غزل ۔۔۔ اعزاز احمد آذر

غزل

( اعزاز احمد آذر)

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا
مرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے گھر کا خیال رکھنا

اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی

اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں ملال رکھنا

دیار الفت میں اجنبی کو سفر ہے در پیش ظلمتوں کا

کہیں وہ راہوں میں کھو نہ جائے ذرا دریچہ اجال رکھنا

بچھڑنے والے نے وقت رخصت کچھ اس نظر سے پلٹ کے دیکھا

کہ جیسے وہ بھی یہ کہہ رہا ہو تم اپنے گھر کا خیال رکھنا

یہ دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے یا خزاں بہاروں کی گھات میں ہے

نصیب صبح عروج ہو تو نظر میں شام زوال رکھنا

کسے خبر ہے کہ کب یہ موسم اڑا کے رکھ دے گا خاک آذرؔ

تم احتیاطاً زمیں کے سر پر فلک کی چادر ہی ڈال رکھنا

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2021
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: