رپ وان ونکل ۔۔۔ اسلم سراج الدین
رِپ وان وِنکل ( اسلم سراج الدین ) خزانے کا دفتر سپرنٹنڈنٹ نے تربک کر
رِپ وان وِنکل ( اسلم سراج الدین ) خزانے کا دفتر سپرنٹنڈنٹ نے تربک کر
مورخ ! میری تاریخ نہ لکھنا فارحہ ارشد تم یہاں اجنبی لگتے ہو۔ میں نے
بندیاں دا چڑی گھر محمود احمد قاضی اک پرانا واقف کار بیمار سی۔ اوہدا پتہ
کافی مگ سبین علی رات گئے کچن صاف کرنے کے بعد وہ باہر کچرا پھینکنے
جمع شدہ لڑکی مسلم انصاری “میں جب سفر سے لوٹا تو گھر کا صحن بند
فرِنس ستیہ جیت رے جینت کی طرف کچھ دیر تکتے رہنے کے بعد سوال کیے
ڈھائی گز کمبل کا خدا فارحہ ارشد چوبرجی کے احاطے میں جنگلے کے ساتھ، سیبے
کملی سرفراز بیگ ’’رَب نواز یہ تونے کیا کیا۔ تجھے پتا ہے وہ پگلی ہے۔
احمق شموئل احمد ’’ برف آیا ؟‘‘ ’’ جی آیا ‘‘ ’’ کہاں
بوسیدہ آدمی کی محبت محمد حامد سراج وہ اتنی آہستگی اور خاموشی سے کمرے میں