خوابوں سا کوئی خواب ۔۔۔ شاہدہ دلاور شاہ

Dr. Shahida Dilawar Shah is a well known Urdu, Punjabi  poet, columnist, writer and is engaged in departing  knowledge to students in a famous college.

غزل

( شاہدہ دلاور شاہ )

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں
اِک دشت میں ہوں پیاس بُجھانے میں لگی ہوں

بتلاؤ کوئی اسم مجھے رَدِبلا کا

میں آخری کردار نبھانے میں لگی ہوں

وہ صحن میں افلاک لئے کب سے کھڑا ہے

میں چھت پہ ہوں بادل کو اُڑانے میں لگی ہوں

اِک عمر ہوئی پیڑ پہ دو نام لکھے تھے

اِک عمر سے وہ نام مٹانے میں لگی ہوں

رُکنے نا کبھی پائے سفر روشنیوں کا

دریا میں چراغوں کو بہانے میں لگی ہوں

جب سے تیرے آنے کا سُنا ہے میرے گھر میں

چیزوں کو میں رکھنے میں،اُٹھانے میں لگی ہوں

جلتا بھی ہے بُجھتا بھی ہے ،اُڑتا بھی ہے جُگنو

سورج کو یہ احساس دلانے میں لگی ہوں

بُجھنے کو ہے اب خالی دیا عمرِ رواں کا

میں ہوں کہ ہواؤں کو منانے میں لگی ہوں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: