غزل ۔۔۔ ذوالفقار احمد تابش

غزل

( ذوالفقار تابش )

کہانی جو ورود شام پر لکھی گئی تھی

وہ میری تھی تمہارے نام پر لکھی گئی تھی

بہت ہی سوچ کر آرام سے لکھی گئی تھی

وہ پہلے لوح نیلی فام پر لکھی گئی تھی

کسی کے پیرہن کا ذکر جس میں آ گیا تھا

مری وہ نظم اک گل فام پر لکھی گئی تھی

وہ کاکل جو تمہاری آنکھ تک آئی ہوئی تھی

وہ قوس جیم تھی جو جام پر لکھی ہوئی تھی

تمہاری مسکراہٹ کی وہ رنگ آمیزیاں تھیں

دھنک تھی جو تمہارے بام پر لکھی گئی تھی

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: