سنکی بابو ۔۔۔ ستیہ جیت رے

سنکی بابو

ستیہ جیت رے

سنکی بابو کا اصلی نام پوچھ ہی نہ سکا۔ خاندانی نام ہے مکرجی۔ چہرہ ایک بار دیکھ لیا جائے تو بھلانا مشکل ہے۔ قد تقریباً چھ فٹ۔ بدن پر چربی کانام نہیں ہے۔ پشت دھنش کی طرح ٹیڑھی۔ ہاتھ پاؤں، گلے اور گالوں سے بے شمار نسیں جلد کو ہٹا کر باہر نکل آنا چاہتی ہیں۔ ٹینس کالروالی سفید شرٹ، کالے فلالین کی پینٹ، سفید موزے، سفید کڈس۔ دارجیلنگ میں یہی پیٹنٹ لباس تھا۔ اس کے علاوہ ان کے ہاتھ میں ایک مضبوط لاٹھی رہتی تھی۔ جنگل کی اوبڑ کھابڑ زمین پر گھومنے پھرنے کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے ، ہوسکتا ہے، لاٹھی کی ضرورت پڑتی ہو۔

دس سال قبل سنکی بابو سے میری جان پہچان ہوئی تھی۔ میں کلکتہ کے بینک میں نوکری کرتا ہوں۔ دس دنوں کی چھٹی باقی تھی۔بیساکھ کے مہینے میں اپنے پیارے شہر دارجیلنگ پہنچ گیا۔ پہلے دن ہی سنکی بابو کے دیدار ہوگئے۔یہ دیدار کس طرح ہوے، یہی بتانے جارہا ہوں۔

تیسرے پہر ساڑھے چار بجے ہوٹل سے چائے پی کر نکلا۔ بارش کا ایک ریلا دوپہر میں آچکا تھا، اب پھر کب آجائے، کہا نہیں جاسکتا۔ اس لیے بدن پر برساتی ڈال کر نکلا ہوں۔ دارجیلنگ کے سب سے دلکش، سب سے سنسان راستے جل پہاڑ روڈ سے ہوتا ہوا میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ اچانک تقریباً پچاس ہاتھ کی دوری پر ایک موڑ پر ایک آدمی کو سڑک کے کنارے لاٹھی کے سہارے کھڑا ہوا دیکھا۔ وہ جھک کر کسی چیز کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ ویسے وہ منظر کچھ زیادہ عجیب نہیں لگا۔ جنگلی پھول یا کیڑے مکوڑوں کے بارے میں دلچسپی ہونے پر آدمی اس طرح گھاس کی طرف نِہارسکتا ہے۔ میں نے اس شخص پر ایک تجسس بھری نگاہ ڈالی اور پھر آگے بڑھنا شروع کیا۔

مگر اس کے نزدیک پہنچنے پر پتا چلا کہ میں اس بات کو جتنی عام سمجھ رہا تھا، اتنی نہیں ہے۔اس آدمی کی محویت پر مجھے حیرت ہوئی۔ میں پانچ ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہوکر اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہاتھا مگر وہ مجھے پوری طرح نظر انداز کر کے پہلے کی طرح ہی جھک کر گھاس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بنگالی جان کر میں اس سے کچھ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔

’’کوئی چیز گم ہوگئی ہے کیا؟‘‘

کوئی جواب نہ ملا۔ یہ آدمی بہرا ہے کیا؟میرا تجسس اور بھی بڑھ گیا۔ اس واقعے کاانجام دیکھے بغیر نہیں جاؤں گا۔ میں نے ایک سگریٹ سلگائی ۔ تقریباً تین منٹ کے بعد اس ساکت بدن میں جیسے جان آئی۔ وہ تھوڑا اور جھک گیا اور اپنے داہنے ہاتھ کو گھاس کی طرف بڑھایا۔

گھنی گھاس کے اندر اس کی انگلیاں داخل ہوئیں اور کچھ دیر بعد ہاتھ اوپر کو اٹھ آیا۔ انگوٹھے اور انگلی کے بیچ ایک چھوٹی سی گول چیز تھی۔ غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ وہ ایک بٹن ہے، تقریباً اٹھنی جتنا بڑا۔ شاید کوٹ کابٹن ہے۔

بٹن کو آنکھوں کے سامنے لاکر چند لمحوں تک اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس کے بعد زبان سے چار مرتبہ ’’چچ چچ‘‘ جیسی افسوس کا اظہار کرنے والی آواز نکالی اور اسے قمیص کی جیب میں رکھ کر، مجھے نظرانداز کر کے، وہاں سے چلا گیا۔

شام کو لوٹتے وقت مال کے سامنے، فوارے کے پاس دارجیلنگ کے پرانے باشندے ڈاکٹر بھومِک سے ملاقات ہوگئی ۔ وہ کالج کے دنو ں میں بابوجی کے ہم جماعت رہ چکے ہیں۔ مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔

انھیں آج تیسرے پہر کا قصہ سنائے بغیر نہ رہ سکا۔ قصہ سننے کے بعد بھومک صاحب نے کہا، ’’حلیے سے توسنکی بابو معلوم ہوتے ہیں۔‘‘

’’سنکی بابو؟‘‘

’’سیڈ کیس۔ نام یاد نہیں ہے، خاندانی نام ہے مکرجی۔ تقریباً پانچ سال سے دارجیلنگ میں رہ رہے ہیں۔ گرینڈلیز بینک کے پاس ہی کرائے کے ایک مکان میں رہتے ہیں ۔ کٹک کے ریبونشا کالج میں فزکس کے پروفیسر تھے۔ جرمن یونیورسٹی کی ڈگری ان کے پاس ہے۔ سنا ہے، طالب علم کی حیثیت سے بڑے ذہین تھے۔ نوکری چھوڑ کر یہیں چلے آئے ہیں۔ شاید تھوڑی بہت باپ دادا کی جائیداد ہے۔‘‘

’’آپ سے جان پہچان ہے؟‘‘

’’شروع میں ایک بار میرے پاس آئے تھے۔ راستے میں پھسل کر گرجانے کی وجہ سے سیپٹک ہو گیا تھا۔ میں نے ٹھیک کردیا تھا۔‘‘

’’مگر سنکی بابو نام…؟‘‘

بھومک صاحب نے ایک قہقہہ لگایا۔ ’’ان کے ایک بے ڈھب شوق کے چلتے یہ نام پڑگیا ہے۔ لیکن یہ نام کس نے رکھا ہے، کہنامشکل ہے۔‘‘

’’شوق کیا ہے؟‘‘

’’تم تو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو کہ راستے میں پڑے ایک بٹن کو اٹھاکر جیب میں رکھ لیا۔ یہی ہے ان کا شوق یا ہابی۔ اِدھر اُدھر سے چیزیں اٹھاکر بہت سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔‘‘

’’کوئی بھی چیز؟‘‘ پتا نہیں کیوں اس آدمی کے تئیں میرے دل میں تجسس بڑھتاجارہا تھا۔

ڈاکٹر بھومک نے کہا،’ ’ہم اسے معمولی چیز کہیں گے، مگر وہ دعویٰ کریں گے کہ بہت ہی قیمتی چیز ہے۔کیونکہ ان چیزوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی واقعہ جڑاہوا ہے۔‘‘

’’مگر انھیں اس کی معلومات کس طرح حاصل ہوتی ہیں؟‘‘

ڈاکٹر بھومک نے اپنی دستی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوے کہا،’’یہ بات تم انھیں سے پوچھ لو۔ کوئی ملنے والا ہاتھ آ جائے تو انھیں خوشی ہوتی ہے، کیونکہ ان کے پاس گپوں کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ انھوں نے جن جن چیزوں کو جمع کیا ہے، ہرایک کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی ہے۔ سب کی سب وائلڈ اور نانسینس۔ اور ہاں، وہ انھیں سناکر خوش ہوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ تمھیں سن کر خوشی ہوگی یا نہیں…‘‘

دوسرے دن ناشتہ کرنے کے بعد میں باہرنکلا ۔ گرنڈلیز بینک کے پاس سنکی بابو کامکان ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہ ہوئی، کیونکہ محلے کا ہر شخص انھیں پہچانتا ہے۔ سترہ نمبر کے مکان کے دروازے پر دستک دیتے ہی وہ باہر نکل آئے۔ حیرت کی بات ہے کہ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔

’’کل آپ نے مجھ سے کچھ پوچھاتھا، مگر اس وقت میں جواب دینے کی حالت میں نہیں تھا۔ ایسے وقت میں توجہ بٹ جائے تو بھاری مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اندر آئیے۔‘‘

کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی جس چیز پر سب سے پہلے میری نظر پڑی، وہ ایک الماری تھی۔ بائیں طرف کی دیوار کے آدھے حصے تک پھیلی ہوئی، شیشے سے آراستہ اس الماری کے ہر خانے میں ایک کے بغل میں دوسری چیز رکھی ہے۔ وہ حالانکہ بالکل معمولی چیزیں ہیں، مگر ایک سے دوسری کا کوئی میل نہیں ہے۔ سرسری نگاہ دوڑانے پر میری نظریں ایک شیلف پر گئیں۔ وہاں پیڑ کی ایک جڑ، ایک زنگ آلود تالا، ایک پرانے زمانے کا گولڈ فلیک کا ٹین، ایک اون بننے کی سلائی، جوتے صاف کرنے کا ایک برش، اور ٹارچ لائٹ کی ایک بیٹری تھی۔ میں حیران ہوکر ان چیزوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ تبھی انھوں نے کہا، ’’ان چیزوں کو دیکھنے سے آپ کو کوئی خاص خوشی حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ ان چیزوں کی قیمت صرف میں ہی جانتا ہوں۔‘‘

’میں نے کہا، ’’سنا ہے ان چیزو ں کے پیچھے چند خاص واقعات کا ہاتھ ہے۔‘‘

’’ہے۔‘‘

’’مگر ایسی بات تو ہر چیز کے ساتھ رہتی ہے۔ جیسے آپ جس گھڑی کو ہاتھ میں پہنے ہیں…‘‘

شریف شخص نے ہاتھ اٹھاکر مجھے بولنے سے روکا اورکہا، ’’واقعہ تو ضرور موجود رہتا ہے، مگر سبھی چیزوں پر اس واقعے کی چھاپ نہیں رہ جاتی ہے ۔ کبھی کبھی ایسی چیزیں مل جاتی ہیں جن پر چھاپ رہتی ہے۔ جیسے کل کا یہ بٹن…‘‘

کمرے کے داہنی طرف ایک رائٹنگ ڈیسک پر بٹن رکھا ہوا تھا۔ انھوں نے بٹن کو میری طرف بڑھایا۔ کتھئی رنگ کا کوٹ کابٹن ہے۔ اس میں مجھے کوئی خصوصیت نظر نہیں آئی۔

’’سمجھ میں کچھ آرہا ہے؟‘‘

مجھے ’’نہیں‘‘ کہنا پڑا۔

سنکی بابو نے کہا، ’’یہ بٹن ایک صاحب کے کوٹ کا ہے۔ وہ صاحب گھوڑے پرسوار ہوکر جل پہاڑ روڈ سے گزر رہے تھے۔ عمر ساٹھ کے آس پاس ۔ رائیڈنگ کے لباس میں تھے۔ تندرست، طاقتور ملٹری بدن۔ جہاں یہ بٹن ملا ہے، وہیں آنے پر دل کا دورہ پڑا۔ گھوڑے سے گرپڑے۔ ان پر دو راہگیروں کی نظر پڑی اور وہ دوڑ کر آئے، مگر تب تک ان کی موت ہوچکی تھی۔ گھوڑے سے گرتے وقت ہی بٹن ٹوٹ کر سڑک کے کنارے گرپڑا۔‘‘

’’یہ سب کیا آپ دیکھ لیتے ہیں؟‘‘

’’ووڈی، جتنازیادہ دل لگاتا ہوں، اتنا ہی صاف دکھائی دیتا ہے۔اس طرح کی خاص قسم کی خوبی سے بھرپور چیزوں کے پاس آتے ہی میں اپنے سر میں درد محسوس کرنے لگتا ہوں۔ اس کے بعد میری نظر دھندلی ہوجاتی ہے۔لگتا ہے نیچے گرپڑوں گا۔مگر اس کے بعد منظر صاف نظر آنے لگتے ہیں اور میرے پیر سیدھے ہوجاتے ہیں۔ اس تجربے کی وجہ سے میرے جسم کی حرارت بڑھ جاتی ہے۔ ایسا ہر بار ہوتا ہے۔ کل رات تقریباً آٹھ بجے تک بخار تھا۔ اتناضرور ہے کہ بخار زیادہ دیر تک نہیں رہتا ہے۔ اب میں بالکل تندرست ہوں۔‘‘

بات عجیب ہونے پر بھی مجھے دلچسپ لگ رہی تھی۔ میں نے کہا، ’’آپ دوچار مثالیں اور دے سکتے ہیں؟‘‘

سنکی بابو نے جواب دیا، ’’الماری مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ جو کاپی دیکھ رہے ہیں، اس میں ہر واقعے کاتفصیلی بیان موجود ہے۔ آپ کس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟‘‘

میں کچھ بولوں اس سے پہلے ہی انھوں نے الماری کا شیشہ ہٹایا اور خانے میں سے دو چیزیں نکال کر میز پر رکھ دیںـ ایک بہت ہی پرانا چمڑے کا دستانہ اور ایک چشمے کا شیشہ۔

’’اس دستانے کو دیکھ رہے ہیں نا؟‘ ‘ سنکی بابو نے کہا، ’’اسے میں نے سب سے پہلے حاصل کیا تھا۔ یعنی یہ میرے ذخیرے کی پہلی چیز ہے۔ اسے میں نے سوئٹزر لینڈ کے لسرن شہر کے باہر ایک جنگل سے حاصل کیا تھا۔ تب ماربُرگ میں میری تعلیم کاسلسلہ ختم ہوچکا تھا۔ اپنے وطن لوٹنے سے قبل میں گھوم پھر کر کانٹینینٹ دیکھ رہا تھا۔ صبح سیر کے لیے لسرن میں نکلا تھا۔ راستہ سنسان جنگل سے ہوکر گزرتا ہے۔ سستانے کے خیال سے ایک بنچ پر بیٹھا ہوا تھا، تبھی پاس ہی ایک درخت کے تنے کے نیچے دستانے کے انگوٹھے پر میری نظر پڑی اور ساتھ ہی ساتھ میرا سردرد کرنے لگا۔ اس کے بعد آنکھوں کے سامنے دھندلاپن چھا گیا۔ ا س کے بعد آنکھوں کے سامنے تصویر آئی۔ ایک شخص دیکھنے میں اچھا عالی نسب، منھ میں لمبا ٹیڑھا پائپ، دستانے پہنے، ہاتھ میں چھڑی لیے، سڑک پر پیدل چلا جارہا ہے۔ اچانک جھاڑی کے پیچھے سے دو آدمی نکل کر آتے ہیں اور اس پر حملہ کردیتے ہیں۔ بے بس ہوکر ہاتھ پیر پٹکتا ہے۔ اٹھا پٹک میں اس کے داہنے ہاتھ کا دستانہ گرجاتا ہے۔ حملہ آور اس پر سوار ہوگئے اور بیدردی کے ساتھ اس کو قتل کر کے، کو ٹ کی جیب سے روپیہ پیسہ اور ہاتھ سے سونے کی گھڑی نکال کر رفوچکر ہوگئے۔‘‘

’’کیا سچ مچ اس طرح کا واقعہ پیش آیاتھا؟‘‘

میں تین روز تک اسپتال میں رہا ۔ بخار کی وجہ سے ہذیان کی حالت میں۔ اس کے ساتھ اور بھی تکلیفیں تھیں۔ ڈاکٹر اسٹائنٹس مرض کا پتا نہیں لگا سکے۔ اس کے بعد بیماری خودبخود دور ہوگئی۔ اسپتال سے نکلنے کے بعد میں نے تلاش شروع کردی۔ دو سال قبل اسی جنگل میں ٹھیک اسی مقام پر کاؤنٹ فرڈینینڈ مسیپ نام کے ایک امیر شخص کا اسی طرح قتل ہوا تھا۔ اس کے لڑکے نے دستانے کو پہچان لیا۔‘‘

وہ اس طرح اس واقعے کو بیان کر گئے کہ ان کی بات پر یقین نہ کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے کہا،’ ’تبھی سے آپ نے چیزوں کو جمع کرنا شروع کردیا؟‘‘

سنکی بابو نے کہا، ’’اس دستانے کو حاصل کرنے کے بعد لگ بھگ دس سال تک اس طرح کاکوئی اور تجربہ نہ ہوا۔ اس درمیان میں اپنے وطن واپس لوٹ کر کٹک کے کالج میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوگیا تھا۔ چھٹی میں اکثر گھومنے کے لیے یہاں وہاں نکل جایا کرتاتھا۔ ایک باروالٹےئر جانے پر دوسرا تجربہ حاصل ہوا۔ سمندر کے کنارے ایک پتھر کی تلاش میں جانے پر عینک کا یہ شیشہ ملا۔ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ پلس پاور کاکانچ ہے۔ ایک مدراسی حضرت نے چشمہ اتارکر رکھ دیا اور نہانے چلے گئے۔ وہ پھر پانی سے باہر نہیں نکلے۔ ان کے پاؤں کو کلیمپ نے پکڑ لیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پانی میں ڈوب گئے ۔ پانی سے ہاتھ اٹھاکر مدد کے لیے چلاتے رہے۔ بڑی ہی دردناک چیخ تھی ان کی۔ انھیں کی عینک کا یہ شیشہ مجھے چار برس بعد ملا۔ یہ بھی سچا قصہ ہے، تحقیقات کرنے پر مجھے پتا چلا تھا، ویل نون ڈراؤننگ کیس۔ نام تھا شِو رَمن۔ کوئمبٹور میں رہتے تھے۔‘‘

سنکی بابو نے دستانے اور شیشے کو اپنے مقام پر رکھ دیا اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔’’جانتے ہیں میری الماری میں کتنی چیزیں ہیں؟ ایک سو بہتر۔ پچھلے تیس برسوں میں انھیں جمع کیا ہے۔ اس قسم کے ذخیرے کی بات آپ نے سنی ہے؟‘‘

میں نے سرہلاکر انکار کیا اور اس کے بعد کہا، ’’آپ کا یہ شوق بالکل انوکھا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر آپ کی ہر چیز کے ساتھ کیا موت کا واقعہ منسلک ہے؟‘‘

انھوں نے سنجیدگی کے ساتھ کہا، ’’ہاں، بات یہی ہے۔ موت نہیں بلکہ اچانک اور غیر فطری موتـ قتل، خود کشی، سفاک موت، دل کا دورہ پڑجانے سے ہوئی موت۔ اس قسم کے واقعات سے منسلک ہونے پر ہی کوئی چیز میرے اندر رد عمل پیدا کرتی ہے۔‘‘

’’یہ تمام چیزیں کیا آپ کو راستہ چلتے ملی ہیں؟‘‘

’’زیادہ تر اسی طرح ملی ہیں۔ باقی چیزیں کالے بازار، نیلام اور کیوریو کی دکانوں میں ملی ہیں۔ یہ جوکٹ گلاس کا شراب کا پیالہ دیکھ رہے ہیں، وہ مجھے کلکتہ کی رسل اسٹریٹ کی ایک نیلام کی دکان میں ملا ہے۔ اس شراب کے پیالے میں برانڈی کے ساتھ زہر ملا دینے کی وجہ سے انیسویں صدی کے ایک لحیم شحیم انگریز کی کلکتہ میں موت ہوگئی تھی۔‘‘

میں کچھ دیر سے الماری کی چیزوں کو چھوڑ کر سنکی بابو کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ بہت غور کرنے پر بھی ان میں بہروپیے کی کوئی نشانی نظر نہ آئی۔ اورنہ ہی پاگل پن کی کوئی علامت ؟ لگتا تو نہیں ہے۔ پاگلوں کی آنکھوں میں ایک قسم کی اداسی نظر آتی ہے۔ شاعر، جذباتی لوگوں اور درویشوں یا عارفوں میں بھی یہ اداسی کبھی کبھی نظر آتی ہے۔

اس کے بعد میں وہاں نہیں رکا۔ وداع کہہ کر جب وہاں سے روانہ ہوا تو انھوں نے کہا، ’’پھر آئیے گا۔ آپ جیسے لوگوں کے لیے میرادروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ آپ کہاں ٹھہرے ہوے ہیں؟‘‘

’’ایلس وِلا ہوٹل میں۔‘‘

’’اوہ! تب تو دس منٹ کا راستہ ہے۔ آپ کے ساتھ وقت اچھا گزرا۔ کوئی کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے جسے میں قطعی برداشت نہیں کرپاتا۔ مگر آپ سمجھدار اورنیک دل انسان ہیں۔‘‘

تیسرے پہر ڈاکٹر بھومک نے چائے پر بلایا تھا۔ میرے علاوہ دولوگ اور مدعو تھے۔ چائے کے ساتھ چنا چور اور کیک کھاتے کھاتے میں نے سنکی بابو کا ذکر چھیڑ دیا۔ بھومک بابو نے دریافت کیا، ’’وہاں کتنی دیر تک تھے؟‘‘

’’تقریباً ایک گھنٹے تک۔‘‘

’’باپ رے!‘‘ ڈاکٹر بھومک کو بے حد حیرانی ہوئی۔’ ’ایک گھنٹے تک اس جھوٹے کی بکواس سنتے رہے؟‘‘

میں مسکرایا۔ ’’اتنی بارش ہورہی ہے کہ آزادی سے گھومنا پھرنا مشکل ہے۔ ہوٹل کے کمرے میں بند رہنے کے بجاے ان کی سننا کہیں اچھا لگتا ہے۔‘‘

’’کس کے بارے میں باتیں چل رہی ہیں؟‘‘

یہ سوال تقریباً چالیس سال کے ایک آدمی نے پوچھا۔ ڈاکٹر بھومک نے تعارف کے طور پر ان کانام مسٹر خاستگیر بتایا تھا۔ سنکی بابو کے سنکی پن کی باتیں سن کر مسٹر خاستگیر نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا، ’’ایسے لوگوں کو یہاں ڈیرا ڈالنے کا موقع دے کر یہاں کی آب وہوا خراب کیوں کر رہے ہیں، ڈاکٹر بھومک؟‘‘

ڈاکٹر بھومک نے مسکراکر کہا، ’’اتنے بڑے شہر کی آب وہوا خراب کردیں، ایسی صلاحیت کیا ان میں ہے؟ شاید نہیں۔‘‘

مسٹر نسکر نامی ایک تیسرے شخص نے ہندوستان کے دروغ گویوں کے برے اثرات پر ایک چھوٹی موٹی تقریر کرڈالی۔ آخر کار لاچار ہوکر مجھے کہنا پڑا کہ سنکی بابو چونکہ تنہا زندگی گزار رہے ہیں، لہٰذا ان کے جھوٹ کا اثر دوسروں پر پڑنے کی امید کم ہی ہے۔

بھومک صاحب دارجیلنگ میں لگ بھگ تیس سال سے رہ رہے ہیں۔ خاستگیر بھی پرانے باشندے ہیں۔ لہٰذا میں ان دونوں سے ایک سوال کیے بغیر نہ رہ سکا۔

’’جل پہاڑ روڈ میں کوئی انگریز گھڑسوار دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے مر گیا ہو، ایسا کوئی واقعہ آپ لوگوں کو معلوم ہے؟‘‘

’’تم میجر بریڈلے کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ یہ تو تقریباً آٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ اسٹروک ہوا تھا۔شاید جل پہاڑ روڈ پر ہی۔ اسپتال لایا گیاتھا، مگر اس کے پہلے ہی ان کی موت ہوچکی تھی، مگر تم یہ باتیں کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘

میں نے سنکی بابو کے بٹن کی بات بتائی۔

مسٹر خاستگیر آگ بگولا ہوگئے۔ ’’وہ اس قسم کی باتیں کر کے کسی غیبی طاقت کا دعویٰ کر رہا ہے؟ ارے ، یہ تو نمبری شیطان معلوم ہوتا ہے ۔ اتنے عرصے سے دارجیلنگ میں رہ رہا ہے۔ گھوڑے سے گر کر انگریز مرچکا ہے، یہ بات یوں بھی اس کے کانوں میں پہنچ سکتی ہے۔ اس میں غیبی طاقت کی بات کہاں سے آگئی؟‘‘

میں نے بھی اس بات پر غور کیاتھا۔ دارجیلنگ میں رہ کر وہاں کے ایک واقعے کو جاننا سنکی بابو کے لیے ناممکن نہیں ہے۔ اس لیے میں نے بات چیت کاسلسلہ آگے نہیں بڑھایا۔ چائے کا دور جب اس قسم کی باتوں کے بیچ ختم ہوگیا تو میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ میرے ساتھ ہی مسٹر نسکر بھی اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی ایلس وِلا کی طرف رہتے ہیں، لہٰذا میرے ساتھ ہی چہل قدمی کرتے ہوے لوٹیں گے۔ ہم ڈاکٹر بھومک سے وداع لے کر باہر نکل آئے۔ شام ہونے والی ہے۔ دارجیلنگ آنے کے بعد پہلی بار میں نے دیکھا کہ بادل چھٹنے لگا ہے اور ڈوبتے ہوے سورج کی کرنیں اسٹیج کی اسپاٹ لائٹ کی مانند شہر اور شہر کے آس پاس کے پہاڑوں پر چمک رہی ہیں۔

مسٹر نسکر دیکھنے میں کافی طاقتور لگ رہے تھے ، مگر اب دیکھ رہا ہوں کہ چڑھائی کے راستے میں کافی پریشان معلوم ہورہے ہیں۔ ہانپتے ہانپتے انھوں نے مجھ سے پوچھا، ’’وہ صاحب کہاں رہتے ہیں؟‘‘

میں نے کہا،’’ملیں گے؟‘‘

’نہیں، یوں ہی پوچھ لیا۔‘‘

سنکی بابو کے مکان کا پتا بتاتے ہوے میں نے کہا، ’’وہ چہل قدمی کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔ ہوسکتا ہے راستے میں ہی ملاقات ہوجائے۔‘‘

کتنی حیرت انگیز بات ہے! وہی ہوا۔ بات کہنے کے بعد دو منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ایک موڑ پر آتے ہی ہم نے دیکھا، سامنے بیس ہاتھ کی دوری پر سنکی بابو ہیں۔ وہ اپنے داہنے ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور بائیں ہاتھ میں ایک مڑا ہوا اخبار لیے ہماری طرف ہی آرہے تھے۔ مجھے اپنے سامنے دیکھ کر ان کے چہرے پر جو تاثر آیا اسے اگر ہنسی نہ کہا جائے تو ناگواری بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ بتایا، ’’گھر میں بجلی فیل ہوگئی ہے بھائی، لہٰذا موم بتی خرید کر آرہا ہوں۔‘‘ اخلاقاً میں نے مسٹر نسکر سے ان کا تعارف کرایا،’’آپ ہیں مسٹر نسکر، اور آپ مسٹر مکرجی۔‘‘

نسکر رکھ رکھاؤ والے آدمی تھے۔ نمسکار کرنے کے بجاے اپنا داہنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ زبان سے کسی قسم کاجملہ ادا کیے بغیر سنکی بابونے ان سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد وہ اسی طرح کھڑے رہے جیسے پہلے تھے۔ میرے ساتھ ساتھ مسٹر نسکر بھی اکتاہٹ محسوس کرنے لگے۔ تقریباً آدھا منٹ تک خاموش رہنے کے بعد حالات جب نسکر کی برداشت کے باہر ہوگئے تو انھوں نے کہا،’’اچھا، میں پھر آگے بڑھتا ہوں۔ آپ کے بارے میں سناتھا، اتفاقاً ملاقات ہوگئی۔‘‘

’’اچھا، چلوں مسٹر مکرجی!‘‘ لاچار ہوکر مجھے بھی یہی کہنا پڑا۔ اس وقت سنکی بابو بالکل پاگل جیسے لگ رہے تھے۔ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر وہ کیا سوچ رہے ہیں، پتا نہیں ۔ ہم لوگوں کے وہاں سے چلے جانے کی بات کی جیسے انھیں پروا ہی نہیں تھی۔ ہوسکتا ہے نسکر صاحب انھیں پسند نہ آئے ہوں، مگر مجھ سے تو آج صبح بہت خلوص سے بات چیت کرچکے ہیں۔ انھیں پیچھے چھوڑ کر ہم آگے نکل گئے۔ اس کے بعد میں نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا، وہ تب بھی اسی طرح کھڑے تھے۔ نسکر صاحب نے اپنی رائے ظاہر کی، ’’آپ سے سننے کے بعد یہ حضرت جتنے پاگل لگے تھے، اب دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس سے کہیں زیادہ پاگل ہیں۔‘‘

رات کے نو بجے ہیں۔ اب میں کھانا کھا کر، منھ میں پان کا ایک بیڑا دبائے ، جاسوسی ناول تھامے، بستر پر جانے کی سوچ رہا تھا کہ تبھی بیرے نے آکر خبر سنائی کہ ایک آدمی مجھے تلاش کر رہا ہے۔ باہر آکر دیکھا تو ایک دم حیران ہوگیا۔ اتنی رات میں سنکی بابو میرے پاس کیوں آئے؟ آج شام ہی ان میں اکتاہٹ کا جو جذبہ دیکھا تھا وہ احساس ابھی تک میرے ذہن سے پوری طرح سے دور نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے کہا، ’’یہاں بیٹھنے کی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تنہائی ہو؟‘‘

باہر کھڑے رہنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا، مگر پھر سے بارش کی بوندیں ٹپکنے لگی ہیں۔ میں انھیں اپنے کمرے کے اندر لے آیا۔

کرسی پربیٹھ کر ہانپتے ہوے بولے، ’’ذرا میری نبض تو دیکھو… میں تمھیں تم کہہ کر مخاطب کر رہاہوں، برامت ماننا۔‘‘

ان کے بدن پر ہاتھ رکھتے ہی میں چونک اٹھا۔ کافی تیز بخار ہے۔ میں نے گھبراکر کہا، ’’ایناسِن دوں؟ میرے پاس ہے۔‘‘

سنکی بابو نے ہنستے ہوے کہا، ’’کسی بھی سِن سے فائدہ نہ ہوگا۔ آج رات بھر بخار رہے گا۔ کل ریمیشن ہوجائے گا۔ مگر اصل بات بخار نہیں ہے۔ میں تمھارے پاس علاج کرانے نہیں آیا ہوں۔ مجھے اُس انگوٹھی کی ضرورت ہے۔‘‘

انگوٹھی؟ کس انگوٹھی کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟

مجھے حیران دیکھ کر وہ تھوڑی بے صبری کے ساتھ بولے، ’’وہی لسکر یانسکر… ایسا ہی کچھ نام تم نے بتایا تھا۔ ان کے ہاتھ کی انگوٹھی پر تمھاری نظر نہیں پڑی؟ سستی انگوٹھی ہے۔ نگ یا پتھر جڑا ہوا نہیں ہے، مگر مجھے وہ انگوٹھی ہر حال میں چاہیے۔‘‘

اب مجھے یاد آیا کہ مسٹرنسکر کے داہنے ہاتھ کی انگلی میں میں نے چاندی کی ایک سگنیٹ رِنگ دیکھی تھی۔

سنکی بابو کہنے لگے، ’’ہاتھ ملاتے وقت انگوٹھی میری ہتھیلی سے چھو گئی۔ ایسا محسوس ہوا، میرے جسم کے اندر جیسے کوئی دھماکا سا ہوگیا ہو۔ اس کے بعد میرے ساتھ جیساہوتا ہے، وہی ہوا۔ سڑک کے بیچ کھڑے ہوکر میں نے واقعے کو دیکھنا شروع ہی کیا تھا کہ سامنے سے ایک جیپ آئی اور اس نے سب کچھ برباد کرڈالا۔‘‘

’’اس کامطلب تو یہ ہوا کہ واقعے کو آپ دیکھ نہیں سکے؟‘‘

’’جتنا کچھ دیکھ چکا ہوں وہ کافی ہے۔ قتل کا معاملہ ہے ۔ حملہ آور کا چہرہ میں دیکھ نہیں سکا۔ انگوٹھی سمیت ہاتھ ایک آدمی کے گلے کی طرف بڑھتاجارہا ہے۔ شکار غیر بنگالی ہے۔ اس کے سر پر ایک راجستھانی ٹوپی ہے، آنکھوں پر سونے کاچشمہ۔ آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں۔ چیخنے کے لیے منھ کھولنا چاہتا ہے۔ نچلے جبڑے کا ایک دانت سونے سے منڈھا ہے… بس اتنا ہی۔ وہ انگوٹھی مجھے ہر حال میں چاہیے۔‘‘

میں کچھ دیر سنکی بابو کی طرف دیکھتا رہااور اس کے بعد کہا،’ ’دیکھیے، مسٹر مکرجی، اگر آپ کو انگوٹھی کی ضرورت ہے تو اسے خود ہی مسٹر نسکر سے مانگ لیجیے۔ میں انھیں سرسری طور سے جانتا ہوں، اور جہاں تک بات میری سمجھ میں آئی ہے، وہ آپ کی اس خوبی یا صلاحیت کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔‘‘

’’پھر میرے مانگنے سے فائدہ ہی کیا ہے؟ بہتر تو یہی ہے کہ …‘‘

’’ویری سوری، مسٹر مکرجی…‘‘ ان کی بات کاٹ کر صاف صاف کہے بغیر میں نہیں رہ سکا۔ ’’میں مانگوں تو بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انگوٹھی وغیرہ کے معاملے میں کبھی کبھی آدمی میں اتنا لگاؤ ہوتا ہے، یہ بات آپ سے چھپی نہیں ہے۔ وہ اس چیز کو اگر استعمال میں نہ لائے ہوتے تو…‘‘

اس کے بعد وہ وہاں بیٹھے نہیں۔ ایک لمبی سانس لے کر کرسی چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور بونداباندی میں ہی اندھیرے میں نکل پڑے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا، ان کی فرمائش عجیب طرح کی ہے۔ راستے سے چیزیں چن لینا الگ طرح کی بات ہے، لیکن لوگوں سے ان کے ذاتی استعمال کی چیزیں مانگ کر اپنے ذخیرے میں اضافہ کرنے کی کوسش کرنا بے انصافی ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی ان کی مدد نہ کرتا۔ میں بھی کیسے کروں؟ اور نسکر ویسے بھی بے حد خشک آدمی ہیں۔ مانگنے پر ان سے انگوٹھی مل جائے گی، یہ امید کرنا ہی غلط ہے۔

دوسری صبح بادل چھٹ گئے تھے اور آسمان صاف ہوگیا تھا۔ یہ دیکھ کر میں برچ ہل کی طرف گھومنے نکل گیا۔ بالکل روکھا سوکھا دن ہے۔ ہال میں لوگوں کا جمگھٹ لگا ہے۔ بھیڑ کے بیچ سے ہوتا ہوا، گھوڑوں ا ور خچروں سے خود کو بچاتا ہوا، آہستہ آہستہ میں آبزرویٹری ہل کے مغربی اور ویران راستے پر پہنچ گیا۔ کل رات سے ہی سنکی بابو کا اداس چہرہ میرے سامنے آجاتا تھا اور دل میں یہ تمنا جاگ رہی تھی کہ اگر نسکر سے میری ملاقات ہوجائے تو ایک بار اس انگوٹھی کے بارے میں کچھ کہوں۔ ہوسکتا ہے انگوٹھی سے ان کو کوئی خاص لگاؤ نہ ہو اور میرے طلب کرنے پر وہ اسے دے دیں۔ سنکی بابو کو انگوٹھی دے دینے سے ان کے چہرے کا رنگ کیسا ہوجائے گا، یہ بات میں اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ بچپن میں میں ڈاک ٹکٹوں کو جمع کیا کرتا تھا، لہٰذا میں جانتا ہوں کہ ہابی کا نشہ کس قسم کا ہوتا ہے۔ اور سنکی بابو ایک ایسے شخص ہیں جو کسی طرح کے جھنجھٹ یا جھمیلے میں نہیں رہتے۔ اپنا انوکھا شوق ہے، اپنے آپ میں کھوئے رہتے ہیں۔ زور زبردستی کسی کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہوسکتا ہے کہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کی چیز کے لیے ان میں لالچ جگا ہو، اور وہ کوئی قیمتی چیز بھی نہیں ہے۔ سچ کہوں، کل رات کے بعد سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان میں روحانی شکتی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کے شوق کا سارا دارومدار ان کے سنکی پن کے تصورات پر منحصر ہے۔ لیکن اگر اس شوق سے وہ تنہا شخص خوش رہتا ہے تو دوسرے کو نقصان ہی کیا ہے؟ لیکن برچ ہل کے راستے پر دو گھنٹے تک چہل قدم کرنے پر بھی نسکر سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جب میں ہل پہنچا تب تقریباً ساڑھے دس بج چکے تھے۔ بھیڑ تب بھی تھی، لیکن جاتے وقت جتنی بھیڑ تھی، اس سے تھوڑی کم۔ یہاں وہاں دس بیس آدمیوں کی کئی ٹولیاں کھڑی ہیں اور ان ٹولیوں میں کسی موضوع پر زوردار بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایک اجنبی ادھیڑ بنگالی کو اپنے قریب دیکھ کر میں نے پوچھا،’’ کیا بات ہے جناب؟ کچھ ہوا ہے کیا؟‘‘

اس نے جواب دیا، ’’کلکتہ کا کوئی بھاگا ہوا مجرم یہاں آکر چھپ گیا ہے۔ اس کا پیچھا کرتی ہوئی پولیس یہاں آئی ہے، اور تلاشی چل رہی ہے۔‘‘

’’اس آدمی کا نام آپ کو معلوم ہے؟‘‘

’’اصل نام معلوم نہیں ہے۔ یہاں اس نے اپنا نام نسکر بتایا ہے۔‘‘

میرا دل دھڑکنے لگا۔ ایک ہی آدمی ایسا ہے جو اصلی بات بتا سکتا ہے، اور وہ ہیں ڈاکٹر بھومک۔

مجھے ان کے گھر تک جانا نہیں پڑا۔ لیڈین لا روڈ پر، رکشے کے ڈیرے کے پاس خاستگیر اور ڈاکٹر بھومک سے ملاقات ہوگئی۔

بولے، ’’کل تیسرے پہر یہ آدمی میرے گھر آکر چائے پی گیا۔ تین روز قبل میرے پاس پیٹ درد کا علاج کروا گیا تھا۔ تنہا آدمی ہے، نیا نیا یہاں آیا ہے، یہی سوچ کر گھر پر کھانا کھانے بلایا تھا، اور آج یہ بات سن رہا ہوں۔‘‘

’’پکڑا گیا یا نہیں؟‘‘ میں نے بے چین ہوکر پوچھا۔

’’ابھی تک پکڑا نہیں گیا ہے۔ صبح سے ہی غائب ہے۔ پولیس اس کو تلاش کر رہی ہے۔ لیکن ہے تو اسی شہر میں، بھاگ کر جائے گا کہاں؟ لیکن کتنی بری بات ہے…!‘‘

ڈاکٹر بھومک اور خاستگیر چلے گئے۔ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میری نبض تیز چل رہی ہے۔ یہ سوچ کر نہیں کہ نسکر مجرم ہے، بلکہ اس لیے کہ سنکی بابو انگوٹھی کے لیے کتنے بے چین تھے ! قاتل کے ہاتھ کی انگوٹھی ہے ، یہ بات سنکی بابو نے بتائی تھی۔ تو کیا وہ روشن ضمیر ہیں؟

راستے میں کھڑا کھڑا جب میں یہ سوچ رہا تھا تو دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ایک بار سنکی بابو سے مل آؤں۔ انھیں کیا یہ خبر ملی ہے؟ ایک بار اس کی تحقیقات کرنا ضروری ہے۔

لیکن سترہ نمبرمکان کے دروازے پر تین تین بار دستک دینے پر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ میں تیز قدموں سے ہوٹل چلا آیا۔ آدھے گھنٹے کے اندر موسلا دھار بارش ہوگئی ۔ جھلملاتی ہوئی صبح اب جیسے کسی دور کے خواب میں تبدیل ہوگئی ۔ پولیس کی تلاش چل رہی ہے۔ کہاں چھپ گئے مسٹر نسکر؟ کس کا قتل کیا تھا انھوں نے؟ کس طرح قتل کیا؟

ساڑھے تین بجے ہم لوگوں کے ہوٹل کے منیجر مسٹر سوندھی نے خبر دی کہ نسکر جس مکان میں تھے، اس کے پیچھے کے پہاڑ کے تقریباً تیس ہاتھ نیچے کے کھڈ میں نسکر کی لاش ملی ہے۔ اس کا ماتھا چورچور ہوگیا ہے۔ خود کشی، دماغی گڑبڑ، بھاگتے وقت پاؤں پھسل جانا، وغیرہ وغیرہـ لوگ اس طرح کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ کاروبار کے معاملہ میں پارٹنر سے دشمنی ہوگئی تھی، اسی وجہ سے اس کو قتل کردیا اور لاش کو چھپا کر آکر دارجیلنگ میں چھپ گیا۔ پولیس نے لاش کو برآمد کیا، وغیرہ وغیرہ۔

اب تو سنکی بابو سے ایک بار ملاقات کرنا ہی ہوگی۔ اب ان کو نظر انداز کر کے یا ہنس کر ان کی بات ہوا میں نہیں اڑائی جاسکتی۔ سوئٹزرلینڈ اور والٹےئر کے واقعات من گھڑت ہوسکتے ہیں، دارجیلنگ کی بات انھیں پہلے سے معلوم ہوسکتی ہے ، مگر نسکر قاتل ہے ،انھیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟

پانچ بجے جب بارش کچھ تھمی تو میں ان کے گھر پر گیا۔ دستک دیتے ہی دروازہ کھل گیا۔ سنکی بابو نے ہنس کر کہا، ’’آؤ بھیا، اندر چلے آؤ۔ میں تمھارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔‘‘

میں اندر گیا۔ شام اتر چکی ہے۔ سنکی بابو کی میز پر ایک موم بتی جل رہی ہے۔

’ ’آج بھی بجلی نہیں ہے،‘‘ انھوں نے مسکراتے ہوے کہا۔

میں بینت کی کرسی پر بیٹھتے ہوے بولا، ’’آپ کو خبر ملی ہے؟‘‘

’’تمھارے اس نسکر کی خبر؟ مجھے کیا خبر ملے گی؟ میں پہلے ہی جان گیا تھا۔ اور ہا ں،میں اس کا احسان مند ہوں۔‘‘

’’احسان مند؟‘‘ میں نے حیران ہوکر پوچا۔

’’میرے ذخیرے کی سب سے قیمتی چیز وہ مجھے دے گیا ہے۔‘‘

’ ’دے گیا ہے؟‘‘ میرا گلا خشک ہونے لگا۔

’’دیکھ لو نا ، میز پر ہے۔‘‘

میں نے جیسے ہی میز کی جانب نظریں دوڑائیں، موم بتی کے پاس ہی کھلی کاپی کے سفید ورق پر وہی انگوٹھی رکھی ہوئی نظر آئی۔

’’واردات کا حساب میں نے لکھ لیا ہے۔ تماشا نمبر ایک سات تین،‘‘سنکی بابو نے کہا۔

مجھے ایک سوال پریشان کر رہا ہے۔’ ’دے گیا ہےـ ا س کا مطلب؟ کب دے گیا؟‘‘

’’دینا کیا آسانی سے چاہتا تھا؟‘‘ سنکی بابو نے ایک لمبی سانس لی۔ ’’زور زبردستی سے لینا پڑی۔‘‘

میں حیران بیٹھا ہوں۔کمرے میں صرف گھڑی کی آواز ٹک ٹک کر رہی ہے۔

’’تم نے آکر اچھا ہی کیا،‘‘ سنکی بابو نے کہا۔ ’’تمھیں ایک چیز دے رہا ہوں، اسے اپنے پاس ہی رکھ لینا۔‘‘

سنکی بابو کرسی سے اٹھ کر کمرے کی دوسری طرف اندھیرے کونے کی جانب چلے گئے۔ وہاں سے کھٹ کھٹ کی آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی ان کی آواز سنائی دی۔

’’اسے بھی مجھے اپنے ذخیرے میں رکھ لینا چاہیے تھا، مگر اس کا اثر میں برداشت نہیں کرپارہا ہوں۔ بار بار بخار آجاتا ہے اور ایک بہت ناخوشگوار منظر میری آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتا ہے۔‘‘

باتیں کرتے کرتے وہ تاریکی سے روشنی میں آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ اپنے داہنے ہاتھ کو میری طرف بڑھائے ہوے ہیں۔ اس ہاتھ میں ان کی وہی جانی پہچانی لاٹھی تھمی ہوئی ہے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: