صلیبیں مرے دریچے میں ۔۔۔ فیض احمد فیض

جناب فیض احمد فیض کا ایک خط، ایلس کے نام

دوران اسیری، کیمپ جیل لاہور

جنوری 27، 1955

غالبا لاہور شہر آج کل کرکٹ کے بخار میں مبتلا ہوگا۔ یہ ڈس پلیسمنٹ کی بہت اچھی مثال ہے۔ اس سے مراد ہے دبی ہوئی اور ناآسودہ خواہشات کی تسکین کے لیے کسی با لکل مختلف دائرہ عمل میں سرگرم ہونا جس کا ان خواہشات سے کوئی علاقہ نہ ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ  کوئی قومی مسئلہ ۔۔۔۔ سنسر نے کاٹ دیا ۔۔۔۔ ایسا نہیں  جسے کسی غریب ۔۔۔۔ سنسر نے کاٹ دیا۔ کلرک نے وہ اہمیت دی ہو   جو آج کل کرکٹ کو حاصل ہے۔ گویا اس نے  کرکٹ کے میدان کو زندگی کے میدان کا بدل بنا لیا ہے اس لیے کہ زندگی کے محنت طلب میدان میں اس کے لئے کیف اور ولولے کا کوئی سامان موجود نہیں۔  کرکٹ میچ کے ہر سنسنی خیز  مرحلے میں وہ کلرک  برابر کا شریک ہوسکتا ہے۔  خیر اگر بچارے کو اسی میں مزہ ملتا ہے تو ہم حرف گیری کیوں کریں۔ لیکن مجھے یہ رویہ کچھ غیر صحتمند اور قابل افسوس نظر آتا ہے، شاید بڑھاپے کا اثر ہے۔

 منٹو کی وفات کا سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ سب کمزوریوں کے باوجود مجھے نہایت عزیز تھے اور اس بات پر مجھے کچھ فخر بھی ہے کہ وہ امرتسر میں میرے شاگرد تھے ۔ اگرچہ یہ شاگردی کچھ برائے نام ہی تھی اس لیے کہ کلاس میں تو شاید ہی  کبھی آتے ہوں۔ البتہ میرے گھر پر  اکثر صحبت رہتی تھی اور چیخوف،  فرائیڈ اور موپساں اور نہ جانے کس کس موضوع پر گرم مباحثے ہوتے تھے۔  بیس برس  گزر چکے لیکن یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہے۔ ہمارے شرفا جنہیں  دورحاضر کے فنکار کی شکست دل کا نہ احساس ہے نہ اس سے کوئی ہمدردی، غالبا یہی کہیں گے کہ  منٹو مر گیا تو اس کا اپنا قصور ہے۔ بہت پیتا تھا۔ بہت بے قاعدہ زندگی بسر کرتا تھا۔ صحت کا ستیاناس کر لیا تھا وغیرہ وغیرہ لیکن یہ کوئی نہیں سوچے گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ ایسے ہی کیٹس نے  بھی اپنے آپ کو مار رکھا تھا  نے بھی، موزارٹ نے بھی۔  اور بھی کئی نام گنوائے جا سکتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ جب  معاشرتی حالات کی وجہ سے فن اور زندگی ایک دوسرے سے برسرپیکار ہوں تو دونوں میں سے ایک کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ دوسری صورت  سمجھوتہ بازی کی ہے جس میں دونوں کا کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ اور تیسری صورت ان دونوں کو یکجا کرکے جدو جہد کا مضمون پیدا کرنے کی ہےجو صرف عظیم فنکاروں کا حصہ ہے۔ منٹو عظیم نہیں تھا لیکن بہت دیانتدار، بہت ہنر مند اور قطعی راست گو  ضرور تھا۔

میرے خیال میں اس کا گھر تمہارے راستے ہی میں ہے گزرتے ہوئے وہاں سے ہو آنا اور میری طرف سے بہت پیار اور دلی تعزیت پہنچا دینا۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: