دائرے میں بیٹھی رہتی ہوں- مجھے اطمینان ہے کہ میں نے اس کے شانے پر سر رکھ کر آنسو نہیں بہائے- میں نے سب کچھ اپنی تنہائیوں سے بانٹا- میں نے اسے ایک بار کہا تھا جب کہیں نہیں ملوں گی تو میری لاش اسی گیراج میں ملے گی- ایک اور لاوارث لاش جسے شاید کوئی اخبار اپنی سرخی بھی نہ بنائے- گیراج کے مالک کی عنایت سے محلے والے مجھے دو وقت کا کھانا دے جاتے ہیں- یہاں کے مکین نہ جانے کن کن بیماریوں میں مبتلا ہیں- میں جس بیماری میں مبتلا ہوئی تھی اس کی ہمدردی کے سامنے شرمسار نہیں ہونا چاہتی تھی- یہاں موت کو کفن لینے کے لیے بھی زندگی کے کئی اُدھار چکانا پڑتے ہیں-

رسوا کی امراؤ جان ادا اب بھی مجھے بے قلعی دیواروں پر رقص کرتی اور اپنی داستان سناتی نظر آتی ہے- میں نے خالہ کی چند کتابیں اور کچھ پرانی تصویریں اپنے پاس رکھ لی تھیں- وہ اپنے پسندیدہ اشعار آخری دنوں میں اپنی تنہائی کو سنایا کرتی تھیں- ان کی موت کی شہہ سُرخی والا اخبار کا صفحہ بھی ہمیشہ میرے پاس محفوظ رہا- میں نے ان کے نیم وا ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگا دی تھی- ان سے میرا یہ وعدہ تھا کہ ان کا چہرہ گلاب کی طرح کھلا نظر آئے گا اور دنیا ان پر ترس نہیں کھائے گی-

زندگی کی آخری رات اتنی طویل ہو جاتی ہے کہ چاند تھک کر ان دیکھی دنیاؤں کی طرف رُخ موڑ لیتا ہے اور ستارے سو جاتے ہیں- داستان کا آخری حصہ بچی ہوئی رات کی شہہ رگ کاٹنے لگا تھا- میں نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں میں گرتے ہوئے آئینے کو سنبھال لیا اور اپنے ہونٹ ریڈ لپ اسٹک سے رنگ لیے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: