غلام گردشیں ۔۔۔ مصباح نوید

غلام گردشیں

مصباح نوید,

کُڑک مرغی کی مانند کَڑَک کُڑَک سے کیا حاصل؟؟ توانائی بحال رکھا کریں ،کیوں کراہتے رہتے ہیں؟ کس لیے کڑھتے رہتے ہیں ، اونہہ؟ اقدار، بھاڑ میں جائیں اخلاق کردار،۔۔۔بہتی گنگا میں اشنان نہ سہی وضو تو کر لیا کریں۔ اللہ رحیم کریم ،بخشنے والا ہے ،دوزخ کی آگ سے نجات تو مل ہی جائےگی، پاپی پیٹ کی آگ نہ بجھتی ،نہ بخشتی ہے۔۔ ۔۔۔روز جو دل میں درد اٹھتا ہے نا خوامخواہ! اس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا تو آپ کا کیا جائے گا ! بیوہ تو میں نے ہونا ہے، بچے میرے یتیم ہونے ہیں، ابھی چھوٹے ہیں اور کوئی آسرا ہوتا تو ۔۔۔”

“___تو ؟ پروفیسر ذ را سا بدکا اور عینک کے شیشوں کے اوپر سے پرانے رکشے کی مانند پھٹ پھٹ کرتی کمرے سے باہر نکلتی بیگم کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔

عیادت کے لیے آئے نو مولود پروفیسر محمود نے بمشکل مسکراہٹ اپنے ہونٹوں میں دبائی کہ کہیں چہرے پر طاری رقت دھل نہ جائے ۔ لفظ ‘اخلاق و کردار ” نے ایک منظر ذہن میں فلیش کیا، سامنے آتی ہوئی حجاب میں لپٹی بھاری بچھاڑی اور غباروں کی طرح پھولی ہوئی چھاتیوں کو دیکھ کر یونیورسٹی کی روش پر ساتھ چلتے ہوئے دوست نے ٹہوکا دے کر کہا تھا:” آہ ! کیا اخلاق و کردار ہے یار.

پروفیسر شاہ حسین کی بیوی پر تو جیسے آج ” پروفیسری ” کا نزول ہو رہا تھا، لفظ بنا رکے آسمان سے چھاتے تانے اتر رہےتھے اور پورے کمرے میں اچھل کود کرتے ہوئے شرارتی بچوں کی طرح پروفیسر کا منہ چڑا رہے تھے۔”یہاں سروائیو وہ ہی کرتا ہے جو دوجے کو ہڑپ کر جائے ، اپنے تن کی حرارت کے لیے دوسرے کو ایندھن بنا لے” ۔

محمود نے سرگوشیوں میں پروفیسر کی بیوی کے خیالات کو سراہا: “سر جی! خوش نصیب ہیں کہ ایسی آزاد خیال عورت آپ کو نصیب ہوئی ہے اجازتیں عطا ہو رہی ہیں تو جام اٹھا کیوں نہیں لیتے!” پروفیسر محمود کے چہرے پر ایک شرمندہ سی پسیجی ہوئی مسکراہٹ ہمیشہ چپکی رہتی تھی ۔ پروفیسر شاہ حسین نے اس مسکراہٹ کو چائے میں پڑی مکھی کی طرح نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولے: “بچا! پہلی بات تو یہ ہے کہ آزاد خیالی اور گندخیالی بڑا فرق ہوتا ہے ۔آپ جیسے نو بالغ لبرلوں نے سچ اور جھوٹ کو شیکر میں ڈال کر گھن چکریوں میں ڈال دیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ابھی آپ جناب ‘کاکا ” ہیں ،عورت کے دماغ کی وسعت اور پیچیدگی کو نہیں جانچ سکتے۔” پروفیسر نے سر ہلائے بغیر آنکھ سے دروازےکی طرف اشارہ کیا جدھر سے گزر کر بیگم چائے بنانے واسطے روانہ ہوئی تھی،

” اجازتیں سوچ سمجھ کر دی جارہی ہیں ، یہ ‘بی بی’ جانتی ہے کہ اب پروفیسر خالی “گلی باتی” جوگا رہ گیا ہے ۔”

حال ہی میں غوغا مچاتی پبلسٹی اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ محمود کی کتاب شائع ہوئی تھی ۔ کتاب میں خیالی اور کچھ حقیقی فتوحات کی مبالغہ آمیز تفصیلات درج تھیں ۔ فی زمانہ عورتوں کو قلعوں کی طرح فتح کیا جاتا ہے اور میڈل کی طرح سینے پر آویزاں کیا جاتا ہے۔کتاب کی واہ واہ فیس بک پر سمیٹی جا رہی تھی، تصویری ہو یا لفظی اعضا کی نمائش بھی تو ہنر ٹھہرا ہے۔

چار دانگ عالم اس کتاب کے مندرجات کا چرچا تھا ۔نوجوان کتاب ایسے پڑھتے جیسے چٹخارے دار پانی پوری کی پلیٹ چٹ کر رہے ہوں۔

پروفیسر کی آنکھیں بہتیرا دفع دور کہتی رہیں لیکن محمود خم ٹھوک کر بیٹھا ہی رہا کہ صرف عیادت ہی نہیں کچھ لگائی بجھائی بھی مقصود تھی اور کتاب پر ریویو بھی تو لکھوانا تھا ۔ کتاب دوست محمود کبھی پروفیسر کا لاڈلا شاگرد بھی رہا تھا ۔کتاب جو اس کی ان پڑھ ماں نے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے زندگی کی جھاڑ جھنکار کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا تھا۔ محمود کو کیا خبر تھی کہ زندگی سے ہاتھا پائی میں اسے انھی جھاڑ جھنکاروں سے ہم آہنگ ہونے پڑے گا ۔

یہ دانش گاہ بھی عجب طلسمات تھی، سرسوتی سامری کے سحر میں تن من کی سدھ بدھ گنوا بیٹھی تھی۔ راہداریوں میں غلام بوکھلائے ہوئے گردش کرتے تھے ،ان کے پیروں میں گھوڑوں کے سم ٹھوک دیے گئے تھے۔

یونی ورسٹی میں لیکچرار تعنیات ہوتے ہی محمود کا اس بچھڑے کا سا حال تھا جو منہ سے چھیکا اترتے ہی تھنوں پر بھرمار کردیتا ہے۔محمود شاید اس قدر ندیدہ نہ ہوتا اگر کجراری آنکھوں والی ایسی دنیاشناس نہ ہوتی ۔اسے دیکھتے ہی محمود کے دل میں ساون کی برسات لگ جاتی، اس کے سوکھے دل پر ٹپ ٹپ بوندیں گرتیں۔ لیکن کجرارے نین سوچا کیے:”اس پیار ومحبت میں کیا دھرا ہے ؟”پیار محبت کی کہانیاں کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ زندگی میں تو پیاز کی اہمیت پیار سے بڑھ کر ہے”

تو انتخاب اس کا کیا گیا جس کا مستقبل تابناک نظر آیا ۔ایک بار کا مرنا ہوتا تو سہہ بھی لیا جاتا ، لیکن ہر بار محمود بس لڑکی کا مقالہ ہی لکھتا رہ جاتا لڑکی ہاتھ کسی اور کا تھام لیتی ۔

یونی ورسٹی میں استاد مقرر ہوتے ہی سامنے خوان سے سج گئے۔ ہر خوان پر پروفیسر محمود زانوئے تلمذ تہ کرنے والیوں کے زانووں پر ٹکٹکی لگا کر دیکھتا رہتا اور سمجھتا کہ سلوک کی منزلیں طے ہونا شروع ہو چکیں۔ اسے کلاس میں قطار اندر قطار ببیٹھی طالبات بوفے ڈنر کی طرح دکھائی دیتیں ،پڑھانا کیا تھا ، بس پڑھتا ہی رہتا۔

پروفیسر شاہ حسین تلملایا پھرتا ، کیا کرتا ! اپنے پالے پوسے کیڑے مکوڑے بچھو جو بن بیٹھے تھے۔

بھرائی ہوئی آواز میں پروفیسر محمود اپنی منظور نظر ایم فل سکالر تہمینہ سے مخاطب تھا : ” روز جو پلندہ اٹھائے آجاتی ہو ۔۔..یہ کچرا! ۔بھئی میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں! اگر مدد کروں تو عوضانہ کیا دو گی؟ ۔۔ہفتہ بھر کے لیے چلتی ہو کاغان ناران ؟”۔ ہونٹ بھنچے ہی رہے تو پروفیسر محمود کے پھیلے نتھنوں سے “ہی ہی ہی” کی آواز پھڑکتی ہوئی نکلی ، “ھنی مون ۔۔۔ چندا! فرض کرنے میں کیا حرج ہے؟”

تہمینہ سوچتی رہ گئ ، سوچنے کو دھرا بھی کیا تھا ! کئی سال پہلے فقیر علی درویش ، شاعرانہ مزاج رکھنے والا کومل سا ویر! انہی راہداریوں کی نذر ہوا ۔پی ایچ ڈی کا تھیسسز سالوں کی محنت کے بعد مکمل ہوا تو وائیوا کے لیے آنے والا نجیب الطرفین ممتحن مقررہ تاریخ پر آنے کے بجائے معذرت بھیج دیتا ، شاہانہ ڈنر مع لوازمات اور مزدور باپ کا بیٹا ، کیسے توڑ نبھاتا! ۔ ایک دن باپ نے ہاتھ جوڑ دیے ، محنت مزدوری کرو ، کما کر کھاؤ۔قلم تھامنے والے ہاتھ تھے، اینٹیں ڈھوتے چھالے پڑ جاتے تھے۔ بند دروازوں سے سر ٹکراتے ٹکراتے فقیر علی جس کا تخلص درویش تھا اب عرف فقیرا بھی ہو گیا ۔کچھ کہتے ہیں مجذوب ہو گیا کچھ کا خیال ہے کہ دماغ الٹ گیا، کچھ تو ہوا!! ماں باپ گئے،گھر خالی ہوگیا، روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والی آنکھیں نہ رہیں تو فقیرے نے اپنی آنکھوں سے خواب نوچ کر کچرے کے ڈرم میں پھینکے اور پھر تھیا تھیا۔۔ا یہ ہی کلبلاتے ہوئے خواب چپکے سے چن کر تہمینہ نے اپنی آنکھوں میں سجا لیے تھے۔ لیکن اس کا جھلے کملے ہونے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں تھا ۔بڑے بھائی کی ماں سی بن گئ، اسے انگلی سے لگائے ساتھ لیے پھرتی ۔ تہمینہ نے سوچا:” سات دن ہی تو ہیں ،سات دنوں میں زمین آسمان تعمیر کیے جاسکتے ہیں تو ایک شاندار زندگی کیوں نہیں؟ ” غربت کے اولےٹھیکرے سہنے کا دم نہیں تھا, کڑوا ہی سہی گھونٹ بہ قائمی ہوش و حواس اور بلاجبر و کراہ غیرے بھر لیا گیا ۔

ہنی مون سے واپسی پر تہمینہ کی ٹور نئی نویکلی تھی۔ پنسل ہیل ،سیاہ گاگلز ،ذرا گہرے شیڈ کی

لپ اسٹک ،گال گلال کیے ،طمطراق سے یونیورسٹی کی روشوں پر ٹک ٹک چلتی . اس نے بڑی منصوبہ بندی سے بے احتیاطی کی تھی۔ مناسب وقفے سے روتے دھوتے پروفیسر شاہ حسین کے پاس پہنچ گئ: “آپ کے شاگرد نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا کال کرتی ہوں تو اٹینڈ نہیں کرتا

اب تو میرا نمبر ہی بلاک کر دیا ہے۔”

فیس بک کی لن ترانیاں ،اخباروں میں بے نام سی خبریں ،کچھ افوائیں ، دو چار دل جلے شاگردوں کے نعرے:” مودا ہائے ہائے” اور محمود پروفیسر شاہ حسین کے قدموں میں ڈھیر تھا ۔ نکاح کر کے تہمینہ کو گھر پھینکا اور پھر تہمینہ ہی کو ساتھ ملا کر شاگردوں کو آگے لگا کر ، باقی سٹاف کی ملی بھگت سے پروفیسر شاہ حسین کو بھی بڑی فنکاری گھر بٹھا دیا گیا ۔ سانپ نے بین اپنے ہاتھ میں لے لی اور جوگی کو سانپ کی پٹاری میں بند کر دیا ۔سبھی متفق تھے کہ پروفیسر شاہ حسین جیسوں کے زمانے اب لد گے انھیں تو اب اپنے گھر والے بھی برداشت نہیں کرتے ،کسی کھونٹی میں لٹکا دیتے ہیں ۔ ایسے نوادرات تو اب عجائب گھروں کی دیواروں پر سجے ہی وارا کھاتے ہیں ۔ تہمینہ نے بھی خالی نکاح کو کیا کرنا تھا ،منہ پھلائے رکھا کہ “میرے ساتھ کے اسسٹنٹ پروفیسر ،پروفیسر ہوگئے اور میں وہی لیکچرار کی لیکچرار اور زوجۂ محمود ۔۔۔تف ہے”،۔

پروفیسر محمود نے کتاب سے سر اٹھائے بغیر کہا :”میرے ساتھ کانفرنسوں سیمناروں میں جایا کرو تاکہ لوگوں کی نگاہ میں آؤ۔ ریفرنس ہی تو چلتے ہیں _” ہر ایک سے پروفیسر محمود اپنی زوجہ کا فخریہ تعارف کرواتا :” تہمینہ بہت محنتی استاد ہے، اور بہت اچھی ماں ۔مسلسل ایک ہی تعارف کی گردان سے چڑ کر ایک پروفیسر نے کہا کہ ‘محنتی ہونا تو قابل تعریف ہے لیکن ایک بہت ہی اچھی ماں ہونا تو صرف آپ کے بچوں کے لیے اہمیت رکھتا ہوگا ، طلبہ کے لیے نہیں ، بھئی! کچھ آرٹیکلز تو ہوں ،جو قومی بین الاقوامی جریدوں میں چھپے ہوں۔ ” قابلیت والے اکا دکا ہی ہیں ،وہ بھی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم تصویر کی طرح دیوار سے لگے ہوئے ، اب آرٹیکل کہاں سے آویں؟

بھائی جان فقیر علی درویش کے کچھ آرٹیکل تھے، کچھ شاگردوں کے ، کچھ مواد انٹر نیٹ سے ،کاپی پیسٹ اور مل ملا کر مقالہ لکھا جانے لگا_ درویش کی لکھی گئ کچھ کہانیوں میں معمولی رد و بدل کے بعد تہمینہ کی افسانہ نگاری کے بھی چرچے ہونے لگے۔

کچھ آزاد نظمیں بھی سرزد ہو گئیں۔ ہر کانفرنس میں بلائی جاتی, برانڈڈ سوٹ میں ملفوف، کچھ زلفیں سلیقے سے سے اوڑھے دوپٹے سے جھانکتی ہوئیں، رٹے گھوٹے چند پیراگراف بلا کی خود اعتمادی سے مائیک میں ادا کرتی ۔ بھائی جان فقیر علی درویش کی طرف دیکھ کر اکثر سوچتی :” فطانت ذہانت اور تخلیقی اپچ کے ساتھ کاش ذرا سے سمجھدار بھی ہوتے!جب چیزوں کے بجائے انسانوں کی سٹاک ایکسچینج قائم کر دی گئ ہو تو پھر بولیاں تو لگیں گی ، آدرشی اور اس قدر حساس ہونا پاگل ہونا ہی تو ہے۔” قریبی مارکیٹ میں گروسری کی خریداری کرتے ہوئے ماش کی دال کا پوچھا تو دکان دار بولا : میڈم کون سی چاہیے نمبر ون کہ نمبر دو؟ تہمینہ اچنبھے سے بولی : ” ہائیں! کیا دالیں بھی نمبر ون نمبر دو ہونے لگیں؟ کیا فرق ہے؟ “جواب ملا:” ذائقے کا فرق ہے جی! اور قیمت کا بھی۔”فقیرا جو مجسم دخل در نامعقولات تھا، سایہ بنا ساتھ ہی کھڑا تھا قہقہہ لگا کر بولا: “نمبر ایک کیا اور نمبر دو کیا ؟ کھانا اور خارج کرنا ہی تو ہے ،سواد کو گولی مارو”۔تہمینہ نے ناک چڑھا کر کہا : “بھائی جان ! چھی چھی کیسی گندی باتیں کرتے ہو!” فقیرا دھیرے سے بولا :” میں تو بس باتیں ہی کرتا ہوں” تہمینہ نے نظریں چرائیں تو نگاہ بھٹک کر سڑک پر گئ ۔ جہاں کتا ٹانگ اٹھائے بجلی کے کھمبے کے ساتھ لگا پیشاب کر رہا تھا اور پھر اپنی پھیلائی گندگی کی طرف نگاہ کیے بغیر سامنے سے کیٹ واک کرتی آتی ہوئی کتیا کی طرف لپک گیا ۔تہمینہ نے نظریں پھیرتے ہوئے خود پر لعن طعن کی ” ایسے مناظر مجھے ہی کیوں نظر آتے ہیں؟” گھر جا کر دو گھنٹے طہارت کے تمام آداب کا خیال رکھتے ہوئے غسل کیا ۔بھائی جان فقیرے کو والیم کی ایک کے بجائے دو ٹیبلٹ کھلادیں : “یہ سویا مرا ہی اچھا ہے مردود!” تہمینہ کی زبان تو “بھائی جان بھائی جان” کہتے نہ تھکتی تھی پر دماغ کی زبان مادری ہی تھی ،بات بے بات پر گالیاں بکتی ہوئی ۔نماز کے لمبے سجدوں میں خدا کے پاؤں دیر تک پکڑے رکھے:” اللہ میاں جی ! باقی سب خیر ہے بس مجھے پاگل نہ کرنا۔” خدا بے نیازی سے نما نما مسکراتا رہا۔

ساری خرابی اس پی ایچ ڈی کی تھیسسز کی تھی جو اردو کی نامور کلاسیک ادیبہ پر لکھنے کو ملا تھا۔اس کے فنی محاسن کیا لکھتی! ادیبہ کے ہندوانہ طور طریقے پڑھ کر توبہ توبہ ہی لکھتی رہتی۔اپنے نگران پروفیسر کو دکھاتی تو قہقہہ لگا کر اسے گدگدیاں کرتے ہوئے کہتا: “اوئے! کیا ہر وقت رونی سی شکل بنائے رکھتی ہو ! جو جی میں آئے لکھو، تھیسسز پر کس نے غور کرنا ہے۔ میرے ہوتے ہوئے تمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری نہ ملے تو بھئی ! پھر لعنت ہے مجھ پر۔”نگران پروفیسر کوئی ہماشما تو تھے نہیں ,بڑا نام تھا، مشہور نقاد تھے۔ “لیکن سوائے ‘“پُچ پُچ” کے اور آتا کیا ہے؟” یہ تہمینہ کو سمجھ نہیں آتا تھا۔۔”دفاں کر ! مجھے کیا !تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ! “۔بس ایک آندھی سی علوم و فضائل کی چلتی رہتی ۔گرد آلود ہوائیں بگولا بن کر رقص کرتیں ۔کرسیوں کی اٹاخ پٹاخ جاری رہتی ۔اس کھیل کا مزہ تو میوزک چئیر سے کہیں بڑھ کر ہے۔ فقیر علی درویش اکثر گھر سے غائب ہوجاتا تھا۔ اب کی بار تو کئی دن گزر گئے، نہیں پلٹا ۔ محمود اور درویش میں دکھ سکھ کا سنبندھ تھا ،ان کہی دوستی تھی ،ایک کی ہار کا سکھ، دوجے کی جیت کا غم، ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈالیں گھلے ملے رہتے ۔ اس کی غیر موجودگی سے پروفیسر محمود پریشان اور کچھ الجھا ہوا تھا ۔بار بار خود سے پوچھتا ۔۔”کہاں چلا گیا !” تہمینہ جلے پاؤں کی بلی کی طرح اندر باہر پھرتی : “جانے کہاں گے بھائی جان ! اتنے دن تو کبھی غائب نہیں رہے۔”۔پروفیسر محمود خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتا:” کہاں جائے گا کہاں جا سکتا ہے ,جہاں بھی جائے گا واپس اجائےگا،اگر ۔۔۔۔۔”

دل دھک سے رہ جاتا ۔شام گئے سامنے دروازے سے درویش آتا دکھائی دیا ۔ بےچینی بےقرار سی آگے بڑھتی ہے “کہاں چلے گے تھے بھائی جان !” مٹھاس کےبین السطور لفظ حلق پھاڑ کر چلاتے ہیں: ” کتا ،الو گدھا۔ ” ۔۔ان پیارے جانوروں نام بس بھائی جان کے لیے مخصوص تھے ورنہ پروفیسر “پُچ پُچ” کو تو من میں سؤر ہی بولتی کہ کوئی اور جانور ان کی شخصیت پر جچتا ہی نہیں ۔۔”اوہو !کیا قصہ لے بیٹھی ہو ” ، تہمینہ نے خود کو ٹوکا۔ پروفیسر محمود دھیمے سے کہ رہا تھا :”یار ! ایسے نہ جایا کرو۔،گئے کہاں تھے ؟ “۔فقیر علی درویش پھٹی آنکھوں سے بولا : “میڈی مہرو گم تھی گئی اے ،اوکوں گولیندا ودا پر نئیں مِلدی ۔۔( مہرو گم ہو گئی ہے ڈھونڈتا ہوں ،نہیں ملتی)”۔ یہ کہنے کے ساتھ ہی فقیر علی درویش دھاڑیں مار کر رونے لگا۔مہرو درویش کی بلی تھی ۔چند دن پہلے سڑک پر کار کے نیچے آکر کچلی گئ ۔تہمینہ نے بے جان لہولہان مہرو کو لان کے ایک کونے میں دبا دیا تھا ۔چھوٹی سی مٹی کی ڈھیری بنا کر اس کو گلاب کی پتیوں سے سجایا اور کچھ ٹہنیاں تراش کر قلمیں رتڑے لال گلابوں کی آس میں زمین میں دبا دیں ۔درویش سے تو اس سارے وقوعے کو بڑی ھنرمندی سے چھپا لیا گیا تھا کہ ،”بھائی جان خیر سے پہلے ہی آدھے پاگل ہیں کہیں رہی سہی کسر ہی نہ پوری ہوجائے.” پر جو منظر نظر ارہا تھا وہ تو قرین قیاس ہی نہیں تھا۔

تہمینہ بےبسی اور حیرانی سے دیکھتی رہ گئ ۔درویش پروفیسر محمود کے کندھے سے لگا ھڑک ھڑک رو رہا تھا، پرفیسر محمود کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ “ہائیں ! یہ دونوں ایک بلی کو رو رہے ہیں !!”

بیٹے کے پکارنے کی آواز سن کر دونوں کو وہیں محو ماتم چھوڑ کر اندر چلی گئ۔ _مہرو کیا گئی! گھر میں پرچھائیاں ہی رہ گئیں۔

ایک دو گھر چھوڑ کر ہمسائے ہی میں اجاڑ سا مکان تھا ۔جس کے بوگن ویلیا سے ڈھکے برامدے میں پروفیسر (ریٹائرڈ) شاہ حسین شطرنج کی بساط بچھائے بیٹھا تھا۔بادشاہ پیادوں ،فیلے کے گھیرے اور توپ کی زد میں تھا وزیر کی دوڑیں چاروں طرف تھیں۔ نارنجی ،شنگرفی پھولوں سے چھن کر آتی کرنیں فرش پر دیدہ زیب قالین کا نمونہ بنارہی تھیں ۔تپائی پر بنا پرچ کے پیالی رکھی تھی ،جس کے تلچھٹ میں گھونٹ بھر چائے تھی ۔شاہ حسین یکدم کھڑا ہو کر چلانے لگا :سانپ! سانپ ! دھوپ سینکتا مینڈک گڑبڑا کر کیاری کے گدلے پانی میں ڈبکی لگا گیا ۔شونکنے کی آواز سن کر پچھلے پیروں پر بیٹھی سیب کی قاش ٹونگتی گلہری پل بھر کے لیے پلٹ کر دیکھتی اور پھر سیب کو کترنے میں مصروف ہوجاتی ، جیسے اس کے لیے یہ معمول کی بات ہو۔ شاہ حسین پھر کرسی پر بیٹھ کر کہنیاں میز پر اور آنکھیں مہروں پر ٹکا لیتا ، دو شاخی زبان وقفے وقفے سے منہ سے نکل کر لہراتی ہے اور پھر یکدم…..

سانپ سانپ کی آوازیں دیواریں پھلانگ کر گھر میں گھس آتیں۔ آوازیں نئی تھیں نہ ہی اجنبی، پھر بھی ہر بار پکار سنتے ہی تہمینہ دھک سے رہ جاتی ، پھٹی ہوئی آنکھوں سے کھلے دروازے کو دیکھتی رہتی ، دروازہ جو بنا کسی آس کے کھلا رہتا تھا _

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

June 2024
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930