ڈرپوک بارش ۔۔۔ مسعود قمر

ڈرپوک بارش

۔مسعود قمر

رات

بارش نے رحم کھا

میرے اندر

برسنا بند کر دیا

اسے میرے اندر

سوراخوں بھری چھت کی

مخبری ہو چکی تھی

میں نے

اپنے جسم کی فصل میں

کبھی بھی رحم اور خیرات کا بیج نپیں بویا

لہذا اب میں ایک ہاتھ میں

سوکھا جسم

اور دوسرے ہاتھ میں

سوراخوں بھری چھت لیے

بارش کو آسمانوں میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں

مگر بارش

سالی ڈرپوک بارش

کہیں نہیں مل رہی

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

April 2021
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: