محبت کی ریزگاری ۔۔۔ مسعود قمر

محبت کی ریزگاری

مسعود قمر

ہمارے حصے میں

زمین پہ پھینکی محبتوں کی وہ ریزگاری آئی

جسے لے کر ہم

پھولوں اور تابوت والی دکان پہ گئے

تو ہم نے خود کو

پھولوں سے بغیر تابوت میں پہلے ہی سے لیٹے پایا

احتجاجی بینر، بے روزگاری کا کارڈ

ان دیکھی فلم، اوپیرا تھیٹر کے ٹکٹ

ادھ پیے سگرٹوں کے ٹوٹے، ڈچ آرٹسٹوں کی پینٹنگ

گلاسوں میں بچی سرخ وائن

تحفے میں ملے سکارف پہنے

تابوت میں خود کو لیٹے ہوئے پایا

اور پھر ہمارے ہاتھ

محبتوں کی ریزگاری سے بھی خالی ہو گئے۔

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2021
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: