گوالن ۔۔۔ خالدہ حسین

گوالن

( خالدہ حسین )

ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ اس کے راج میں چاروں کھونٹ امن و امان، کوئی مسئلہ نہ مشکل۔ کوئی دشمن نہ حریف، مانو شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ پس بادشاہ کا زیادہ وقت سیر و شکار میں گزرتا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک روز بادشاہ وزیر با تدبیر کے ساتھ شکار کو ایسے نکلے کہ صبح سے شام اور شام سے گہری رات اور رات سے صبح اور صبح سے دو پہر ہو گئی۔ شاہی محل میں بھگدڑ مچ گئی کہ عالم پناہ گئے تو کہاں گئے۔ جگہ جگہ پیادے، سوار دوڑائے گئے کہ کچھ خبر لادیں۔ ادھر کی سنو کہ ظل الہی گھوڑا دوڑاتے چلے جاتے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے عجب زر نگار جنگل ہے۔ جنگل تو یوں بہت تھے ان کی راج دھانی میں بس چند قدم چلو اور یہ گھنا جنگل۔ طرح طرح کے جاندار سے بھرا، سرسراتا، آہیں بھرتا مگر یہ جنگل جو ان کے سامنے تھا عجب رنگ روپ کا تھا ، سر سے پاؤں تک سنہرا ہی سنہرا۔ مانو اللہ میاں نے مٹھیاں بھر بھر سونا بکھیر دیا۔ درختوں کے تنے چاندی کی طرح سفید لو دیتے، پتے پیلے چمکتا سونا، ڈالیاں سبزی مائل پیلی، عجب بہار تھی۔

اچانک ایک چتکبرا ہرن دکھائی پڑا۔ ساتھ ہی نافہ کی ایسی لپیٹیں کہ ہوش و حواس گم، چونک کر چلہ چڑھایا۔ مگر وہ چھلا وہ تو چھب دکھا کر اس گھنے سونے میں غائب ہی ہو گیا۔ بادشاہ بھی آخر بادشاہ، چھپتی بھاگتی چیزوں کا پیچھا کرنے والا ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھ کے جنگل کے پورے گھن میں اتر گئے وزیر باہیں باہیں کرتا رہ گیا۔ بادشاہ تو جیسے سبزے کے سمند ر میں اتر گئے۔ آگے کیا دیکھتے ہیں راستہ تو ہے نہیں بس گیلی گلیم نرم مٹی جس میں گھوڑے کے سم ٹنگڑیوں تک کھبے جاتے ہیں ۔ ہاتھوں سے درختوں کی شاخیں ہٹاتے، منہ سر کو بچاتے، چلے جاتے تھے۔ مگر جنگل تو جیسے جتنا کنا اتنا ہی سفر بڑھتا تھا۔ اسی طرح سورج غروب کے قریب آیا وزیر با تدبیر نے لاکھ منٹ سماجت کی کہ حضور اب لوٹ چلئے ۔ ہرن کا تو نام و نشان نہیں البتہ اژدر اور دیگر حشرات الاارض لاکھوں جنس کے سرسراتے سنائی دیتے ہیں مجھے تو لگتا ہے یہیں کہیں وہ کوہ آسا اژدھا کنڈل مارے بیٹھا ہے کہ جس کی ایک ہی سانس لشکروں کے لشکر کھینچ لے جاتی ہے۔

بالاخر غروب آفتا ب سے کچھ پہلے ظل الٰہی کی سمجھ میں بات آ گئی مگر پلٹنے کا راستہ ہی کہاں تھا ۔ بس جوں جوں چلتے جاتے تھے پیچھے راستہ دیو قامت درختوں کی شاخیں باہم ملنے سے پٹتا چلا جاتا تھا۔ گویا یہاں سے کبھی کوئی گزرا ہی نہ ہو۔ بادشاہ سلامت نے درست ہی سوچا۔ آخر بادشاہ تھے کہ سامنے کا سفر، پیچھے کے سفر سے کہیں کم اور سہل ہے۔ بس ہمت کر کے آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔ آخر ہرن مرج کھینچتے جنگل سے باہر نکل آئے۔ کھلے آسمان پر نظر پڑی۔ کنارے کنارے سورج اترتا نظر آیا۔ دونوں نے خدائے عزو جل کا شکر ادا کیا۔ گھوڑوں کو ایڑدی۔ سامنے ہی کسی بستی سے دھواں اٹھتا نظر آتا تھا۔ بادشاہ سلامت کا حلق تو مارے پیاس کے کانٹا ہو رہا تھا۔ چھاگل کی آخری بوند تک نبڑ چکی تھی۔ گھوڑے بھی مارے تنگی کے ہونک رہے تھے۔ بستی میں داخل ہوتے ہیں ایک احاطہ نظر آیا۔ جھونپڑی کے سامنے کھٹیا بچھی تھی۔ بادشاہ سیدھے وہیں جا اترے۔ وہ جھونپڑی کسی غریب گوالے کی تھی۔ اپنی چندے آفتاب چندے ماہتاب بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔

سارے گاؤں کو اسی ہری بھر گائیوں کا دودھ کافی ہوتا۔ صبح شام پیتل کی گاگریں منہ تک بھر جاتیں وہ بھی اللہ کا بندہ ایک بوند ادھر ادھر نہ کرتا۔ گاگر بھی دھوتا تو گھڑیوں اوندھی مارے رکھتا کہ ذرا سی نمی بھی باقی نہ رہے۔ یہ گاڑھا کھوئے سا دودھ گھر گھر جاتا۔ بچے مزے لے لے کے پیتے۔ مائیں دعائیں دیتیں۔ گوالا ہر گھر کی آنکھ کا تارا اس کی بیٹی گاؤں بھر کا اجیارا۔ سارا سارا دن گائیوں کی ٹلا کرتی۔ دانہ، پانی، چارہ، ساہنی اپنے گورے گورے ہاتھوں سے اپلے بھی تھاپتی ۔ انہی سے ساگ بھات پکتا گوالے کا حقہ گڑگڑاتا۔

بادشاہ سلامت خستہ دماندہ تو تھے ہی۔ گوالے نے دیکھا کہ کوئی مسافر بے چارہ بھٹکا ہوا ادھر آن نکلا ہے جھٹ کھٹیا پر کھیس بچھایا۔ منہ ہاتھ دھونے کو پانی بادیہ لا رکھا۔ پھر تازہ دودھ کا کٹورا پیش کیا۔ وزیر با تدبر نے بھی اسی طرح آرام کیا۔ رات سر پر آ گئی تھی۔ تھکے ماندے ظل الہٰی نے رات بھر قیام کا ارادہ کیا۔ پہلی دفعہ تو رعایا سے اتنا قریب رہنے کا اتفاق ہوا تھا۔ وزیر کو واپس محل بھیجا کہ خیرو عافیت کی اطلاع کرے۔ اب ذرا اطمینان سے ہاتھ کا سرہانہ بنائے کھاٹ پر لیٹے تو نگاہ اچانک اس چھوٹے سے باغ پر پڑی۔ سراسر انار اور سیبوں سے لدا تھا جیسے فانوس اور قمقمے لٹکتے ہوں۔ ادھر کھر لی کٹے گائیاں جن کی کھیریاں دودھ سے پھٹنے کو آتی تھیں، جگالی کرتی تھیں ان کی خوش رنگ جبے جھنپنے میں دمکتے تھے۔ اگر اس دور دراز علاقے میں اس معمولی گوالے کے پاس رزق کی ایسی فراوانی ہے تو پوری رعایا تو خوب عیش میں ہو گی۔ اس خیال سے بادشاہ کو بہت اطمینان ہوا مگر ساتھ ہی ایک لمبی سوچ بھی چلی آئی اور بادشاہ کے دل پر کنڈلی مار کے بیٹھ گئی۔ واہ یہ اتنا سب کچھ یہ لوگ اسی طرح کھاتے چلے جائیں اور ہمارے خزانے خالی رہیں خزانہ خالی تو ہر گز نہ تھا مگر مزید بھرنے کی گنجائش ضرور تھی۔ یہ سوچتے ہی فوراً فیصلہ کیا کہ اس پیداوار پر محصول لگایا جائے تاکہ شاہی خزانے کو بھی ان نعمتوں سے فیض پہنچے جو ہماری بدولت ان لوگوں کو مفت مل رہی ہے۔ ساری رات اسی جوڑ توڑ میں گزری۔

صبح سویرے کوچ کا اراد تھا۔ گوالے نے صبح کاذب ہی اپنی بیٹی کو چمکتی کھنکھناتی گاگر دی کہ بھوری گائے کا دودھ دوہ کر ایک پیالہ غٹاغٹ لبریز مسافر مہمان کےسامنے پیش کرے کہ کہیں بھوکا ہی اٹھ کر نہ چلا جائے۔ اب جو بیٹی دودھ دوہنے بیٹھی تو عالم ہی اور تھا وہیں سے آواز لگائی۔

بابا لگتا ہے ہمارے بادشاہ کی نیت میں فتور آ گیا۔ ’’بادشاہ سلامت جاگ ہی رہے تھے۔ فوراً اٹھ بیٹھے آخر کب تک اپنا آپ چھپاتے طیش میں آ گئے۔

پوچھا۔ ’’کیوں لڑکی تونے کیسے جانا؟‘‘

’’گائے کا دودھ جو سوکھ گیا!‘‘

بادشاہ کچھ شرمندگی کچھ غصہ کے مارے کانوں سرخ اور گرم ہو گئے۔

’’بادشاہ کی نیت اتنی بڑی شے ہے؟‘‘ وہ کہانی سنتے سنتے نانا سے پوچھنا چاہتی تھی مگر نانا سوال جواب کے موڈ میں کب ہوتے۔ کہانی کو اس موڑ پر پہنچا کر حقے کی نے منہ میں لئے چھوٹے چھوٹے کش لگاتے۔ گڑ گڑ گڑ نیچے میں پانی گڑ گڑاتا۔ اور تمباکو کی کوڑی بو گڑکی مٹھاس کے ساتھ مل کر ایک اداس کیفیت میں ڈھل جاتی۔ اور نانا نے کبھی یہ نہ بتایا کہ خراب نیت والے بادشاہ کا کیا ہوا اور گوالن اور اس کے باپ کو اس گستاخی کی کیا سزا ملی سب سے بڑھ کر اس رعیت کا کیا بنا جس کے بادشاہ کی نیت خراب ہو گئی تھی۔

اس وقت بھی اسے کالج جانے کی جلدی تھی۔ روٹی اس کے منہ میں بالکل لکڑی کے برادے کا مزہ دے رہی تھی۔ چائے کا ذائقہ تو ایک مدت سے فوت ہو چکا تھا۔ اس کو یاد آیا بڑی بوڑھیاں لڑکیوں کو چھپکلی مارنے سے ٹوکتی تھیں کہ جس ہاتھ یہ منحوس مرے اس کا ذائقہ جاتا رہتا ہے۔ ہوش و حواس میں تو اس نے کبھی چھپکلی پر ہاتھ اٹھایا نہ تھا پھر یہ ہر ایک شے بد ذائقہ کیوں کر ہو گئی۔ اناج، پھل، مشروب غرض رزق کاست اٹھ گیا تھا۔ اس کے ہاں بوا ایک سے ایک مغلئی کھانے پکانے والی، مگر دن بھر کی محنت کے بعد بھی وہ اپنے پکے پر افسوس کرتی۔ اناج تو اناج یہاں پانی تک اپنی خاصیت کھو بیٹا تھا۔ کبھی اس شہر کا پانی میٹھا پانی کہلاتا تھا۔ دور دراز کے لوگ اس پانی کے کیف و سرور اور تاثیر کی مثالیں دیا کرتے۔ یہ پانی پینے والا باوفا، بالحاظ ہوتا تھا۔ عام محاورہ تھا کہ یہاں کا پانی پینے کے بعد کہیں اور کا پانی منہ نہیں لگتا۔ مگر اب اسی پانی میں عجیب پھیکا پن بلکہ تلخی تھی۔

اس نے بیگ شانے سے لٹکایا اور بس اسٹاپ کی طرف چل دی۔ یقیناًہمارے بادشاہ کی نیت میں فتور آ گیا یہ پوری زندگی پر محیط بدمزگی اور احساس اور جذبوں کی خشک سالی اور رابطوں کی ناتوانی وہ بھی اپنے نانا کی سچی سچی نواسی تھی۔ سر میں ایک دھن سما گئی تو بس اسی میں اٹک کر رہ گئی۔ دوسری ہر بات بھلا دی۔ بادشاہ کو کیوں کر اطلاع دی جائے کہ اس کی نیت بدل چکی ہے۔ بیشتر اس کے کہ حالات بالکل ہی ہاتھ سے نکل جائیں۔ بس میں چڑھتے چڑھتے اس نے سوچا۔ اگلے وقتوں میں بادشاہ کتنی پراسرار اور ناقابل رسائی ہستی ہوتا تھا۔ برسوں گزر جاتے اور لوگ اپنے بادشاہ کی صورت سے واقف نہ ہوتے۔ بس سن رکھتے کہ بادشاہ ایسے ہیں اسی لئے وہ ظل الٰہی بھی تھے کہ کبھی نظر ہی نہ آتے تھے بس قریب قریب کے لوگ کبھی کبھی ان کی سواری کو دور سے دیکھ کر اندازہ کر لیتے ہوں گے کہ بادشاہ سلامت کا ناک نقشہ کیسا ہے اور یقیناًانہیں سب بادشاہ ایک سے لگتے ہوں گے دور سے سب صورتیں ایک ہی نظر آتی ہیں وہ لوگ بھیس بدل کر کیا اپنے اصل روپ میں بھی گلیوں کی گشت کر کے رعایا کا حال معلوم کر لیتے تھے۔ مگر آج کے بادشاہ کی مورت تو ہر گھر میں صبح شام سجی ہے۔ اخباروں میں رلتی پھرتی ہے۔ ردی میں بکتی ہے اس میں سودے بند کئے جاتے ہیں۔ طاقوں میں بچھائی جاتی ہے ردی میں بکتی ہے۔ غرض بادشاہ گھر گھر موجود پھر بھی کس قدر دور کہ ایک معمولی لڑکی اسے یہ تک نہیں بتا سکتی کہ اس کی نیت میں خلل آچکا ہے اور اسی لئے سلطنت پر تباہی پر پھیلائے ہولے ہولے بڑھتی چلی آتی ہے۔ بس کنڈکٹر نے حسب معمول پیسے لے کر ٹکٹ نہ دی تھی۔ رش اس قدر تھا کہ بمشکل سیڑھی پر قدم جمانے کی جگہ ملی تھی اور کنڈکٹر بے چارہ اس پرگرا پڑتا تھا کئی دفعہ اس کی ٹانگ اس کی ٹانگ میں الجھی۔ وہ گلے میں اٹکی ابکائی روکتی باہر دیکھتی رہی۔

بادشاہ ایک معمولی لڑکی کی اتنی معمولی بات کہاں سنے گے؟ اور پھر کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی کی نیت بدلے اور اسے اس کی خبر نہ ہو اس نے دیر تک سوچا۔ وہ بھی ایک ہی خبطی تھی۔ ہزار لوگوں سے ملی۔ افسران بالا سے رابطہ قائم کیا۔ دن دن بھر فون گھماتی رہی۔ خط لکھ لکھ کر انگلیاں گھسالیں ہر کوئی یہی سوال کرتا کس سلسلے میں ملاقات کرنا چاہتی ہیں اب وہ تقریب ملاقات کی توضیح کرتی تو اسے ہر گز باریابی نہ ہوتی ۔ آخر اتنی دنیا داری تو اس نے بھی سیکھ رکھی تھی۔ ’’ذاتی عرضداشت ہے‘‘ افسران کے کان کھڑے ہوئے۔ یقیناًکوئی مجرمانہ حملہ وغیرہ۔ چٹخارہ زبان پر آن رکا ۔ رگ سکنڈلیات پھڑکی، دیکھئے کن کن کے نام آتے ہیں۔ باریابی کی امید تو نہ تھی مگر باریابی ہوئی اسے بادشاہ سلامت کی شکل و صورت، گفتگو، چال ڈھال سبھی کچھ اچھا لگتا تھا اب جوان کے دل کی خرابی کا احتمال پیدا ہو گیا تھا وہ اندر ہی اندر بہت کڑھتی تھی۔

’’تشریف رکھئے۔‘‘ اس نے تشریف تو رکھ دی ذرا گلا صاف کیا۔

’’سربات یہ ہے کہ میں گوالن تو ہوں نہیں کہ گائیوں کے سوکھتے دودھ سے اندازہ کر لوں کہ بادشاہ کی نیت بدل گئی ہے۔ گودودھ تو اب مدتوں سے اس سرزمین کے بچوں کو نصیب نہیں۔ ہم خود اس کا ذائقہ بھول چکے ہیں۔ مگر عام کیفیات کو دیکھ کر اور ایام کی بدمزگی اور بیزاری سے بالآخر اسی نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے کہ آپ کی نیت میں خل آ چکا ہے اس لئے ہماری کھیتیاں سرسبز نہیں ہوتیں اور ہماری کانوں نے خزانے اگلنا بند کر دیا ہے۔ اور منوں روٹی کھا کر بھی جنتا کا پیٹ نہیں بھرتا۔ لوگ ایک دوسرے کے بیری ہو گئے ہیں۔ سر ایک آپ ذری اپنی نیت کی طرف متوجہ ہوں تو کروڑوں کے مقدر سنور جائیں۔‘‘

بادشاہ سلامت نے اس قدر تحمل دکھایا جس کی ان سے توقع نہ تھی۔ شاید اس لئے کہ کاندھے سے جھولا لٹکائے، آنکھوں پر دبیر شیشوں کا چشمہ چڑھائے، پریشان بالوں والی یہ لڑکی انہیں بہت ہی دیوانی اور بے بضاعت نظر آئی اور چیونٹی اگر راہ چلتی نظر آ جائے اور آپ کو کاٹنے کا ظرف نہ رکھتی ہو تو کون اسے کچلنے کی زحمت کرتا ہے وہ اپنی مخصوص پلیٹینم مسکراہٹ مسکرائے جب ان کی آنکھیں تک ہنسنے لگتی ہیں۔

’’بی بی۔۔۔میں تو نام کا بادشاہ ہوں میری نیت بدلنے نہ بدلنے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے ۔ اختیارات تو سارے وزیر با تدبیر کے پاس ہیں۔ ہاں ان کی نیت یقیناًاہمیت رکھتی ہے ذرا وہاں پتا کرو کیا احوال ہیں سارے انتظامات تو انہی کے ہیں اچھا خدا حافظ اور شکریہ۔‘‘

آخر میں غالباً وہ اپنی ہنسی چھپا رہے تھے۔

دیوانی لڑکی اپنی عینک سنبھالتی شاہی محل سے باہر آئی۔ اب نانا تو تھے نہیں جوان سے پوچھتی کہ کیا وزیر با تدبیر کی نیت کا بھی ملک پر اثر پڑتا ہے۔ مگر بات تو بادشاہ سلامت نے درست ہی کہی تھی کہ بھئی جس کے اختیارات نیت بھی اسی کی ، سب پر بھاری ہے۔ اب ایک نئی دوڑ دھوپ شروع ہوئی۔ وزیر با تدبیر سے ملاقات تو بادشاہ سے بھی مشکل تھی۔ وہ پکڑائی نہ دیتے تھے۔ ایک پاؤں وطن میں تو دوسرا باہر۔ ہفت اقلیم کی دوستی اور اس کے معاملات کی فکر غرض دوگونہ عذاب است جان مجنون را۔ مہینوں بلکہ سالوں ہی انتظار کرنا پڑا۔ پھر ذاتی عرضداشت کی تہمت اپنے ذمہ دھری اور امیدوار باریابی رہنے لگی۔ بے خوابی اور مسلسل اضطراب سے اس کا چہرہ بے رنگ ہو چکا تھا چلتے میں سر چکراتا۔ آس پاس کے لوگ دوست احباب سکھی سہیلیاں کچھ اور ہی کہتیں یہ جو دن رات ایوانوں کے چکر لگتے ہیں کسی مشکل جگہ پھنس گئی ہیں ۔ صاحبزادی بارے وزیر باتدبیر نے بھی عرضداشت کو شرف توجہ بخشا، طلبی ہوئی اس روز اس نے اپنے لباس کا خاص خیال رکھا۔ آخری آدمی اپنے لباس ہی سے تو پہچانا جاتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ جس روز وہ میک اپ نہ کرتی کسی بھی بس میں جگہ نہ ملتی۔ ٹیکسی والے، دکاندار دگنے چوگنے دام وصول کرتے۔ سڑک پہ چلتی چلی جاتی ،کوئی پلٹ کر نہ دیکھتا اور جو کوئی چھریری پشت سے دھوکہ کھاکر پلٹ کر چہرہ دیکھتا تواخ کہہ کر منہ پھیر لیتا۔ ’’مردیوا کتھوں آئے ہو!‘‘ کسی صاحب ذوق کا جملہ بھلائے نہ بھولتا ۔ غرض وہ اپنی تمام دنیاوی دانش کو بروئے کار لائی اور تک سک سے درست ملاقاتیوں کی قطار میں جا بیٹھی۔

وزیر با تدبیر کا دفتر کیا دفتر تھا۔ آنکھیں کھلی کھلی رہ جائیں۔ مگر وہ دیوانی اس بات پر خوش کہ یہ سب عظمت و حشمت اور نور و حضور رعایا کی بدولت ہے کتنا خوش نصیب وزیر، کیسی با نصیب رعایا جگ جگ جیو۔ مگر ایک آہنی ہاتھ نے دل دبوچ لیا۔ ان کی بھی نیت بدل گئی ورنہ یہ ایام پر چھائی بدمزگی بھری کھیتوں پر بھی بڑھتی نکلتی چوستی بھوک یہ آپس کا بیر اور وزیر با تدبیر کی کیا بات تھی کیا روشن اجلا چہرا، جگمگاتی ہیرا سی آنکھیں دیکھ کر کبھی کوئی شک کرنے کی بھی جرات نہ کرے کہ درون سینہ دل میں کوئی کھوٹ، سوچ میں کوئی کجی ہے ۔ وہ سرتا پا راستی ہی راستی نظر آتے تھے۔ بہر حال اس کا فرض حقیقت سے باخبر کرنا تھا۔

’’تشریف رکھیئے۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔‘‘ وزیر محترم کی مسکراہٹ بڑی تباہ کن تھی۔ اس کا دل گلے میں آن انکا۔

’’سربات یہ ہے کہ آپ ہی اس ملک کے کرتا دھرتا ہیں۔ قرآئن کہتے ہیں کہ آپ کی نیت صاف نہیں رہی۔ میں آپ کی توجہ اس نہایت سنگین صورت حال کی طرف کرانا چاہتی ہوں۔ ذرا مراقبہ کیجئے کہاں گڑ بڑ ہے۔ ذرا کھوج لگائیے ورنہ یہ خون خرابا ،یہ محبت و مروت کی موت ،یہ پیٹ اور نفس کی بھوک ،حق تلفی ،جان کی ارزانی اور جان، مال اور پھلوں کے نقصان سے آزمائش ہو رہی ہے تو اس کی کوئی وجہ تو ہوگی۔‘‘

’’خاتون میں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ آپ کی سوچ یقیناًگرانمایہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میں تو محض نظریات کی حفاظت کرنے والا ہوں منصوبہ بندی کرنے والا۔ کاغذات بھرنے والا۔ آپ ایسی ذہین خاتون کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں۔ اصل اختیارات تو ہمارے خازن کے پاس ہیں کہاں کتنا خرچ کرتے ہیں ، کس کو کیا دیتے ہیں، وہ جانیں اور ان کا کام۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم بھی ان کے محتاج ہیں۔ آپ ان سے رابطہ کریں اللہ بہتر کرے۔‘‘

آج اس پروز یرباتدبیر کی شعلہ بیانی کھلی۔ وہ چشمہ ناک پر جماتی، جھولا سنبھالتی ایوان سے باہر نکلی۔ اب نانا کو کہاں تلاش کریں۔ اکنوں کر ادماغ کی پر سد زباغباں، بلبل چہ گفت دگل چہ شنید و صباچہ کرو۔ نانا ہوتے تو بتاتے کے خزانچی کی نیت کا رعیت پر اثر ہووے کہ نا۔ اس کی نیت کی خرابی کھیتوں کو جلائے کنوؤں کو سکھائے اور جانوروں کوکھلائے کہ نہ۔ مگر لڑکی تھی دیوانی اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ پورے پورے نورتن الٹ پلٹ کر دئیے خازن بڑی بری مونچھوں والا، تصویروں میں تو ان کا طول و عرض کچھ بھی نہیں۔ زندہ دیکھو تو معلوم ہو کہ طول کسے کہتے ہیں اور عرض کیا ہوتا ہے۔

’’بی بی۔۔۔ خزانے تو کب سے خالی پڑے ہیں۔ یہ تو بس کاغذوں پر ہے جو کچھ ہے۔ بس یہ حساب کتاب کہ آنے والے سال میں اس سے کیا لیں گے اور اس سے کیا لیں گے۔ بھئی یہ بلڈی رعیت بھی بڑی شاطر ہو گئی ہے کہاں کچھ پلے ڈالتی ہے۔ سو ہمارے تو ہاتھ بندھے ہیں۔ رہی نیت کی بات تو اس کا حال خدا ہی جانتا ہے۔ یہ قحط یہ مار دھاڑ، کہیں ایک بے چارے خازن کی نیت سے ہو سکتا ہے۔ ہاں ایک بات پتہ کی بتاتا ہوں ہمارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں ڈور تو کہیں اور سے ہلتی ہے۔ سرحد پار سے اب یہ بڑ راز کی باتیں ہیں۔ آپ ایسوں کو کیا بتائیں۔ نیت کی بات کرتی ہیں تو ذرا اپنے یعنی رعایا کو اپنے گریبان میں بھی تو منہ ڈال کر۔۔۔

لڑکی تھی دیوانی مگر اتنی بھی نہیں کہ یہ نہ پہچانتی کہ اب وہ ایک ایسے چکر میں پڑتی ہے جس سے کوئی آج تک نہیں نکلا۔ وہ جھولا اٹھائے باہر نکلی۔ ناک پر عینک جمائی۔ سر پر شدید سورج اور زبان پر کڑوا ذائقہ تہہ در تہہ۔ اچانک دیکھا کہ پاؤں تلے زمین بھر بھری ہوتی جا رہی ہے۔ پھر دھیرے دھیرے اس کا خاکی رنگ سرخ ہونے لگا۔ ’’دلدل‘‘ وہ مارے خوف کے ساکت ہو گئی۔ اب چاروں سمت کچھ بھی نہ تھا۔ پاؤں سے لے کر مٹیالے آسمان کے کناروں تک پھیلی وہ سرخ دلدل ۔ ساور پاؤں کہ پنڈلیوں سے ہوتے گھٹنوں تک نیچے کھستے چلے جارے ہیں۔ بجھتے ذہن کے ساتھ بھی وہ یہی سوچتی رہی کہ نانا نے بھی حد کردی تمام عمر ادھوری کہانی سنایا کئے اور خود اس نے بھی حد کردی کہ کبھی پوری کہانی سننے کی ضد ہی نہ کی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: