خدا میری نظم کیوں پڑھے گا ۔۔۔ دانیال طریر

نظم

دانیال طریر

 غنودگی اب غنودہ تر ہے

 فلک کے کھیتوں میں خامشی ہے

 نئے ستارے اُگانے والے کسان کو نیند کی پڑی ہے

 ضعیف و بیمار چاند شب کی مہیب وسعت میں کھو چکا ہے

 مگر مری نظم مرنے والوں کا ماجرا ہے

جو گھر سے نکلے تو روشنی کی تلاش میں تھے

 پلٹ کے آئے تو سانس کی لو بجھی ہوئی تھی

 یہ بند بوری میں کیا ہے بھائی

 جو گھر کی دہلیز پر پڑی ہے

زمین قبروں سے بھر گئی ہے

حسن ! تمہارے تمام کوزے لہو لہو ہیں

 عطا ! تمہارے تمام چشموں میں لوتھڑے ہیں

 یہ قصۂ حور ہے نہ ذکرِ مئے مقدس

 مگس کی قے کا نہ دودھ نہروں کا تذکرہ ہے

 نہ اس میں باغِ بہشت میں اُڑتے پھرنے والا کوئی کبوتر

 نہ کونج کوئی

نہ اس میں منبر، نہ صف بہ صف با وضو نمازی

نہ مسجدوں والی گونج کوئی

اذاں نہیں ہے نہ مصرعہ ء عطر دار کوئی

سڑاند ہے اور غبار آلود راستے ہیں

 نظر پہ چھاتا

، دلوں تک آتا گھنا دھواں ہے

فرشتگیاں کی طرف دھواں کس طرح بڑھے گا

 خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: