انکار ۔۔۔ گلنار فیروز خان

انکار

( گلنار فیروز خان)

کیا یہ کم ہے؟

 کہ میں نے تمھارے لئے

اپنی وہ زندگی ترک کی

 جس کو گزارنے کے میں نے خواب سجائے تھے

 میں نے خوشیوں کا گلہ گھونٹ دیا

 اور رشتے کے اثبات میں سر ہلایا

 میں نے بنا دیکھے تم کو قبول کیا

 تمہیں معلوم ہے

 میں فکشن رائٹر بننا چاہتی تھی

 اور کچھ کتابوں پر تبصرے لکھنے تھے

 مجھے تاریخ پڑھنا تھی

 چی گویرا کی زندگی پر آرٹیکل لکھنے تھے

 کاسترو کی تعریف اور تنقید کرنا تھی

 میں نے کارل مارکس کو پڑھتے چھوڑ دیا

 اور جان کیٹس کی رومانوی شاعری پڑھنا شروع کی

میں نے تم کو تخیل میں بہترین رنگوں سے مزین کیا

 اور تم سے تصور میں بے باک محبت کی

 شب کے بے شمار لمحات تمھارے سنگ گزارے

حالانکہ تم نہیں تھے

تمھارے بدن کی بناوٹ کو اپنے احساس سے پرکھا

 ایک سال میں ہماری شادی بار بار ہوئ

 لیکن ہم صرف تصور میں ایک تھے

 میں نے جب پہلی بار تمھاری آواز سنی

 تو میری ساکت سماعتیں لرزنے لگیں

 میں صرف سنتی گئی

 تمھاری سرگوشیاں نغمہ سرا تھیں اور

 میں صرف آہنگ سن رہی تھی

 ایک من چاہا سریلا گیت

جس کو میں خود بھی گا رہی تھی

مجھے سر برابر لگے تھے

 مگر بول نامانوس تھے

 دو گھنٹوں کے طویل کلام میں

 مجھے انکار کے سوا سب اچھا لگا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: