بوڑھا پنواڑی ۔۔۔ مجید امجد

بوڑھا پنواڑی

( مجید امجد )


بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری
آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری
نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماری
آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری
پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری

عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری
چونا گھولتے چھالیاں کاٹتے کتھ پگھلاتے گزری
سگریٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری
کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری
چند کسیلی پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری

کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہیلی
دو دن ایک پھٹی چادر میں دکھ کی آندھی جھیلی
دو کڑوی سانسیں لیں دو چلموں کی راکھ انڈیلی
اور پھر اس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلی
پنواڑی کی ارتھی اٹھی بابا اللہ بیلی

صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہرائے
ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جائے
شام کو اس کا کمسن بالا بیٹھا پان لگائے
جھن جھن ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جائے
ایک پتنگا دیپک پر جل جائے دوسرا آئے

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: