آخری بارش ۔۔۔ خالد فتح محمد

آخری بارش

خالد فتح محمد

بارش کے انتظار میں وہ کئی راتوں سے جاگ رہا تھا اور پپیہا بھی کئی راتوں سے مسلسل رو رہا تھا!۔

اس نے سُن رکھا تھا کہ پپیہا پانی نہیں پیتا ،اس کے سرمیں سوراخ ہوتا ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو بارش کے قطرے اس سوراخ میں گر جاتے ہیں اور اس کی پیاس بجھ جاتی ہے ۔

فرید کو اس کی پیاس اپنے گلے میں چُبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔وہ کئی گلاس پانی پی جاتا لیکن پپیہے کی التجا پھر اسے پیاسا بنا دیتی ۔اس نے یہ بھی سُن رکھا تھا کہ پپیہا صرف خاردار تاروں پر بیٹھتا ہے ۔چھوٹے سے گاوں کے باہر کیکر کے صرف دو درخت تھے ۔ اس کے علاوہ گاوں کا چوفیر ٹاہلی ، توت ، آم ، جامن اور بکائن کے درختوں سے بھرا ہوا تھا ۔وہ یہ نہ جان سکا کہ پپیہا خاردار درختوں پر کیوں بیٹھتا ہے ۔ اس کی پیاس اور خاردار درخت پر رہائش اس کے لیئے معما بن گئی تھی ۔اسے دراصل ایسی باتوں سے کبھی دلچسپی نہیں رہی تھی ۔ اس نے گاوں کے درختوں پر غور ہی نہیں کیا تھا۔وہ تو وہاں بس رہ رہا تھا اور درخت اور گاوں کے تین اطراف میں جوہڑ جو گھروں کے نکاس اور بارشوں کی وجہ سے وجود میں آئے تھے ، اس کے لیئے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ اسے زندگی میں دو ہی چیزیں پسند تھیں ۔۔۔۔۔بارش اور بے فکری! ۔

اس کی عمر پچاس کے قریب تھی اور زندگی میں اسے قدرے آسودگی میسر تھی ۔زندگی میں اپنے چلن کو برقرار رکھنے کے لیئے اس نے شادی نہیں کی تھی ۔کبھی کبھار اسے محسوس ہوتا کہ زندگی سے اس کی کچھ نہ کچھ وابستگیاں ضرور ہونا چاہئِے تھیں ۔اُس کی زندگی تو اس گدلے پانی کی طرح تھی جو صاف ہوتا، تو قابل استعمال ہوتا: اب کثافتوں کو دیکھ کر کوئی اسے صاف کرنے کا بھی نہیں سوچتا اور اس کی زندگی میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

بارش اسے اپنی زندگی سی لگتی۔۔۔۔بالکل اپنی مگر گریزاں،جب تک پانی برستا رہتا ، اسے وہ اپنی زندگی کا حصہ معلوم پڑتا۔ وہ سمجھتا کہ بادل، جھونکوں اور بوندوں کا سروروہ جادو ہے جو اس کے سمیت پوری کائنات کو گھیر ے ہوئے ہے۔ اسے اپنے وجود کا خلا بھرا ہوا محسوس ہوتااور یوں لگتا وہ مکمل ہو گیا ہے۔ اس کے اندر اپنے خلاف سر اٹھاتی بغاوت دم توڑتی جاتی ۔وہ شانت ہو جاتا۔پھر بارش بند ہو جاتی، بادل پھٹ جاتااور سورج کی شعاعیں، درزوں سے جھانکنے لگتیں ۔تصوراتی خاکہ حقیقت کے پھیکے رنگوں سے بھر جاتا اور وہ چاہتا بادلوں کی جھریاں آپس میں مل جائیں اور بارش کے بعد کا جادو اسے کیل لےمگر ایسا نہ ہوتا ۔بادل آسمانوں میں تحلیل ہو جاتےاور اس کے وجود کے خلا میں پھیل جاتے۔ وہ پھر سے اپنے ہی رحم و کرم پر ہوتا اور سوچتا: کیا وہ اپنا دشمن ہے اور اپنے آپ کو ختم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔

یہ وہ وقت ہوتا جب پپیہا مطمئن ہو کر خاموش ہو جاتا۔ پانی نے اس کے سر کے سوراخ کو شاید بھر دیا ہوتا۔پپیہا اچانک اسے اپنا دشمن لگتا ۔وہ بندوق اٹھا کر اسے مارنے کے لیئے نکل پڑتا ۔پھر اسے خیال آتا کہ پپہیے کے ساتھ یہ دشمنی ہی دراصل ان دونوں کے بیچ دوستی کی گرہ ہے۔ پپیہا، بارش کے بعد مطمئن ہو تا اور وہ بارش کے دوران میں!۔

فرید کی الجھن اس کے لیئے عذاب بن گئی۔ اسے بارش کا انتظار تھااور آسمان پر سفید رنگ کے منتشر ، ناکارہ بادلوں کا کبھی کبھار آنا جانا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ بادل بھی اس کی زندگی کی طرح خالی ہیں۔آسمان کے سمندر میں وہ ان نیلے بادبانوں کی طرح لگتےجن کی کشتیاں ڈوب چکی ہوں۔ وہ بھی اسے بارش کے منتظر لگتے کہ گہرے بادلوں کے ساتھ مل کر اپنے وجود کو کارآمد بنا سکیں۔ فرید ہر وقت سوچتا کہ اپنے وجود کو کیسے کارآمد بنائے !۔ وہ بے فکری کی زندگی کا عادی ہو چکا تھا۔وہ ناشتہ کرنے کے بعد جولاہوں کے محلے میں چلا جاتا۔کھڈی کے فریم میں نال کو چلتے دیکھتا۔ کھڈی کو ہاتھ سے چلانے کا آہنگ اس کے سینے میں عجیب طرح کا ارتعاش پیدا کرتا اور وہ آنکھیں بند کئیے، اس موسیقی سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔پھر وہاں سے اٹھ کر موچیوں کی دکانوں پہ آ جاتا۔ایک دکان میں تین بھائی اپنا اپنا کام کرتے۔وہ انہیں آر، رنبی، سُوئے اور دھاگے سے کام کرتے دیکھتا۔جولاہوں کی گفتگو مٹھاس اور منطق سے بھری ہوتی تو موچی،ہر توپے کو مکمل کرتے ہوئے گالی دیتے۔وہ ان سے اکثر پوچھتا کہ کام کرتے ہوئے گالی کیوں دیتے ہیں۔وہ گالی دے کر کہتے کہ اس کے بغیر وہ سوئے کو توڑی کے پار نہیں کر سکتے۔یوں فرید کو یہ تمام گالیاں ان کے کام کا حصہ لگتیں۔تب سورج سر پہ آیا ہوتا اور سائے ڈھلنا شروع ہو جاتے۔وہ دوپہر کے کھانے اور آرام کے لیئے اٹھ جاتا۔کام کرنے والی ماسی اس کی منتظر ہوتی۔ وہ کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام کے لیئے لیٹ جاتا۔ یہ ایسی عادت تھی جس سے وہ چھٹکارا حاصل نہ کر سکا۔وہ محسوس کرتا کہ یہی عادت اسے زندگی سے باندھے ہوئے تھی۔یہ پپیہے کے سر کا سوراخ تھی جو صرف بارش کے قطروں سے بھرتا تھا۔اسی عادت نے اسے نکما بنایا ہوا تھا۔آر سے سوراخ کر کے سُوئے کے ساتھ دھاگے کو پار کرنے کے لیئے زور لگانے کے ساتھ گالی دینے کی ضرورت تھی لیکن خود اس میں گالی دینے کی ہمت نہیں تھی، چناچہ وہ دوپہر کو سوجاتا۔

شام کو وہ لوہار کی دکان پر چلا جاتا۔۔۔۔۔لوہار کو ریتی سے درانتی کے دندانے بناتے، اہرن پر کھرپے اور کسی کو تیز کرتے دیکھتا۔ ہل کے دہکتے پھال کو بھٹی سے نکال کر ضربیں لگاتےوقت لوہار منہ سے سیٹی کی آواز نکالنے کے سوا کوئی بات نہ کرتااور پھال کو کئی مرتبہ گرم کرنے ، ضربیں لگانے اورپھال کو مناسب شکل دینے کے بعدوہ ارد گرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھ کرمسکراتا تو وہ بھی کھل اٹھتاجیسے اس نے خود یہ معرکہ سر کیا ہو۔شام کے بعد لوگ اس کے پاس آ جاتےاور وہ انہیں کتابوں سے کہانیاں پڑھ کر سناتا اور وہ رات گئے تک جاگتے رہتے۔

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ماحول میں تبدیلی رونما ہونا شروع ہو گئی۔جولاہوں نے قصبے میں جا کر کوئی اور کام سنبھال لیا؛موچی جوتیاں بنانے کارخانوں میں چلے گئے؛ لوہار نے قصبے میں، سریے کا کام شروع کر لیا؛اور کتابوں سے کہانیاں سننے والے ، رات کو اپنے اپنے گھر میں ٹیلی ویژن دیکھنے لگے۔ مگر اس تبدیلی کے بعد بھی فرید میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ اکیلا رہ گیالیکن بارش کا جنون اسی طرح برقرار رہا۔پپیہا بھی شاید نقل مکانی کر کے بارش والے علاقوں میں چلا گیا تھا۔وہ کھڈی کے ارتعاش، موچیوں کی گالیوں، لوہار کی مسکراہٹ اور پپیہے کی آواز کو ترس گیا۔اس نے کئی مرتبہ کچھ کرنے کا سوچا مگر اس کی زندگی کے چلن نے اسے کچھ نہ کرنے دیا۔وہ محسوس کرتا کہ وہ اکیلا ہی ایک اور دہلیز پار کر کے، بڑھاپے کی سرحد کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔اُسے اپنی زندگی اندھیرے اور اجالے کے سنگم پر محسوس ہوئی۔ اسے وہ خواب یاد آئے جب بدن بے جان ہو جاتا ہےاور باوجود کوشش کے کروٹ نہیں لی جا سکتی، اور کروٹ لینے کے لیئے جسم کی طاقت کو مجتمع کر کے آخری زور لگایا جاتا ہےتو آنکھ کُھل جاتی ہے ۔۔۔۔تب اس نے آخری کروٹ کی ضرورت محسوس کی۔

فرید کو لگا اس کے اندر برسوں سے آباد سناٹا، دم توڑ ریا ہے اور سرگوشیاں، چیخوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس کے ذہن میں نہر کے کنارے میلوں تک پھیلا ہوا بیلا آ گیا۔ تیس برس پہلے جب بھی بارش کا امکان ہوتا، وہ بیلے میں ایک پیپل کے نیچے جا کر بیٹھتا۔اسے پیپل کے پتوں پر بارش کے قطروں کے جلترنگ کا بہت لطف آتااور پتوں سے پھسل کر گرتے قطرے اسے اس خواب میں لے جاتےجہاں جسم سو جاتا ہے۔۔۔۔وہ گُم صُم بارش کو سنتا اور دیکھتا رہتا!۔

پھر ایک وقت آیا اس نے بیلے جانا چھوڑ دیا۔ وہ بارش سے لطف اندوز تو ہوتا مگرارد گرد کا سکوت اس کے اعصاب پر بھاری ہونے لگتا۔وہ اس خاموشی سے خوفزدہ ہو گیا اور گاوں ہی میں بارش سے لطف اندوز ہونے لگا۔ پھر ایک روز کہ بارش کا تو بظاہر نام و نشاں نہیں تھامگر اُسے لگا پیپل کا درخت اپسے بُلا رہا ہے۔ اُس نے ماسی سے کہا وہ کہیں جا رہا ہے۔وہ حیران رہ گئی کہ فرید تو سالہا سال سے کہیں نہیں گیا تھا۔وہ اس کے لئیے کھانا بناتے بناتے بوڑھی ہو گئی تھی لیکن فرید نے اُسے ایک دن کی بھی چُھٹی نہیں دی تھی۔

فرید دوپہر کو کھانا کھائے بغیر بیلے میں چلا گیا۔بیلا اُسی طرح تھا۔درخت اپنی اپنی جگہ پر اسے خوش آمدید کہتے ہوئے محسوس ہوئے۔اس نے بھی جھک کر انہیں سلام کیا۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا پیپل تک پہنچ گیا۔ تیس برسوں میں پیپل اسے جوانی میں قدم رکھتا ہوا محسوس ہوا۔اس کے پتے پہلے سے زیادہ چمکدار اور چوڑے ہو گئے تھے۔کسی نے پیپل کے گرد تھڑا بنا دیا تھا اور اس نے تھڑے پر بیٹھ کر ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے اپنے اندر پیپل کی طاقت محسوس ہوئی۔ وہ جانتا تھا کہ بیلا چوروں،ڈاکووں، قاتلوں، سادھووں،سنیاسیوں، عاشقوں اور بے بسوں کی آماجگاہ تھا۔۔۔۔وہ اپنا اکیلا پن لئیے ان سب میں شامل ہو گیا۔

شام تک گیدڑ،لومڑی،خرگوش، گلہریاں اور نیولے اسے حیرت، دلچسپی اور خوف سے دیکھ کر بھاگ جاتے رہے۔ وہ بھی ان سب کو شوق سے دیکھتا رہا۔اسے پتہ ہی نہ چلا کہ اندھیرا ہو گیا ہے۔اسے ایک دم احساس ہوا کہ تھوڑی دیر کے بعد مچھر اسے آ کر کھا جائیں گے۔اس نے خشک اورگیلے پتے اکھٹے کر کے ماچس نکالی۔ اسے خیال آیا کہ بیلے میں آنے کے بعد اس نے سگریٹ نہیں پیا، اگر وہ اتنی دیر تک سگریٹ کے بغیر رہ سکتا ہےتو باقی عمر کیوں نہیں !۔چنانچہ اس نے سگریٹ کی ڈبیا جیب سے نکال کردور پھینک دی اور ماچس کی تیلی پتوں کو دکھائی۔ خشک پتوں کو آگ لگ گئی اور گیلے پتے، دھواں دینے لگے۔وہ رات بھر تھڑے پر رہا۔۔۔اس کے ارد گرد ہوا اور خاموشی،سرگوشیاں کرتی رہی اور وہ ان کی گفتگو سنتے سنتے سو گیا۔

صبح بھوک کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں اس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اس نے پیپل کے گرد چکر کاٹ کر اپنی سوئی ہوئی ٹانگوں کو جگایاتو پنڈلیوں میں سُوئیاں سی چُبھنے لگیں۔ وہ واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھا۔ دور سے ایک نیولا،اس کی طرف ٹکٹکی باندھے، پچھلی ٹانگوں پر کھڑا تھا۔فرید ساکت و جامد،اسے دیکھتا رہا مبادا کہ بھاگ جائے !۔تب نیولا، احتیاط سے چلتا ہوا،چند قدم آگے آیا اور پچھلی دو ٹانگوں پر کھڑے ہو کر اسے دیکھنےلگا۔ اسی طرح چلتے چلتے وہ کافی قریب آ گیا۔فرید اس کی آنکھوں کی پُتلیوں کو ، تیزی سے ادھر اُدھر گھومتے، دیکھ سکتا تھا۔لگاتار ٹکٹکی باندھنے سے اسے چکر سا آ گیا۔وہ اٹھ کھڑا ہوا، گرنے سے بچنے کے لیئے اسے پیپل کا سہارا لینا پڑا۔تب اسے شدید پیاس کا احساس ہوا،، گلا خشک کانٹے کی طرح تھا!۔ اسے یک دم پپیہا یاد آ گیا۔ وہ اس کی فریاد سننے کو ترس گیا تھا۔۔۔۔۔اسے لگا وہی فریاداس کے اپنے گلے میں آ رہی ہے۔۔۔ اس نے تھوک سے گلے کو تر کرنا چاہا مگر ۔۔۔۔

فرید کو آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا محسوس ہواتو اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے لگا کہ گاوں کے لوگ اس کے ارد گرد کھڑے ہیں اور اس سے کہانی پڑھنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ اسے یہ عجیب لگا۔۔۔۔یہ سب لوگ ٹیلی ویژن کے سامنے سے اُٹھ کر جنگل بیلے میں اس کی بات سننے کیوں آ گئے ہیں۔وہ اُنہیں کون سی کہانی سُنائے۔۔۔۔۔جولاہوں کی ، موچیوں، لوہاروں کی یا پپیہوں کی ! ان سب نے تو اپنی اپنی کہانیاں شروع کر دی ہیں، اب انہیں اس کی کہانیوں سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے! اس نے آنکھیں کھول کر ان سب سے نظریں ملانا چاہیں مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ اُسے ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ اس نے سمجھا بادل آ گئے۔ تب اسے خیال آیا کہ اس نے اچھا ہی کیا جو بیلے میں چلا آیا ؛ اور اب بارش کو پیپل پر گرتے دیکھ اور سن سکے گا۔ پھر اسے اپنے جسم کے ساتھ ہوا کے لمس کا احساس ہوا اور اس کے ساتھ ہی وہ پیپل کے پتوں میں ارتعاش محسوس کرنے لگا۔ وہ پتوں پر بارش کے قطروں کو گرتے دیکھ سکتا تھا۔ ان کی آوازوں میں اسے پپیہےکی آواز سنائی دی۔ یہ آواز بہت دور سے آ رہی تھی۔ اُسے لگا کہ پپیہا، گاوں کی دوسری طرف، کیکر کے درخت پر بیٹھا ہے !۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

March 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: