ہم گنہ گار عورتیں ۔۔۔ کشور ناہید

ہم گناہ گار عورتیں

ہم گنہ گار عورتیں ہیں

جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں

نہ جان بیچیں

نہ سر جھکائیں

نہ ہاتھ جوڑیں

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں

کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ

وہ سرفراز ٹھہریں

نیابت امتیاز ٹھہریں

وہ داور اہل ساز ٹھہریں

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں

کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں

تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملے ہیں

ہر ایک دہلیز پہ سزاؤں کی داستانیں رکھی ملے ہیں

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملے ہیں

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں

کہ اب تعاقب میں رات بھی آئے

تو یہ آنکھیں نہیں بجھیں گی

کہ اب جو دیوار گر چکی ہے

اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا!

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں

جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں

نہ جان بیچیں

نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں!

Kishwar Naheed is a feminist Urdu poet from Pakistan. She has written several poetry books. She has also received awards including Sitara-e-Imtiaz for her literary contribution towards Urdu literature.

Read more from Kishwar Naheed

Read more Urdu Poetry

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: