نئی شرطیں ۔۔۔ کشور ناھید

نئی شرطیں

( کشور ناہید )

بدلنا جو چاہو

تو اپنے ہی ہاتھوں کی جنبش کو بدلو

سمٹنا جو چاہو

تو اپنے گریباں کا خود چاک دیکھو

لچکنا جو چاہو

تو پھر لغزشوں سے مرصع یہ رفتار بدلو

سنورنا جو چاہو

تو خوابوں کی شہزادگی کے اجڑنے پہ شکرانہ بھیجو

حال کو اپنی تصویر سے یوں علیحدہ کرو

کہ تمہیں اپنے پیروں کے نیچے

تمہارے ہی سائے کا نقطہ ملے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: