مترجم: سعادت حسن منٹو

لوگ مجھ سے سوال کیا کرتے تھے…..”محبت کیا ہے؟”
میں انہیں اپنی سمجھ کے مطابق مناسب جواب دے دیا کرتا تھا
مگر یہ اُس زمانے کی باتیں ہیں جب میں خود محبت کے حقیقی معنوں سے بے خبر تھا
میرا دل برف کے مانند سرد تھا
اُس میں محبت کی ایک شعاع بھی نہ تھی
تجربات نے میرے پہلے خیال کو غلط ثابت کر دیا
آج میں خود لوگوں سے پوچھتا ہوں…. “محبت کیا چیز ہے؟”
………..
میں ایک ایک سے دریافت کرتا ہوں…..
“میرے سینے میں یہ آگ کیوں سلگ رہی ہے؟
یہ کیسا ہاتھ ہے جس کی نازک انگلیاں میرے کلیجے کو ہر وقت مسلتی رہتی ہیں؟
میں اندر ہی اندر کیوں پھنکا جا رہا ہوں؟
میرا دل شمع کی طرح کیوں پگھل رہا ہے؟”
…….
میں جنوں کی حالت میں دریا کے کنارے چلا گیا…. کہ شاید
اُس کی رقصاں لہروں کا نظارہ میرے قلبِ مضطرب کو تسکین دے سکے.
ایک گوشے میں بیٹھا میں بڑبڑایا…..”محبت کیا چیز ہے؟”
ایک سال خوردہ بزرگ لاٹھی ٹیکتا ہوا اس طرف سے گزرا…..
اُس کا جسم کمزوری کے باعث لرز رہا تھا
اُس نے میری صدا سنی اور مسکرا کر کہا
“محبت ایک فطری کمزوری ہے جو ہمیں اپنے ابوالآبا سے ورثے میں ملی ہے”
……….
وہ چلا گیا….. مگر اُس کا جواب مجھے مطمئن نہ کر سکا. میں نے پھر بہ آوازِ بلند کہا
“محبت کیا چیز ہے؟”
ایک بوڑھی عورت کا ادھر سے گزر ہوا….. اُس نے میری درد انگیز صدا سنی
اُس نے نم ناک آنکھوں سے کہا
” محبت عہدِ شباب کا وہ شیریں خواب ہےجو منت کشِ تعبیر نہیں…. خواب جس کی لذت تمام عمر دل سے محو نہیں ہوتی” 
…….
یہ جواب بھی مجھے مطمئن نہ کر سکا
پھر وہی صدا میرے دل سے نکلی……
“محبت کیا چیز ہے؟”
جواب میں ایک خوب صورت نوجوان یہ گاتا ہوا گزر گیا
“محبت قوت ہے، مسرت ہے، لذت ہے”
………
میں اپنے آوارہ خیالات کو یکجا کرنے نہ پایا تھا….. کہ ایک فلسفی میرے قریب آیا وہ بغل میں ایک بھاری بھرکم کتاب دابے ہوئے تھا
بال بکھر رہے تھے…. اُس نے میری طرف غور سے دیکھا
میں نے اُس سے دریافت کیا…..”محبت کیا چیز ہے؟”
اُس نے اپنی پیشانی کو شکن آلود کرتے ہوئے کہا
“محبت…..
محبت موت کی طرح انسانی قالب کی ماہیت تبدیل کر دینے والی چیز ہے”
…….
اسی اثنا میں علمِ ہیئت کے ایک ماہر کا ادھر سے گزر ہوا
ہاتھ میں دُور بین تھی اور نگاہیں آسمان پر جم رہی تھیں….. میں نے پوچھا
“تمہارا ذہن آسمان تک کی خبر لاتا ہے، کیا تم یہ بتا سکتے ہو، محبت کیا چیز ہے؟”
بولا” محبت وہ کشش ہے جس کی وجہ سے ستارے آسمان پر اپنی اپنی جگہ قائم ہیں.”
…….
اس جواب سے بھی میں مطمئن نہ ہوا….. میں پھر اپنے خیال میں ڈوب گیا
اب پھر وہی سوال وردِ زبان تھا…..”محبت کیا چیز ہے؟”
میری صدا ایک بچے نے سنی جو اپنی گیند اُچھالتا دوڑتا چلا آ رہا تھا
اُس نے جواب دیا “محبت میری امی ہیں….محبت میرے ابا ہیں…. ان دونوں کے سوا اور کسی کے پاس محبت نہیں!”
اُس خُرد سال بچے کا جواب پُر معنی ضرور تھا مگر
محبت کے حقیقی معنی پھر بھی میری سمجھ میں نہ آئے
میں بار بار یہی پکارتا رہا…..”محبت کیا چیز ہے؟”…..”محبت کیا چیز ہے؟”
………
شام کی تاریکی کاجل کی طرح برسنے لگی…..
پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں چلے گئے
دریا کا پانی ساکن ہو گیا……لوگوں کی آمدورفت بند ہو گئی
لیکن میں بدستور وہیں بیٹھا اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا…..
…..”محبت کیا چیز ہے؟”…..”محبت کیا چیز ہے؟”
یکایک میری نظریں آسمان کی طرف اُٹھیں…..
بادلوں میں سے کوئی جھانک کر کہہ رہا تھا
“محبت خدا ہے….. خدا محبت ہے!”
میرے منہ سے بے اختیار ایک چیخ نکل گئی….. میں بے ہوش ہو کر گر پڑا
ہوش میں آنے پر میں نے لوگوں کو اپنے گرد گھیرا ڈالے ہوئے پایا….
میں اُن سے کہہ رہا تھا
“محبت کرو اور خدا ہو جاؤ”

Read more from Saadat Hassan Manto

Read more from Victor Hugo

Read more literature from around the world

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: