Day: August 19, 2017

اے وطن سے خفا خفا لوگو ۔۔۔۔ ارشاد عرشی ملک

August 19, 2017

اے وطن سے خفا خفا لوگو (ارشاد عرشی ملک) محفلِ شب کے ہم نوا ،لوگو پاک مٹی کے بے بہا ،لوگو تم تھے اُمید و آسرا ،لوگو کھو چُکے اپنا راستہ ،لوگو ہو گئے آج کیا سے کیا لوگو اے وطن سے خفا خفا لوگو۔۔ وہ جو جذبوں سے جاں کا رشتہ تھا یا مکین […]

Read More

حلب کی مریم ۔۔۔ ممتاز شیریں

August 19, 2017

حلب کی مریم (ممتاز شیریں) وہ ایک فٹ اونچے پتھر پر سمٹ کے بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ جھکا ہوا تھا۔ پھولدار اسکارف جو کبھی گلابی ہو گا اب بھوری مٹی جیسا ہو گیا تھا۔ اس کے عبایہ پہ بھی جا بجا مٹی تھی۔ سخت سردی میں بھی اسکے وجود پر کوئی گرم کپڑا نظر […]

Read More

سری لنکا میں سمندر کنارے ۔۔۔ شازیہ محمود

August 19, 2017

 سری لنکا میں سمندر کنارے (شازیہ محمود) سمندر کی لہریں میرے پاوں کی انگلیوں کے بیچ رستہ بناتی نکلتی ہیں نرم ملائم ہوا میرے چہرے کو چھوتی ہے میرے پاوں اور سمندر کے اتصال پر ریت مچل مچل جاتی ہے دور سے آتی ایک سرکش لہر قریب آکر، نرمی سے  مجھے  بھگو دیتی ہے میرا […]

Read More
hindi-medium-film-review

Hindi Medium | Film Review

August 19, 2017

ہندی میڈیم : فلم ریویو (راشد جاوید احمد) بولی ووڈ  فلم انڈسٹری آج کل صبا قمر کے گن گاتی نظر آتی ہے۔ اپنی پہلی ہی فلم سے بولی ووڈ میں اپنا سکہ جمانے والی پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے فلم ہندی میڈیم میں پورے انڈیا کو کہنے پر مجبور کر دیا کہ وہ خوبصورتی کے […]

Read More

عورت کہاں غائب رہی ہے ۔۔۔۔ کشور ناہید

August 19, 2017

عورت کہاں غائب رہی ہے (کشور ناہید) بقول شمس الرحمٰن فاروقی ’’چونکہ ادب کی تاریخ بلکہ تمام تاریخ پر مرد حاوی رہے ہیں۔ اس لئے ادب کی دنیا سے تانیثی نقطۂ نظر اور ادبی ستون کی فہرست میں عورتوں کے ستون کا شعوری یا غیر شعوری طور پر اخراج کیا جاتا رہا ہے‘‘۔ اب جبکہ […]

Read More

غزل ۔۔۔ اختر کاظمی

August 19, 2017

غزل (اختر کاظمی) تھی مال و زر کی ہوس اضطراب بیچ آئے سوال لے کے گئے تھے جواب بیچ آئے جو دردمندی نے پیدا کیا تھا سوچوں میں لگے جو دام تو وہ انقلاب بیچ آئے متاعِ عمر اصولوں کے کچھ اثاثے تهے جھکے سروں سے مرے ہمرکاب بیچ آئے یہ سانحہ ہے کہ آسائشوں […]

Read More

لکیراں ۔۔۔ زاہد حسن

August 19, 2017

لکیراں (زاہد حسن) ڈاکٹر آکھدا اے اندر کینسر نسر رہیا اے۔ خون دا اک اجیہا لوتھڑا جو اپنے آل دوالے دیاں تھاہراں نوں چھاواں تے وسیریاں توں خالی کر دیندا اے۔ مُکا دیندا اے۔ سارا سنھ ویہلا کر کے  اوتھے اپنا ڈیرہ لا لیندا اے۔ ” پر مینوں تے اپنا اندر انج چاپدا اے جو […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: