گیلی لکڑیاں ۔۔۔ شاہین کاظمی

گیلی لکڑیاں
( شاہین کاظمی )

آج اس لمحے میں اپنا کڑوا کسیلا خواب سمیٹتی ہوں تو آنکھوں کی تپش سے اندازہ ہوتا ہے کہ شائد آنکھیں سرخ ہیں، ماتھے پر ہاتھ پھیرتی ہوں تو شکنوں مکممیں انگلیاں اٹک جاتی ہیں دل اور دماغ کی رگیں پھٹنے لگتی ہیں، آج میں اتنی برہم کیوں ہوں کس سے ناراض ہوں؟
شائد مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا ہے۔ کیوں میں اپنی اُجڑی ذات کی گواہی نہیں دے سکی، اپ احساس کے انگاروں سے ہاتھ تاپنےوالے کا نام بھی نہیں لے سکی کیونکہ میری تصدیق کافی نہیں تھی۔ کیسا انصاف ہے یہ جو صدیوں سے نسل در نسل چلا آ رھا ہے اور اس کالے انصاف کے خلاف آواز اُٹھانے والی آوازوں کو گھونٹ دیا جاتا ہے۔ شائد آج پھر میرے زخموں میں زیادہ تکلیف ہو رہی ہے۔ یہ زخم ایسا ہی ہے کبھی میں اسے ڈانٹ کر سلا دیتی ہوں اور کبھی یہ مجھے گھسیٹ کر بچپن کی طرف لے جاتا ہے۔
گنجان محلہ، چھوٹا سا گھر، دو بہنیں، دو بھائی، میلی سی چادر میں لپٹی، دوںوں کرتی دبلی پتلی سی اماں، موٹے تندرست بڑی بڑی مونچھوں والے ابا، جن کے گھر میں قدم رکھتے ہی گھر کی اینٹ اینٹ لرز جاتی تھی، میں یا آپا جلدی سے ابا کے چپل لے کر دوڑتے، اماں چھڑی اور ٹوپی پکڑتیں، گرم پانی کا لوٹا لایا جاتا، ابا کا ہاتھ منہ دُھلتا اور وہ اپنی تیوریاں چڑھائے دالان میں آ بیٹھتے، دونوں بھائیوں کو بلایا جاتا دونوں بھائی تخت پر سینی کے ارد گرد بیٹھ جاتے، اماں اوپر کا تار دار سالن ُان تینوں کے آگے رکھتیں، میں پانی کا جگ پکڑے پاس کھڑی رہتی، اماں روٹیاں پکاتیں اور آپا جھپاجھپ گرم گرم روٹیاں لا کر ابا اور بھائیوں کو پیش کرتیں پورے گھر میں سناٹا ہوتا صرف لکڑیوں کے چٹخھنے کی آواز سنائی دیتی، کبھی کبھی کوئی چنگاری اگر اماں کے ہاتھ پر پڑ جاتی یا گرم روٹی کی بھاپ سے آپا کا ہاتھ جل جاتا تو وہ جلدی سے ادھر ُادھر دیکھ کر چپکے سے اپنا تھوک لگا کر جلن کم کرنے کی کوشش کرتیں۔
کھانے کے بعد ابا زور سے ڈکار لیتے اور اپنی گرج دار آواز میں کہتے میٹھا لاؤ۔ میں یا آپا دوڑ کر باورچی خانے سے حلوہ یا زردہ یا کڑکڑاتی اصلی گھی میں گُڑ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر گھر کے مردوں کے سامنے رکھ دیتے، کھانے کے بعد لوٹے میں، میں پانی لاتی اور ابا وہیں تخت پر بیٹھے بیٹھے زور زور سے کلیاں کرتے، کئی دفعہ اُن کا تھوک میرے ہاتھوں یا کپڑوں پر پڑ جاتا تو میں سب کی آنکھ بچا کر چپکے سے پونچھ لیتی لیکن منہ بنا کر ناراضگی کا اظہار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یہ ایسے مرد کا تھوک تھا جو رشتے میں میرا باپ اور میرا پالنہار تھا۔ معلوم نہیں یہ برتری اور کمتری مجھے کس نے سکھائی تھی یا میری پیدائش کے بعد مولوی صاحب نے اذان کے ساتھ میرے کانوں اور دماغ میں اُتار دی تھی یا سارے دن اماں کے منہ سے مرد نامہ سنتے سنتے یہ عادت بن گئ تھی۔
ابا کھانا کھا کر تھوڑی دیر صحن میں ٹہلتے اور پھر کمرے میں چلے جاتے۔ میں اماں اور آپا ابا کے جانے کے بعد بچا کھچا کھانا کھاتے ہوئے اپنی اپنی قسمت پر ناز کرتے کہ ہم دونوں بہنیں باپ اور بھائی والیاں ہیں اور اماں سہاگن دو جوان بیٹوں کی ماں ہیں، اماں کی کلائیوں پڑی ہوئ میلی بد رنگ دو دو چوڑیاں آپس میں ٹکرا کر اُس اعلان کی گواہی دیتی رہتی کہ خدا رکھے ابا کی جان کو کہ وہ سہاگن ہیں، اماں کو میں نے کبھی سفید ڈوپٹہ نہیں اُوڑھے نہیں دیکھا بلکہ وہ تو اپنی نماز کے سفید ڈوپٹے کے چاروں کونے گلابی رنگ میں ڈبویا کرتی تھیں ۔
پڑوس میں مرزا جی رہتے تھے، اُن کی بہن ہو گی کوئی چالیس کے لگ بھگ، بھرا بھرا بدن، زیور اور ریشمی کپڑوں کی شوقین، شادی کے اگلے روز ہی میاں غائب ہوگیا تھا، وجہ تو کسی کو بھی معلوم نہ ہو سکی جتنے منہ اُتنی باتیں۔
اُن کی چَھٹی حس کو پتہ چل جاتا کہ ابا کھانا کھا کر کمرے میں چلے گئے ہیں، وہ مٹکتی ہوئی آتیں اور پھولوں اور عطر کی خوشبو سے گیلی لکڑیوں کے دُھوئیں کی بدبو کو کاٹتی سیدھی ابا کے کمرے میں چلی جاتیں اور اس دوران اماں کے آنسو خود بخود بہنے لگتے۔ جنہیں وہ ڈوپٹے کے پلو سے پونچھتی رہتیں اور پوچھو کہ اماں کیوں رو رہی ہو تو وہ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتیں کہ کمبخت لکڑیاں گیلی ہیں نا اس لئے دھواں زیادہ ہو گیا ہے، سیدھا آنکھوں میں لگتا ہے نامراد ناک بھی بہنے لگتی ہے اور جب مرزا کی بہن کے بارے میں پوچھو تو اماں زور سے ڈانٹ دیتیں کہ تم دونوں بہنوں کو تو ہوش نہیں کہ باپ دن بھر محنت کر کے گھر آئیں تو دو گھڑی اُن کی ٹانگیں ہی دبا دو، میرے ہاتھوں میں تو دم رہا نہیں یہ جوڑوں کا درد تو عذاب جان بن گیا ہے۔
دو مٹھیاں بھی بیچارے کے نہیں بھر سکتی، یہ کہتے کہتے گیلی لکڑیوں سے دھواں اور زیادہ نکلنے لگتا، باورچی خانے کی مدھم روشنی میں اماں کی سوں سوں اور زیادہ تیز ہو جاتی، چولھے کی راکھ میں دبی ہوئی چنگاریاں میرے اندر بھی چٹخنے لگتیں میرا دل چاہتا کہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دوں مگر ہاتھوں اور پیروں میں پڑی ہوئی رشتوں کی زنجیریں اور زبان پر پڑا ہوا اطاعت کا قفل مجھے صرف اتنی اجازت دیتا تھا کہ میں بھی اماں اور آپا کی طرح گھٹنوں میں منہ دے کر بغیر آواز کے روؤں، چیخ کر روئی تو ابا اور بھائیوں کے آرام میں خلل پڑےگا۔
بھائیوں کے قد جب بڑھے تو ابا کی کمر جُھک گئ مگر تنی ہوئ بھنوؤں مین کوئ خم نہیں تھا،اماں گیلی لکڑیوں کے پاس بیٹھی بیٹھی خود بھی لکڑی ہو گئیں تھیں، اب گھر میں تین مرد گھن گرج کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے، ابا بڑے بھیا اور چھوٹے بھیا، میرا اور آپا کا کنوارہ پن عذاب کی طرح منڈلانے لگا تھا، اکثر اماں دبی زبان سے ابا کے سامنے ذکر بھی کرتیں تو وہ غصہ کرنے لگتے، کہاں سے لاؤں رشتے، پرچون کی دوکان پر ملتے تو لا دیتا، اماں دو چار دن کو دبک جاتیں اور میں سوچتی کہ اماں کو شادی سے کیا ملا ہے جو وہ ہمیں بھی اس جہنم میں جھونکنا چاہتی ہیں۔
ایک دن ابا نے اماں سے کہا کہ کل ایک لڑکا آ رہا ہے۔ چائے پانی کا بندوبست کر لینا۔ چولہے میں رکھی گیلی لکڑیاں ایک دم سوکھ گئیں، دھواں آنکھوں میں لگنے کے بجائے سیدھا روشن دان میں سے باہر جانے لگا، آپا اپنی مسکراہٹ دبائے جا رہی تھیں، اماں کے جوڑوں میں ذرا بھی درد نہیں رہا تھا۔ میں نے بیٹھک میں چُپکے سے جھانک کر دیکھا تو صرف ایک بڑے میاں نظر آئے، میں نے سوچا کہ شائد یہ باپ ہیں لڑکے کے مگر اگلے جمعے کو جب بارات آئی اور دولہا کا سہرا اُلٹایا گیا تو میں تو ایک دم سے دھک سے رہ گئی کہ ہائے آپا کا دولھا اتنا بڈھا۔
مگر دولھا بھائی نے اپنی اور آپا کی عمر کو سونے چاندی سے پاٹ دیا تھا، وہ چوتھی بیوی کا نخرہ بھی خوب اُٹھاتے، باوجود آنکھیں کمزور ہو نے کے وہ ہر ہفتے آپا کو سینیما دکھانے لے کر جاتے، اپنے ہاتھ سے نوالے بنا بنا کر کھلاتے، ایک خاص ملازمہ صرف آپا کے لئے مامور تھی۔ آپا کے لہجے میں سمجھوتے کا ٹھہراؤ داخل ہونے لگا تھا کیونکہ اُن کے رنگین خوابوں کو خضاب کے رنگ نے ڈھانپ لیا تھا۔
ابا کو پتہ نہیں ایک دن کیا ہوا کہ بس سوتے میں سوتے ہی رہ گئے۔ اماں بہت روئیں، کئ بار بے ہوش ہو گئیں اور اپنی خوش قسمتی کی واحد گواہ پرانی چوڑیاں بھی توڑ دیں، میں ہر وقت اماں کے ساتھ لگی رہتی، آپا بھی کچھ روز رہ کر چلی گئیں، بڑے بھیا اور چھوٹے بھیا کیا کرتے بیچارے اپنے اپنے بیوی بچوں میں مصروف ہو گئے، میں پہلے بھی کب
باقاعدگی سے اسکول جایا کرتی تھی اب تو اماں کی بیماری نےمجھے بالکل ہی گھر میں بٹھادیا تھا۔ بھائیوں کے خاندان میں ہر سال نیا اضافہ ہوجاتا، اب بھابیاں بیچاری کیسے اتنا کام کرتیں اُن کو ہر وقت مدد درکار رہتی، کبھی گھر والوں کی کبھی نوکروں کی، جتنے جی اُتنا ہی گھر کا سامان، مجھے اور اماں کو اپنا کمرہ خالی کرنا پڑا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر بڑا سا ٹاٹ کا پردہ برامدے میں لٹکا کر دھوپ کی شدت کو تو تھوڑا بہت روک دیا مگر سردی کی ٹھنڈی ہوا اور گرم لُو تھپیڑوں کو نہیں روک سکے، یہ ذمہ داری اُنہوں نے ہم دونوں پر ڈال دی تھی کہ ہم برداشت کریں۔
اماں کی ایک دور بہن شہر سے باہر شاندار علاقے میں رہتی تھیں، خالہ کے لَکھپتی میاں مر گئے تھے، اُن کی ایک جوان بیٹی اور بیٹا تھا، وہ ایک دن ہمارے گھر آئیں اور اماں سے کہنے لگیں کہ آپا تم دونوں یہاں اس طرح رہ رہی ہو اور میرا اتنا بڑا گھر خالی پڑا ہے، دونوں بچے کالج چلے جاتے ہیں میں اپنے فلاحی کاموں میں اتنی مصروف رہتی ہوں کہ گھر بار دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملتی تم آجاؤ گی تو مجھے اطمینان ہو جائے گا، فریدہ کے لئے میں ماسٹر لگوا دوں گی یہ بھی پرائیویٹ دسویں کر لے گی۔ یہ سن کر میرے بدن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، مجھے لگا کہ اب شائد برا وقت ختم ہونے والا ہے، میں نے اماں سے کہا کہ خالہ ٹھیک ہی تو کہ رہی ہیں، تمہارا علاج بھی ہو جائے گا اور میں بھی کسی قابل ہوجاؤں گی۔ خالہ ہم دونوں سے وعدہ لے کر چلی گئیں، اگلے دن اُنہوں نے گاڑی بھیجی اور ہم شہر کے اُس علاقے میں پہنچ گئے جو امیروں کا علاقہ تھا، کیسے کیسے عالی شان گھر بنے ہوئے تھے، حیرتوں کی وسعت سے ہماری آنکھیں پھٹی جارہی تھیں۔ اماں نے پورے گھر کا انتظام سنبھال لیا تھا اور میں فائزہ کی سہیلی بن گئی تھی، پڑھائی بھی اچھی جا رہی تھی۔ خالہ کا بیٹا بھی میری پڑھائی میں مدد کرتا تھا۔ خالہ چونکہ لیڈر تھیں اس لئے
وہ ہر وقت جلسے جلوسوں میں مصروف رہتیں، گھر پر میٹنگ اور جلسوں کا سلسلہ جاری رہتا، اصل میں خالہ حقوق نسواں کی بہت بڑی علمبردار تھیں۔ آج کل وہ ‘حدود آڑڈیننس’ پر کام کررہی تھیں روزانہ اُن کا بیان اخباروں میں چھپتا جیلوں میں جا کر اُن عورتوں سے ملتیں، اُن کے لئے وکیل کئے جاتے بھوک ہڑتال کی دھمکیاں دی جاتیں۔
میں بھی خوشی خوشی جلسے جلوسوں کے لئے بینرز بناتی خالہ کا بیٹا سہیل بھی میرے ساتھ رہتا، میرا ہاتھ بٹاتا، اور پڑھائی ختم ہوتے ہی میرا ہاتھ پکڑنے کا وعدہ بھی کرتا، میں بہت خوش تھی۔ مجھے لگتا کہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے وہی تو میں بھی چاہتی تھی۔ عورت کی مجبوریاں میں نے بہت سے دیکھی تھیں بلکہ سہی بھی تھیں، میں نے کتنی بار خوابوں میں اپنے آپ کو خالہ کی جگہ کھڑے ہوئے دیکھا تھا۔ سہیل بالکل اپنی اماں کا ہم خیال تھا اور میں اُس کی ہم خیال، خالہ کے جلسوں میں جب وہ آزادیِ نسواں پر دھواں دھار تقریریں کرتا اور عورتوں کو کھلونا سمجھ کر توڑنے والوں کا سر توڑنے کی باتیں کرتا تو میرا دل خوشی سے جھومنے لگتا۔ میں سوچتی کہ اب باپ اور بھائیوں کی زیادتیوں کا مداوا ہو جائے گا اور سہیل کی روشن خیالی مجھے اُس کے اور قریب کر دیتی۔
ایک دن خالہ کے بڑے سےلان میں جلسہ ہو رہا تھا، پورا پنڈال آزادیِ نسواں زندہ باد، عورت کاحق پوری گواہی کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ مجھے ادھر اُدھر سہیل نظر نہیں آیا، میں اُسے ڈھونڈتی ہوئی اندر گئی تو سہیل اپنے کمرے میں تھا، میں جونہی اُس کے کمرے میں گئی تو اُس کی آنکھوں میں اُٹھتے ہوئے طوفان نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا، میں اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی، پتہ نہیں اپنی محبت کی وجہ سے یا سہیل کی مضبوط گرفت کی وجہ سے میری آواز نعروں کے شور میں دب گئی جب مجھے ذرا ہوش آیا تو وہ مجھے زمانے کی اُونچ نیچ سمجھانے لگا، اپنی عزت کا واسطہ دے کر خاموش رہنے کو کہا، وعدے کرنے لگا کہ میں جلدی ہی ماما سے بات کرونگا۔
مگر نہ سہیل کو فرصت ملی بات کرنے کی اور نہ ہی خالہ کے پاس اتنا وقت تھا۔ اب تو ہر وقت اُس کی یہ ہی کوشش رہتی کہ بس مجھ سے سامنا نہ ہو۔ ایک دن میں زبردستی اُس کے کمرےمیں چلی گئی تاکہ اُسے بتاؤں کہ تمہارے کالے کرتوت کی سیاہی کس طرح میرے اندر پھیلنے لگی ہے مگر وہ تو سرے سے مُکر ہی گیا۔ کہنے لگا میں نے کیا کیا ہے، تم نہ جانےکس کی بلا میرے سر ڈال رہی ہو۔ میری ماما نے تمہیں اور تمہاری ماں کو اپنے گھر میں پناہ دی اور تم گھر کی مالکن بننے کے خواب دیکھنے لگیں، کہاں ہم لوگ اور کہاں تم، اپنی اوقات میں رہو۔ میں نے سوچا کہ خالہ تو اتنی روشن خیال وہ ضرور کچھ میرے بارے میں سوچیں گی۔
خالہ تھکی ہاری جلسہ جلوس ختم کرکے آئیں تھیں۔ نوکرانی اُن کی ٹانگیں دبا رہی تھی اور خدا جانے کس بات پر ہنس ہنس کر کہہ رہی تھی کہ جیوے میرا بھائی گلی گلی پرجائی۔
اور خالہ بھی یہ سن کر ہنستے ہنستے بے حال ہو گئیں، اور اُن کے قہقہے میری روح تک کو سنگسار کرنے لگے، میری سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں۔۔۔ اماں کو بتادوں، آپا کو بلواؤں مگر یہ دو بیچاری عورتیں کر سکتی تھیں سوائے اپنے اس قیمتی مشورے کہ زہر کھالو یا دریا میں کود کر جان دیدو مگر میں کیوں مرجاؤں۔ کیوں ہار جاؤں۔۔۔ میرا قصور کیا ہے۔۔۔۔ میں نے اُس شخص پر بھروسہ کیا جو اپنی محبت کا ہزاروں بار یقین دلا چکا تھا، مرنے جینے کی قسمیں کھا چکا تھا۔۔۔۔۔اور پھر محبت تو ایک دریا کی طرح ہوتی ہے اس کے بہاؤ کے بارے میں کیا پتہ کہاں سے کہاں بہا کر لے جائے مگر وہ تو مجھے بھنور میں پھنسا کر خود صاف نکل گیا تھا، اپنے خاندانی وقار کو اپنے سر پر اُٹھائے ہوئے۔
اماں کو شاید میرے اندر کی تبدیلی کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا تھا مگر ہم دونوں ہی شائد کم ہمت تھے نہ وہ مجھ سے کچھ کہہ سکیں اور نہ میں اُنہیں کچھ بتا سکی۔۔۔ ایک دن ابا کی طرح وہ بھی جو سوئیں تو پھر نہ اُٹھیں۔ خالہ نے اپنی پارٹی کے کچھ لوگوں کو بلا کر اماں کا جنازہ اُٹھوا دیا، بھائی بھی آخری وقت پر آ گئے تھے، انہوں نے دبی زبان سے مجھ سے کہا کہ اگر چاہو تو ہمار ے گھر آسکتی ہو مگر میں نے انکار کر دیا، دونوں بھائی بغیر کچھ کہے چلے گئے۔۔۔۔اب میں تھی اور تنہا کمرہ۔ صبح ہونے سے پہلے پہلے میں نے اپنا تھوڑا بہت سامان لیا، کچھ پیسے میرے پاس تھے میں سیدھی ڈاکٹرنی کے مطب پہنچی۔ دو تین گھنٹے کے بعد میں اپنے کو ہلکا ہلکا محسوس کر رہی تھی مگر کمزوری اتنی تھی کہ دو قدم چلنا بھی دو بھر ہو رہا تھا، نرس نے مجھے آرام کرنے کا کہا اور شام کو اپنے گھر لے گئی، گھر جا کر اس نے مجھے گرم دودھ کے ساتھ دوا کھلائی اور میں بے خبر سو گئی، صبح اُٹھی تو وہ میرے سرہانے بیٹھی ہے تھی۔ آج اُس کی چھٹی تھی۔ اُس نے اتنی محبت سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا تو میں نے سارا قصہ اُسے سُنا دیا۔ وہ بڑے اطمینان سے سنتی رہی جیسے کہ کوئی معمولی سا واقعہ ہو، پھر کہنے لگی کہ یہ تو روز کے قصے ہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، ان مردوں سے اپنا بدلہ لو اور عیش کرو۔
وہ کس طرح مجھے تو معلوم نہیں کہ بدلا کس طرح لیا جاتا ہے۔ اُس نے کہا اس وقت تم آرام کرو شام کو میں تمہیں ایک خاتون سے ملواں گی وہ تمہیں سب کچھ بتا دیں گی۔ میں دواؤں کے نشے میں تھی پھر سو گئ۔ شام کو وہ اپنی گاڑی میں آئیں۔ وہ نرس سے بھی زیادہ مہربان نکلیں مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے گئیں وہاں پر میری عمر کی تین اور بھی لڑکیاں تھی ۔میں اُن سے کافی گُھل مل گئی ۔اب رفتہ رفتہ میری سمجھ میں کُچھ کُچھ آنے لگا تھا اُن لڑکیوں کی کہانی بھی مجھ سے ملتی جُلتی تھی۔
ایک دن آنٹی نے مجھے نئے کپڑے لاکر دئے اور کہا کہ شام کو ایک صاحب آئیں گے، اُن کی بیوی کا پچھلے ہفتے ہی انتقال ہوا ہے، بیچارے بہت اُداس ہیں، تم ذرا اُن کے ساتھ باہر کھانے پر چلی جاؤ، غریب کا شائد دل ہی بہت جائے، دُکھی آدمی کو سہارا دینا بڑے ثواب کی بات ہے۔
وہ صاحب شام کو آئے میرے لئے اچھے اچھے تحفے لائے، انتہا سے زیادہ خوش مزاج۔ میں نے بھی اپنا دُکھ ان کی خوش مزاجی کے پردہ میں چھپانا چاہا، اب آے دن میں ثواب کمانے کسی نہ کسی کے ساتھ جاتی، رات اُن کے ساتھ گزارتی اور صبح تحفوں اور نوٹوں سے بھرے لفافوں کے ساتھ لدی پھندی آنٹی کے گھر واپس آ جاتی۔
ایک دن میں بیٹھی اپنے ماضی کو بیٹھی کُرید رہی تھی، کہ اچانک میری نظر گھڑی پر پڑی۔۔۔۔۔ باپ رے باپ دیر ہو گئی میں جلدی جلدی تیار ہونے لگی اور سوچنے لگی کہ چلو وقت نے تو میرا ساتھ نہیں دیا مگر مجھے تو وقت کا خیال کرنا چاہئے اس کی پابندی کر کے، میں ایک کال گرل ہوں اور نیچے گاڑی میں بیٹھا ہوا وہ شخص جو ہارن بجا رہا ہے، میرا گاہک ہے اور ہم دونوں کا وقت بہت قیمتی ہے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: