رِپ وان ونکل ۔۔۔ اسلم سراجدین

رِپ وان وِنکل

( اسلم سراج الدین )

خزانے کا دفتر

سپرنٹنڈنٹ نے تربک کر قلم چھوڑ دیا اور ایک ضیق النفس کھانسی چیخا۔ ہڈیالے پنجوں میں فائلیں اٹھائے ایک انسانی ڈھانچا دفتر میں داخل ہو رہا تھا۔ پیلا  پسینہ سپرٹنڈنٹ کے کپڑوں کو تر کرنے لگا۔

با لآخر صدیوں پر محیط یہ لمحہ بیت گیا —- دفتر واسیوں نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور رومالوں سے اپنے چہرے پَف کرنے لگے — انسانی پنجر دروازے ہی میں ساکن ہو گیا تھا اور اس پر کئی صدیوں کی برف پڑی تھی۔

نوجوان نے سائیکل دروازے سے باہر کیا– اس کی بیوی کے ہاتھ فائلیں اٹھائے دروازے سے باہر آئے— فائلوں کو اس نے کیریئر پر جمایا— پھر ٹفن آیا—اس نے اسے ہینڈل سے لٹکایا —- کلکاریاں —یہ اس  کا بچہ تھا— پیچھے مڑ  کراس نے بیوی کے ہاتھوں سے تھمے گل گوتھنے کو تھپتھپایا—- لیکن چہرہ اسکا بدستور سانچے میں لگا رہا—- ہر ایک عمل بے حد مکمل اور سائنٹفک —-ہاتھوں کے پھول دروازے میں ڈوب گئے۔ نوجوان نے پیدل پر پاؤں دھر دیا۔

نئے سائیکل کا بے آواز چلاو

یہ چڑھائی کی چاند تھی ۔۔۔  نیچے سڑک کا سیاہ لاوا بہہ رہا تھا

ڈھلان—بے حد بہاو کا عمل—کاہلی—نہیں اس کے دھرے ناکارہ نہیں ہوئے تھے،رفتار بڑھ گئی تھی۔

 اچانک وہ روشنی میں نہا گیا۔ روشنی کے گرم چھینٹے اس کے چہرے پر پڑے، اس نے کاہلی کی چادر ہٹا دی — سارا گردوپیش روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ ذرے ذرے سے روشنی پھوٹ رہی تھی

ایک ہاتھ اس نے گرمانے کے لیے بغل میں دبا رکھا تھا۔۔۔۔ اب جواس نے اسے باہر نکالا تو وہ سبزی مائل دودھیا روشنی کا ایک چھوٹا سا عمودی پہاڑ تھا۔اس نے دوسرے ہاتھ پر بھی یہ عمل آزمایا اور حیرت آمیز خوشی سے بھر گیا ۔۔پھر جو اس نے اس سب طرف دیکھا تو کھلا کہ  نور دراصل ذروں سے نہیں پھوٹ رہا تھا، خود اس کے اپنے سر یر سے چھن چھن کر ٹیلنیوں ذرات کو بٹ رہا تھا۔ —  ٹھنڈا بوڑھا سورج لاٹھی ٹیکتا اس کے پاس آیا روشنی کا ملتجی ہوا۔ بڑی تمکنت سے اس نے چھوٹا عمودی پہاڑ بلند کیا اور شفقت سے سورج کے سر پر رکھا۔

سامنے دایئں، بایئں اور پھر عقب میں —- ہر طرف حد نگاہ تک اسکی نگاہ کے اعجاز سے فصلں پک گئی تھیں۔ دانوں کے ڈھیر لگے تھے۔ —  پکی سبزیوں کے کھیت دور تک بچھے تھے ۔ ہلکے سبز رنگ کدوؤں کے غیر محسوس طور پر چھپتے ہوئے رونیں توانا حبشیوں ایسے بینگن ،کریلے، لیڈی فنگر— مویشیوں کے ریوڑ کے ریوڑ—دودھ ، بھینسوں ،گیئوں کے تھنوں سے بہتا ہوا اور آدمی۔۔۔ واقعتا آدمی، سبزیوں دودھ اور دانوں سے بہت بلند ہوکرفضا میں تیرتے  ہوئے اور کائنات کے ازلی و ابدی بھیدوں میں کھوئے ہوئے—

اسے مطلق خبر نہ ہوئی اور اس کا ایک پہلو خوابگاہ سے جدا ہوگیا دوسرا بھی نو بےاندازہ رفتار سے پھیلتے چلے گئے پھیلتے چلے گئے

اب سینے کےاس پھیلاو میں زمیں گر گئی پھر زہرہ، مشتری اور نیپچون بھی، سیارے  سارے کے سارے —- سورج ، تمام دودھیا راستے یہ جہاں، وہ جہاں ، سارےجہاں اس کے سینے کے ایک ایک کونے میں دبک گئے اور یہ ساری اشیا جو اس کے سینے میں دبکی پڑی تھیں کس قدر کو بے مایا اور بے وزن تھیں۔ اس نے انہیں تولامچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہ آسکیں —-

اچانک تجسس نے اسے آلیا۔ اس نے سینے میں ہاتھ ڈال کر ان تمام اشیاء کو ایک اکائی کی صورت نکال لیا اور کسی بچے کی مانند حیران حیران سا انہیں الٹنے پلٹنے لگا۔ — کائنات تو گویا ایک جیبی گھڑی تھی،یا پھر خلال جو دھاگے سے بندھی  اس کی گردن سے لٹکتی تھی۔

 بسط کا لمحہ گزر گیا۔ — اب قبض کا آغاز ہے۔— انجماد، گھٹاو، سکڑاو، کٹاو۔۔۔

ایک جھٹکے سے اس کا ایک پہلو خواب گاہ سے ان لگا، پھر دوسرا بھی، تمام اشیاء ریزگی کی زد میں آ گئی تھیں۔خلیوں کے گھر مسمار ہونے لگے اور ٹشو  کٹنے لگے۔  جوڑ  جوڑ سے جرا نہ رہا۔ — آسمان پہلے تو سرخ تانبہ ہوگیا پھر تانبے کی یہ سرخ پلیٹ پانی میں گر گئی۔— شُوں —اب آسمان آسمان پر نہ تھا۔  پھر ریزگی و ریختگی کا یہ عمل زمین پر اتر آیا اور ریزگی کی پہلی بجلی خزانے کے دفتر پرگری۔ گرڈر پگھلے اور پانی کے ایک قطرے کی صورت مٹی میں جذب ہوگئے۔۔۔ دیواریں ایک لمحے کو حیران حیران اور شرمسار سی کھڑی رہیں اور پھرزمیں بوس ہوگئیں۔۔۔۔ اونچی چوبی الماریاں بے سہارا کھڑی رہ گئیں۔۔۔ یہ الماریاں بھورے کاغذات سے ٹھنسی بڑی تھیں۔ کبھی یہ کاغذات ضرور سفید رہے ہوں گے مگر اب ان پر شکستہ خط  اور سیاہ روشنائی میں بنائے گئے ٹیڑھے میڑھے بے معنی الفاظ ایک دوسرے سے جونکوں  کی مانند چمٹے تھے۔  کاغذات کاغذات دستاویزات،سکرولز،  ٹیگز۔  کڑکڑاتا کلکولیٹر— وہ مایوس ہو گیا یہ سب اشیاء کو اپنی بقا سے متعلق بہت پر اعتماد تھیں۔

اس نے سانس روک لی

Cliffhanger

سیاہ لفظوں کی جونکیں—اس سے چمٹ گیئں۔۔۔ وہ پیلا پڑ گیا سکرولز کے بھاری کمبل نے اسے لپیٹ لیا، اس کا دم گھٹنے لگا۔۔ گردن کوٹیگ کے طوق سے چھڑاتے چھڑاتے  وہ نیم پاگل ہوگیا— ،با لآخر با لآخر— اس نے اطمینان کا سانس لیا وہ   چٹان فتح کر چکا تھا۔

مادہ تباہ ہوچکا تھا۔— مطلق طور پر، دفتر، دفتر واسی، تمام دفتری متعلقات نیست ہوچکے تھے اور پرمسرت بات یہ تھی کہ مادے کے تباہ ہونے سے کسی توانائی کا اخراج بھی نہیں ہوا تھا۔ورنہ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ توانائی پھر سے مادے میں تبدیل نہ ہو جاتی اور دیواریں، دفتر پھر سےـ—

نہیں کچھ نہیں، کچھ نہیں— اسنے مایوسی سے سر ہلایا — وہ راہگزر تو ابھی وہی لپٹی ہے اور منتظر ہے کہ ابھی میں اسے پولے پولے لتاڑتا گزروں گا۔میں اس راہ گزرکا چا کرہوں ، صبح سپہ پہر دووقت اس کا لتاڑا کرتا ہوں۔ یہ بڑھیا سو نہیں سکتی بغیر لتاڑا کئے۔ یہ شیزو فرینک ہے۔ کوئی لیور دو مجھے—- میں اب اور اس بڑھیا کی چاکری نہیں کر سکتا۔ میں اسے اکھاڑ پھینکوں گا اور اگلی دفعہ جب چاند پر جاؤنگا تو اسے وہیں چھوڑ آوں گا۔

اچانک اس  کے پیروں تلے سے زمین نکلنے لگی—زلزلہ آگیا تھا— ایک حیرت زا کیفیت نے اسے آ لیا ۔  اوہ۔ کسقدر آ سم ہے۔

  اورپر شکوہ—عظیم سیاہ  پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر دریا میں گر رہے تھے۔ آہ !  کس قدر شاندار—اس نے سوچ لیا کہ بعد ازاں یہ سب ہو سلوموشن میں بھی دیکھے گا۔

اپنا اٹھا ہوا پاؤں وہ زمین پر نہ دھر سکا—آگے پانی تھا—کراں تا بہ کراں—راہگزر کہیں نہیں تھی۔ ہر ہر لہر پر ایک مہیب چٹان ایستادہ تھی اور روشنی کا مینار کہیں نہ تھا ۔ جہازرانی ! ؟ کشتی رانی ! ؟  خارج ازامکان—پہلے وہ ہنس دیا پھر وہ رونے لگا۔  نہیں یہ بھی نہیں مجھے تو عدم چاہیے جس کا کوئی وجود نہ ہو اور وجود چاھیے جس کا کوئی عدم نہ ہو۔ میں کشف المحجوب کا ورق ورق سیوں گا اور اپنا پاجامہ تیار کروں گا۔

اب یہاں سکون ہے— میں اپنے بڑے باپ کے گھر نقب لگا وں گا اور اس کے لب تلاش کرکے انہیں سی دوں گا تاکہ وہ کن نہ کہہ سکے—- اشیاء بھی اپنے تمام امکانات کے ساتھ مجھ میں پری آرام کر رہی ہں۔

 —— اوہ میں نے کتنا طویل سفر طے کیا ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لئے، کھربوں، پدموں، نیلموں میل —- دوہرے ستارے الفا سٹاری کومیں نے اپنا لانچنگ پیڈ بنایا اور کہکشاوں  کو روندتا پھیلتا چلا گیا۔ اب میں یہاں  پڑا ہوں۔۔ نیم دراز۔۔چپ کے پیڑ کی چھاؤں میں وقت، بے وقت ہوا دست بستہ میرے حضور کھڑا،  میرے کن کہنے کا منتظر ہے۔ یہاں اثبات ہے نفی کے بغیراور نفی ہے اثبات کے بغیر اور میں اور میرا مقام و نشان دونوں مٹ گئے۔۔۔ پس میں اپنے وقت میں نہ نزدیکی دیکھتا ہوں نہ دوری۔

 سڑک پر ایک شور سا اٹھا ۔ لوگ چلتے چلتے پل بھر کو روکے اور پھر اپنی اپنی راہ ہو لئے۔  کچھ دیر تو بوڑھا جان ہی نہ پایا کہ ہوا کیا۔ مگر سائیکل کے تکلیف دہ بوجھ نے اسے احساس دلایا کہ کچھ ہوا ضرور ہے۔

بڑی جدوجہد کے بعد بوڑھے تھیسس(1) نے سایئکل کی چٹان کو اکھاڑ پھینکا۔  گرد میں انگلیاں پھیر پھیر کر اس نے عینک تلاش کی۔۔۔۔ کانپتے ہاتھوں دھاگا کان پر لپیٹا اور پھر بچہ بے آواز سسکیاں بھرنے لگا۔  اس کا دوست کھلونا ٹوٹ گیا تھا۔  کاٹھی کو ہینڈل سے ملانے والا راڈ دو نیم ہو چکا تھا۔ اگلا پیہہ سائیکل کے کُل کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا تھا۔  بے بسی، لا حاصلگی کے افسوس اور اداسی سے روتے ہوئے بوڑھا بڑے پیارسے سائیکل کے مختلف حصوں کو پلوستا رہا— اس کے ہاتھ زنگ آلود ہو گئے—- زمین پر بھی سائیکل کا نامکمل ڈھانچہ بن گیا تھا۔

ہچکیاں اسکے ناتواں بدن کو ہلائے دے رہی تھیں۔  مقابل کی دوکان سے چائے والا آیا سہارا دے کر بوڑھے کو اٹھایا اور فائلیں اسے تھمائیں۔  کسی نہ کسی طور بوڑھا خود کو برآمدے میں لے گیا اس سے پہلے کہ وہ داخل دفتر ہوپاتا، ” رکو، ر کو بڑے میاں ٹھہرو۔۔۔” کی آوازیں آیئں۔ یہ چپڑاسی تھا۔۔نوارد تھا شاید۔

———-” اندر کس لئے جاتے ہو ؟”——

اندل کش لیے جاتا ہوں ؟ میں ۔۔۔ میں اندل کام کلتا ہوں ۔۔۔۔ بابو ہوں ۔۔۔”

” تم ؟ بابو ہو ؟ “

” ہاں ہاؐں، میں دفتل کا بابو ہوں۔۔۔یہ فائلیں دیکھو۔۔۔”

” کیا نام ہے آپ کا؟ “

” شب جانتے ہیں میلا نام۔۔۔۔۔ میںرپ ہوں۔۔۔۔ رپ وان ونکل۔۔۔”

” رپ صاحب تو اندر بیٹھے ہیں۔  وہ دیکھو۔۔۔”

لکنت زدہ بوڑھا پہلے تو سمجھ ہی نہ  پایا کہ چپڑاسی کیا کہ رہا ہے۔ لیکن با لآخر اس نے اسکی انگلی کی سمت نگاہ کی۔۔۔ایک نوجوان فائلوں پر جھکا تھا۔۔۔کچھ لکھتا ہوا، تیزی سے ورق الٹتا ہو، کہیں مارک کرتا، فلیگ رکھتا اور کہیں اوراق کو پِن کرتا ہوا۔۔۔چہرہ سانچے میں لگا ہوا۔۔۔ ہر ہر عمل بےحد مکمل اور سایئنٹفک۔

” یہ سب ہے تو پھر میں کون ہوں۔۔۔؟

” تم کوئی نہیں ہو۔۔۔ جاؤ۔۔۔ وقت ضائعے نہ کرو۔۔۔” یہ کہہ کر چپڑاسی ایک دوسرے آدمی کی طرف متوجہ ہو گیا۔  ” تو میں کوئی نہیں ہوں “

یہ آخری خیال تھا جو بوڑھے نے اپنے زندہ روپ میں کیا اورپھر فورا ہی بعداس کی کھال اس کے پاؤں میں آگری۔۔۔ آنا فانا  کچھ کتے            سے آگئے اور کھال جھپٹ کرلے گئے

دونوں شیشے ایک              لے گیا۔

اتنے میں دو کتے اور آگئے۔۔۔بہت سنابش اور کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک نےعینک کا دھاتی فریم جھپٹ لیا اور دوسرا وہ لیا چھوٹا سا میلا کچیلا دھاگہ سمیٹنے لگا جو کمانی کا کام دیتا تھا۔ اب ہڈیوں کا ڈھانچ دروازے میں ایستادہ تھا۔

اور جب تمام دفتر بابووں نے بانجھ مسکراہٹوں کی سلیپیں ہونٹون پر چپکا لیں تو سپرٹنڈنٹ چپکے سے اٹھا اورہڈیوں کے ڈھانچ کو اپنی میز کے قریب گھسیٹ لایا—-میں اسے کیوریوز  شاپ میں بیچ آوں گا۔۔۔۔ اتنے سکون سے سوچا اور فائلوں پر جھک گیا۔

 (1)( Theseus’ paradox, is a thought experiment that raises the question of whether an object that has had all of its components replaced remains fundamentally the same object.(

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: