غزل

ثروت جہاں

تیرگی کا روشنی سے رابطہ پیہم کھلا

بعد صدیوں کے تمھارے نام کا سم سم کھلا

خال و خد خود میں سمیٹے سو گیا سیمی بدن

وحشی ہوا کے زور سے بندِ قبا یکدم کھلا

زہر خند لہجہ نہیں مثلِ حلاوت ہو سکا

اطلس و کمخواب بن کے ذات کا ریشم کھلا

آمادہ ِ لذت ہمیشہ سے رہی دیوانگی

سلسلہ ہائے جنوں عقل پہ کم کم کھلا

پیاس کی حرمت کی خاطر بادلوں کا قافلہ

وحشتوں کا اذن پا کر دشت پہ تھم تھم کھلا

دیکھو نگلتی جا رہی ہے چاند کو تیرہ شبی

رہنے دینا ہجر کی شب آنکھ کو جانم کھلا

لاچار کی افسردگی تشنہ لبی نہ سہہ سکی

پھٹ گئی اس پل زمیں اور وہ زم زم کھلا

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

May 2021
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: