غزل ۔۔۔ ساغر صدیقی
غزل ( ساغر صدیقی ) کوئی نالہ یہاں رَسا نہ ہُوا اُشک بھی حُرفِ مُدّعا
غزل ( ساغر صدیقی ) کوئی نالہ یہاں رَسا نہ ہُوا اُشک بھی حُرفِ مُدّعا
غزل ( شہناز پروین سحر ) کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے یوں
غزل ( غلام حسین ساجد ) رشک اپنوں پر نہ غیروں سے حسد کرتا ہوں
نرماہٹ کا رار ( فطرت سوہان ) جب تمھارے محبت بھرے ہاتھ میرے ہاتھوں کی
ابلاغ ( سلمان حیدر ) ایک بےچہرہ خواب ایک بے نام خوشبو میں لپٹا ہوا
مترجم: سعادت حسن منٹو لوگ مجھ سے سوال کیا کرتے تھے…..”محبت کیا ہے؟” میں انہیں
گر مجھے دوبارہ زندگی ملی تواس اگلی حیات میں ۔۔۔ میں کوشش کروں گاکہ اور
عدالتِ عالیہ کے برآمدوں میں بہت دنوں سے تعفن کی شکایت کی جا رہی تھی
اگر ہنسنا چاہتے ہوتمتو ہنس سکتے ہواپنی جیبوں کو جو آنسؤں سے بھری ہوئی ہیںان
بے خواب محبت کی رات (گارسیا لورکا ) ترجمہ: محمد سلیم الرحمٰن رات کا نزول،