تماشائے ہستی ۔۔۔ آیئنہ مثال
تماشائے ہستی ( آیئنہ مثال ) فسوں خیزرات دھیرے دھیرے اپنے پر پھیلا رہی تھی
A collection of Urdu poetry, short stories, and essays — classic and contemporary voices from Pakistan and beyond.
تماشائے ہستی ( آیئنہ مثال ) فسوں خیزرات دھیرے دھیرے اپنے پر پھیلا رہی تھی
چور فیودور دوستو وسکی دو سال کی بات ہے۔ اس وقت میں ایک نواب کے
“زمانہ بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔” ( فہمیدہ ریاض )
غزل ( علی سردار جعفری ) میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دو
اے مدھو سودن (سائرہ ممتاز) برج دھام میں، گومتی کنارے انیک گوپیاں تمھارا رستہ دیکھتی
ساڑھے تین آنے ( سعادت حسن منٹو ) ”شکریہ۔ منٹو صاحب، معاف کیجیے گا، میں
خواہش کا مقتول ( نجیب محفوظ ) گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو
سات کوس دریا ہے ( ذوالفقار تابش ) سات کوس دریا ہے اس کے پار
غزل ( ایوب خاور ) آنکھ میں خواب نہیں ، خواب کا ثانی بھی نہیں
پابند سلاسل ( صفیہ حیات ) ھم سب آنکھیں موندے گرتے پڑتے چلے جارھے ہیں۔