غزل ۔۔۔ عدیم ہاشمی

غزل

( عدیم ہاشمی )


کس حوالے سے مجھے کس کا پتا یاد آیا
حسنِ کافر کو جو دیکھا تو خدا یاد آیا

ایک ٹوٹا ہوا پیمانِ وفا یاد آیا
یاد آیا بھی مجھے آج تو کیا یاد آیا

شام کے ہاتھ نے جس وقت لگا لی مہندی
مجھے اس وقت ترا رنگِ حنا یاد آیا

کہیں آنکھوں کی نمی راز نہ افشا کر دے
میں نے منہ پھیر لیا تو جو ذرا یاد آیا

سارے فن کار اٹھا لائے تھے شہکاروں کو
اور میں تھا مجھے انداز ترا یاد آیا

کتنی دنیا تھی مرے گرد تجھے کیا معلوم
بڑی مشکل سے مجھے تیرا پتا یاد آیا

تیرے دامن میں نمی اتنی زیادہ کیوں ہے
کون سا پھول تجھے بادِ صبا یاد آیا

جب کسی کو کوئی امید وفاؤں کی نہ تھی
مجھے اس پل ترا پیمانِ وفا یاد آیا

قدم اٹھتے تھے کہاں سوئے حرم اپنے عدیمؔ
آج مشکل نظر آئی تو خدا یاد آیا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: