کملی ۔۔۔ سرفراز بیگ
کملی سرفراز بیگ ’’رَب نواز یہ تونے کیا کیا۔ تجھے پتا ہے وہ پگلی ہے۔
کملی سرفراز بیگ ’’رَب نواز یہ تونے کیا کیا۔ تجھے پتا ہے وہ پگلی ہے۔
احمق شموئل احمد ’’ برف آیا ؟‘‘ ’’ جی آیا ‘‘ ’’ کہاں
بوسیدہ آدمی کی محبت محمد حامد سراج وہ اتنی آہستگی اور خاموشی سے کمرے میں
مریم گزیدہ نسیم انجم وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ڈرے اور
زمانہ بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔” فہمیدہ ریاض منصورہ اپنے
“تہوار” کوثر جمال شہر کی انتظامیہ نے یہ خاص دن منانے کے لیے ایک بڑے
ایک چپ سو دکھ آدم شیر ایک وقت آتا ہے جب کچھ بھی ٹھیک ٹھیک
شکتی ( ڈاکٹر سلیم اختر ) کنول کے پھول اور تھالیوں جیسے چوڑے پتے ہٹاکر
قیامت کا انتظار ( آغا سہیل ) ابو داود نے سر منبر خطبہ دینے والے
ایک تھی جولی ( مریم عرفان ) شہر میں سرکس لگ چکا تھا، رنگ برنگی