غزل ۔۔۔ شہناز پروین سحر

غزل

( شہناز پروین سحر )

کر کے اسیر جسم سزا دی گئی مجھے

یوں عمر بھر کی قید سنا دی گئی مجھے

کس مصلحت کے واسطے دینا پڑا فریب

کُن کہہ دیا تو کیسے فنا دی گئی مجھے

اڑتی رہی فلک پہ ستاروں کی اوڑھنی

سر سے بہت ہی دور ردا دی گئی مجھے

اوپر تلے ہیں سنگ ِ حیات اور سنگ ِ مرگ

چکی کے دونوں پاٹ میں جا  دی گئی مجھے

اُس کو عطا ہوئی ہیں گُلوں کی صباحتیں

صحراوں کی سی آب و ہوا دی گئی مجھے

دے دے کے خواہشوں کو مری کانچ کے بدن

کس درجہ احتیاط سکھا دی گئی مجھے

ایڑی اٹھا کے ساتھ نبھانا پڑا  سحر

قد سے بہت بلند انا دی گئی مجھے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: