آگ ۔۔۔ زیتون بانو

آگ

 ( زیتون بانو )

شوہر کی وفات کے بعد ماں نے  کبر یٰ کا رشتہ کروانا چاھا  لیکن وہ بڑی بہن کا حق چھیننانہیں چاہتی تھی. اسے ماں کی کی سنائی ہوئی وہ کہانی یاد تھی یہ کس طرح اس کی ماں اور اس کی چھوٹی  خالاوں کی شادیاں ہو گیئں  اور بڑی خالہ کنواری ہی رہ گئی تھی. پھر بھاوجوں نے اور بھائیوں نے اس کو اس کے بدصورت ہونے کے طعنے دینے شروع کیے جس کے بنا. اس کی شادی نہیں ہو سکی تھی ۔چنانچہ اس نے اپنے کپڑوں پر مٹی کا تیل چھڑک کر خود کشی کر لی تھی. اسے  ماں نے بتایا تھا  کہ کتنی اذیت سے وہ موت کو گلے لگا کر سوئی تھی اور اس کے جسم کا گوشت جو آگ میں جھلس گیا تھا  اور بوٹی بوٹی ہو کر گرتا تھا  اور ان کی نانی وہ لوتھڑے اٹھا اٹھا کر جمع کرتی رہی تھی ۔جب اس کو کفن پہنایا جانے لگا تھا تو اس کو غسل بھی ٹھیک سے نہیں دیا جاسکتا تھا ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ گئی تھیں. اور پھر وہ لوتھڑے دوسرے کپڑے میں جمع کیے گئے تھے م اور اسکے کفن کے ساتھ رکھ کر دفنائے گئے تھے. اور اسی لئے کبریٰ نے پڑھائی کا بہانہ بنایا تھا کہ وہ اپنی بڑی بہن کا وہ حشر نہیں دیکھ سکتی تھی جو اس کی خالہ کا ہوا تھا وہ اپنی چھوٹی بہن کے راستے کی رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہتی تھی رشتےاسی پر آتے تھے اور اس نے اپنے طور پر دونوں بہنوں کا راستہ صاف کرنے کی خاطر نرسنگ اختیار کرلی تھی۔.

اسی طرح کا اپنی آنکھوں دیکھا ایک اور واقعہ بھی کبریٰ نے جاوید کو سنایا تھا. اس کی ٹریننگ کا دوسرا سال تھا کہ ایک کیس وارڈ میں لایاگیا. وہ ایک لڑکی تھی جس نے. جسم پر پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی تھی. اس کے بڑے بڑے پالش لگے ناخن تھے. لیکن تمام ناخن تقریبا جھڑچکے تھے صرف انگوٹھوں اور چیچی انگلی کے ناخن رہ گئے تھے ۔ اورجب کبریٰ اس کے بے سدھ جسم پر مرہم   لگا رہی تھی تو باقی کے تین ناخن بھی جھڑ کر  کبریٰ کے ہاتھ میں آ گئے تھے۔ساتھ کھڑی نرسیں تو ڈر کر دور ہٹ گیئں لیکن وہ با لکل نہیں ڈری۔ اسکو اپنی خالہ یاد ائی جس کی کہانی ماں نے سنائی تھی۔ اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ بھی اسکی خالہ کی طرح کا کیس ہے۔ لیکن یہ لڑکی جوان بھی تھی، حسین بھی تھی، مالدار باپ کی مالدار بیٹی اور یونیورسٹی کی طالبہ۔ کبریٰ کو اس سے بے انتہا ہمدردی ہو گئی۔

جس وارڈ کے سائیڈ روم میں وہ لڑکی رکھی گئی تھی اس میں کبریٰ کی رات کی ڈیوٹی تھی. کوئی آدھی رات کا وقت ہوگا کہ اس لڑکی کو ہوش آیا. اس کے ساتھ کوئی بھی رشتہ دار عزیز اس وقت موجود نہ تھا.

پچھلے تین چار روز میں اس لڑکی کے بارے میں بہت ساری باتیں پتہ چل گئی تھیں۔.

. اس کی ماں اس کو بچپن میں چھوڑ کر کہیں چلی گئی تھی باپ نے اسے ہوسٹل میں ڈالا. پھر جب وہ یونیورسٹی پہنچی تو باپ اسے گھر لے آیا اور اب کوئی وجہ معلوم ہوئے بغیر وہ اس حال میں ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا آکسیجن ماسک میں پڑی تھی۔

جب اسے ہوش آیا تو اس نے پانی مانگا۔ کبریٰ نے جلدی سے بڑھ کر اسے بڑے پیار سے پانی پلایا۔ تین چار روز میں وہ کئی بار ہوش میں آ کر ادھر ادھر دیکھ چکی تھی۔لیکن جب بھی کبریٰ اس پر جھکتی وہ آنکھیں بند کر لیتی۔

. اس لڑکی کا نام نائلہ تھا۔ اس نے پانی پیا اور اپنے لئے کبریٰ کی آنکھوں میں بے پناہ ہمدردی دیکھ کر رو پڑی اس کے سارے جسم کی ساری جلد اڑ چکی تھی اور وہ نہایت ہی تکلیف میں تھی۔لیکن کبریٰ کو یوں لگا جیسے وہ کسی اور اذیت سے دوچار ہے

. ماں۔۔۔۔۔ماں ۔۔۔ میری اپنی ماں ۔۔۔۔آؤ نا ۔۔۔۔یہ کیا ہو گیا ؟    اپنی بیٹی کی بات تو سنو نا .

اور وہ بلک بلک کر روئی.. کبریٰ نے اسے تسلی دی۔

“کوئی بات نہیں ہے میں جو آپ کے پاس موجود ہوں جو کچھ کہنا ہے مجھ سے کہو میں سنو گی آپ کی بات ۔مجھے اپنی بہن سمجھئے”

“. سسٹر اب وقت نہیں رہا میں آپ کو کیا بتاؤں۔”.

“جو کچھ کہنا چاہتی ہیں کہیے”

“نہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتی ۔میں کیسے کہوں ۔کیا کہوں”

“آپ مطمئن رہئے میں نے آپ کو بہن کہا ہے ۔ جو بھی بات ہو کہہ ڈالیے. میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔”.

. نائلہ کی آنکھیں پھیل گئیں اور وہ نزع کی سی کیفیت سے دوچار ہوئی ۔ کبریٰ  ڈاکٹر کو بلوانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی کہنائلہ نے آواز دی

“سسٹر ذرا ٹھہریے”

کبریٰ نے قریب آکر پوچھا کیا بات ہے نائلہ ؟

“آپ اکیلی ہیں نا ؟”

”  ہاں ہاں۔ اس وقت کمرے میں صرف میں اور آپ ہی ہیں۔ ‘

“مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے”

” ہاں ۔ ضرور۔ کہیئے۔کیا بات ہے ؟ “

” میری ماں خود نہیں گئی تھی. میرے باپ نے اس گھر سے نکالا تھا میں چھوٹی سی تھی.. میں اور کچھ نہیں جانتی۔”

کوئی بات نہیں اب آپ بڑی ہو گئی ہیں.. یہ تو دنیا ہے اس میں ایسے بھی ہوا کرتا ہے کیوں فکر کرتی ہیں”

“لیکن سسٹر. میری طرح کسی کے ساتھ ایسا نہ ہوا ہوگا۔”

“دیکھئیے آپ کو آرام کی ضرورت ہے اور اگر باتیں کرنی ہیں  تو آیئے اچھی اور خوشگوار باتیں کرتے ہیں. جب آپ تندرست ہو جائیں گی تو میں آپ کی سب باتیں پوری تفصیل سے سن لو گی۔”

لیکن نائلہ بضد تھی۔وہ کچھ بتانا چاہتی تھی

“سسٹر ۔ میں خود نہیں جلی ہو ں۔ جلائی گئی ہوں۔

اس پر کبریٰ ایک دم اچھل کر کھڑی ہو گئی۔

“کس نے جلایا آپ کو ؟ “

“میرے باپ نے مجھے غسل خانے میں بند کرکے میرے جسم پر پٹرول چھڑک اور آگ لگا دی ۔”

“باپ نے۔ لیکن کیوں ؟ ”

” میں اپنے باپ  کے۔۔۔۔”.

نائلہ اور کچھ نہ بولی اس نے بڑی بے بسی سے اپنا سر ادھر ادھر جھٹکا اور خاموش ہوگئی ۔

کبریٰ سکتے میں آ گئی تھی. اور تھوڑی دیر بعد جب اس پر جھکی تو وہ اذیت کے تمام مراحل طے کر چکی تھی.وہ کچھ دیر تک یونہی اکیلی بے حس و حرکت رہی. اس نے اس وقت تک کسی کو بھی اپنی مدد کے لیے نہیں پکارا ۔ اسپتال کی خون اور پیپ بھری چادر اس نے نائلہ کے جسم سے جب ہٹائیتو اس کی  نظر گوشت اور ہڈیوں کے اس لوتھڑے پر پڑی ،جواگر زندہ ہوتا تو جانے نا ئلہ اس سےکون سا رشتہ جوڑتی۔ .

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: