اسیر ِ خواب ۔۔۔ مریم تسلیم کیانی
اسیر خواب مریم تسلیم کیانی آج بھی وہی ہوا ۔۔۔ میرے گلے لگتے ہی اس
اسیر خواب مریم تسلیم کیانی آج بھی وہی ہوا ۔۔۔ میرے گلے لگتے ہی اس
ایمو (مریم عرفان) نام تو اس کا آمنہ تھا لیکن پنڈ میں وہ ایمو جولاہی
ہائیبرنیشن کا متلاشی نوجوان محمدجمیل اختر وہ نوجوان جس کی بات کوئی بھی نہیں سمجھتا
آیئنہ گر منزہ احتشام گوندل ہستی اور نیستی کے سارے اسرار چھوٹے چھوٹے لمحوں کی
رِپ وان وِنکل ( اسلم سراج الدین ) خزانے کا دفتر سپرنٹنڈنٹ نے تربک کر
مورخ ! میری تاریخ نہ لکھنا فارحہ ارشد تم یہاں اجنبی لگتے ہو۔ میں نے
بندیاں دا چڑی گھر محمود احمد قاضی اک پرانا واقف کار بیمار سی۔ اوہدا پتہ
کافی مگ سبین علی رات گئے کچن صاف کرنے کے بعد وہ باہر کچرا پھینکنے
جمع شدہ لڑکی مسلم انصاری “میں جب سفر سے لوٹا تو گھر کا صحن بند
فرِنس ستیہ جیت رے جینت کی طرف کچھ دیر تکتے رہنے کے بعد سوال کیے